دریائے خنجراب سے دریائے سندھ تک (وقار کا سفرنامہ)
(محمد قاسم وقار سیالوی, فیصل آباد)
| زرخیز زمینیں دریاؤں کی مرہون منت ہوتی ہے۔ دریا پہاڑی علاقوں میں شور مچاتے جبکہ میدانی علاقوں میں نہایت خاموشی سے بہتے ہیں۔ ایسی ہی ایک داستان جو شاید قارئین کے علم میں نیا اضافہ ہو۔ |
|
|
خنجراب پاس کا وہ مقام جہاں سے دریائے خنجراب شروع ہوتا ہے |
|
گلگت بلتستان خنجراب پاس جاتے ہوئے یہ چھوٹا سا نالہ دریائے خنجراب کا نکتہ آغاز ہے۔ اس عظیم الشان گلیشیر سے بہنے والا یہ پانی برف پگھلنے سے شروع ہوتا ہے۔ سردیوں میں اس کا پانی کم اور گرمیوں میں زیادہ ہوجاتا ہے۔ یہی نالہ بہتے بہتے مختلف چشموں اور دیگر گلیشیر کے پانیوں کو ہمراہ ملاتا جاتا ہے اور دریائے ہنزہ میں ضم ہو کر نئے نام دریائے ہنزہ سے اگلا سفر شروع کر دیتا ہے۔
اس کا یہ سفر جاری رہتا اور پھر اس کو لینڈ سلائڈنگ کے نتیجہ میں بننے والی عظیم الشان عطا آباد جھیل خوش آمدید کہتی ہے۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ جیسے مسلسل اترائی اور پتھروں کے ساتھ ٹکرا ٹکرا کے شور مچاتے دریائے ہنزہ کو کچھ سکون مل جاتا ہے۔ عطا آباد جھیل کیا ایک چھوٹا سا سمندر کہنا بے جا نہ ہوگا۔جس میں اب چھوٹی کشتیوں کے ساتھ سو دوسو افراد کی گنجائش والی بڑی کشتیاں جن کو چھوٹے جہاز 🚢 کہا جا سکتا ہے۔ اب باقاعدہ ایک بندرگاہ قائم ہے، ٹریفک کے لیے سائڈوں پر لمبی لمبی سرنگیں بنی ہیں جن کا الگ سے ماحول ہے۔
عطا آباد جھیل میں آرام کرنے کے بعد دریائے ہنزہ پھر سے سفر شروع کرتا ہے راستے میں راکاپوشی اپنے گلیشیر کا پانی راکاپوشی نالہ کے ذریعے ہنزہ کو بڑھاوا دیتا ہے۔ دریائے ہنزہ سائڈوں سے آنے والے نالوں اور چھوٹی نہروں کو خوش دلی سے قبول کرتا ہے اور ہمراہ لیکر چلتا رہتا ہے۔ یوں یہ گلگت کے قریب سلطان آباد تک آ پہنچتا ہے۔
یہاں اس کی ملاقات ایک اور ساتھی دریائے گلگت کے ساتھ ہوتی ہے۔ چونکہ اب گلگت ضلع کی حدود شروع ہو جاتی ہے اور گلگت ایک عظیم تاریخ، کلچر، رہن سہن اور صوبائی دارالحکومت ہونے کی بدولت اپنا رعب جماتا ہے اور دریائے ہنزہ سر تسلیم خم کرکے اپنے آپ کو دریائے گلگت میں ضم کر دیتا ہے۔ اب گلا سفر دریائے گلگت اپنے نام سے جاری رکھتا ہے۔
لیکن یہ بڑا نام زیادہ دیر قائم نہیں رہتا کچھ سفر کے بعد ہی دنیا کا منفرد حیثیت رکھنے والا مقام تین عظیم پہاڑوں کا جنکشن آ جاتا ہے۔ جہاں اس دریائے گلگت کی ملاقات برصغیر میں اپنی ثقافت، بود و باش اور دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا امین مشہور زمانہ اندس ریور یعنی دریائے سندھ سے ہوتی ہے۔ اس ملاقات کے بعد دریائے گلگت بڑوں کے احترام میں خود کو دریائے سندھ کے حوالہ کر دیتا ہے۔
پھر دریائے سندھ اپنا طویل سفر شروع کرتا ہے اور پنجاب و سندھ سمیت متعدد علاقوں کو سیراب کرتا بحیرہ عرب میں اپنے آپ کو امر کر لیتا۔ جس کی اگلی کہانی پھر کبھی سہی۔ |
|