چین کی متحرک سفارت کاری

چین کی متحرک سفارت کاری
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

نئے سال 2026 کے آغاز پر عالمی منظرنامہ ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ کہیں جغرافیائی کشیدگیاں ہیں، کہیں معاشی بے یقینی اور کہیں عالمی نظم و نسق کے ڈھانچوں کو درپیش چیلنجز۔ ایسے ماحول میں کسی بڑی طاقت کی خارجہ پالیسی نہ صرف اس کے اپنے مفادات کی عکاس ہوتی ہے بلکہ عالمی امن، ترقی اور استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ 2026 کے ابتدائی ہفتوں میں چین کے صدر شی جن پھنگ کی متحرک دوطرفہ اور کثیرالجہتی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی توجہ حاصل کی ہے، جو اس امر کی علامت ہیں کہ چین بدلتی دنیا میں ایک مشترکہ مستقبل اور باہمی تعاون کے تصور کو عملی شکل دینے کے لیے سرگرم ہے۔

نئے سال کے موقع پر صدر شی جن پھنگ اور روسی صدر پوٹن کے درمیان خیرسگالی کے پیغامات کا تبادلہ ہوا۔ اس موقع پر صدر شی نے 2025 کا جائزہ لیتے ہوئے چین اور روس کے درمیان نئے دور کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی قریبی روابط کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی۔
5 جنوری کو جنوبی کوریا کے صدر لی جیے میونگ نے چین کا دورہ کیا، جو 2026 میں کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت کا پہلا دورہ تھا۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ چین اور جنوبی کوریا ہمسایہ اور دوست ممالک ہیں، جن کے تعلقات میں باقاعدہ رابطے اور قریبی تعاون کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔

اسی روز آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹین نے بھی چین کا دورہ کیا، جو 14 برس بعد کسی آئرش وزیراعظم کا پہلا دورہ تھا۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے دیرینہ اور مستحکم تعلقات کے تجربات کو سراہا گیا اور سیاسی اعتماد، اسٹریٹجک رابطوں اور عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا گیا، جس سے چین اور یورپی یونین کے تعلقات کو بھی تقویت ملنے کی توقع ہے۔

اسی تسلسل میں فن لینڈ کے وزیراعظم پیٹری آرپو کے حالیہ دورۂ چین کو بھی دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ 16 جنوری کو کینیڈا کے وزیراعظم مائیک کارنی نے چین کا دورہ کیا، جو آٹھ برس بعد کسی کینیڈین وزیراعظم کا پہلا دورہ تھا۔ اس موقع پر دوطرفہ تعلقات کو مستحکم اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی گئیں۔

چین کی نئے سال کی سفارت کاری میں گلوبل ساؤتھ کے ساتھ یکجہتی بھی نمایاں رہی۔ چین اور افریقہ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 70 برس مکمل ہونے پر عوامی تبادلوں کے سال کے آغاز کی تقریب کے لیے صدر شی کا تہنیتی پیغام اس بات کا مظہر تھا کہ چین ترقی پذیر دنیا کے ساتھ شراکت داری کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے چینی وزیر خارجہ کا سال کا پہلا غیر ملکی دورہ بھی افریقہ ہی رہا، جو مسلسل 36 برس سے جاری ایک سفارتی روایت ہے۔

لاطینی امریکہ کے تناظر میں برازیل کے صدر لوئیز لولا ڈا سلوا کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں صدر شی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چین خطے کے ممالک کے لیے ایک قابلِ اعتماد دوست اور شراکت دار بنا رہے گا اور مشترکہ مستقبل کے تصور کو آگے بڑھایا جائے گا۔

اقتصادی اور تجارتی میدان میں بھی ان سفارتی روابط کے نمایاں نتائج سامنے آئے۔ جنوبی کوریا کے دورے کے دوران سائنس و ٹیکنالوجی، ماحولیات، ٹرانسپورٹ اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں 15 معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ آئرلینڈ اور کینیڈا کے ساتھ بھی تجارت، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور توانائی جیسے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ فن لینڈ کے ساتھ تجارتی مواقع بڑھانے کی توقع ظاہر کی گئی۔

عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینا بھی چین کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون رہا۔ روس کے ساتھ تعلیم کے مشترکہ سالوں کا اعلان، جنوبی کوریا کے ساتھ نوجوانوں، میڈیا اور مقامی حکومتوں کے درمیان تبادلوں پر زور، آئرلینڈ کے طلبہ کو چین آنے کی دعوت اور امریکہ کے نوجوانوں کے ساتھ تعلیمی روابط کی حوصلہ افزائی اس بات کی علامت ہے کہ چین ریاستی تعلقات کے ساتھ ساتھ عوامی روابط کو بھی دیرپا دوستی کی بنیاد سمجھتا ہے۔

کثیرالجہتی کے حوالے سے صدر شی نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی مسائل کا حل باہمی احترام، بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پاسداری میں مضمر ہے۔ ان کے مطابق تقسیم، محاذ آرائی اور زیرو سم گیم کی ذہنیت کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ تعاون اور یکجہتی ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

2026 کے آغاز میں چین کی متحرک سفارت کاری اس امر کی واضح مثال ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں بھی تعاون، مکالمہ اور کثیرالجہتی ہی پائیدار امن اور ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ صدر شی جن پھنگ کی قیادت میں چین نے نہ صرف بڑے ممالک بلکہ ترقی پذیر دنیا کے ساتھ بھی شراکت داری کو فروغ دیتے ہوئے ایک ایسے عالمی نظم کی وکالت کی ہے جو مشترکہ مفاد، باہمی احترام اور مشترکہ مستقبل پر قائم ہو۔ ایسے وقت میں جب دنیا کو استحکام اور سمت درکار ہے، چین کی یہ سفارتی حکمتِ عملی عالمی برادری کے لیے امید، تعاون اور مثبت پیش رفت کا پیغام دیتی ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1092768 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More