جب کھلے گٹر انصاف نگل جائیں

جب کھلے گٹر انصاف نگل جائیں

میرے پیارے اللہ میاں مودبانہ گزارش ہے کہ میں پاکستان کا شہری ہوں محنت مزدوری میرا پیشہ ہے
دن رات محنت کرتا ہوں رزق حلال میری اولین ترجیحات میں پہلی ترجیح ہے ۔
میری گلی محلوں کے گٹروں کے ڈھکن پینے کے صاف پانی کے فلٹر پلانٹ بجلی کے کھمبے ناجانے کہاں غائب ہوگئے ۔
سیوریج کے نالے گٹر اور ننگ دھڑنگ بہتی گندی نالیاں آۓ روز خراج کی وصولی میں مشغول ہیں ۔
گلی محلوں میں کھیلتے پھولوں جیسے بچے آۓ روز بدیانت اور غبن کرنے والے ٹھیکیداروں کی سرکاری اور غیر سرکاری کنٹریکٹرز کی چوریوں کی نذر ہو جاتے ہیں ۔
جب میرا کوئی بچہ کسی گٹر نالی سیوریج کے گندے اور ننگے نظام میں گرجاتا ہے تو تیرے معتبر لوگ ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا پر بیٹھ کر خوب ویوز اور جے جے کار سمیٹتے ہیں ۔
لیکن گٹروں کے ڈھکن لگانا اور کھلے سیوریج نالوں پہ حفاظتی انتظامات کرنا پھر بھول جاتے ہیں ۔
اللہ میاں کبھی نیچے آکر میرے محلے میں دیکھ ۔
تو وہاں بیٹھ کر بھی سب کچھ دیکھ سکتا ہے ۔لیکن میں چاہتاہوں تو نیچے اتر میری گلیوں میں آ۔
میں تیرا ہاتھ پکڑ کر وہاں لے جاؤں جہاں کسی غریب محلے کے حصے کاواٹر فلٹر پلانٹ کسی سیاسی دلال کے گھر کے پاس لگا دیا گیا میں تجھے اس بجلی کے کھمبے کے پاس لے جاؤں جہاں سینکڑوں بجلی کے میٹر ایک پول پہ لگادیے گئے اور باقی کھمبے تیری زمین کھاگئی یا تیرا آسمان ۔
کچھ گلیوں میں پتخہ سڑک توڑ کر ٹف ٹائل لگادی گئی اور کہیں گٹروں کے ڈھکن تک نہ پہنچ سکے ۔
میرے اللہ میاں سب کہتے ہیں کہ ہم تیرے بہت قریب اور بہت چنے گئے مذہب کے پیروکار ہیں۔ ہم مسلمان ہیں لیکن ہم بھٹک چکے ہیں ۔
تو نیچے اتر میرے اللہ اور دیکھ جنھیں ہم کافر اور تیرے دشمن کہتے ہیں۔ ان کی گلیاں شہر رہن سہن ان کا انصاف قانون انسانیت دیکھ ۔
دیکھ کس طرح اگر کوئی کتا بھی سیلاب میں پھنس جاے تو کس طرح ہوائی مدد سے اسے ریسکیو کرلیاجاتا ہے ۔
وہ کافر جب کہیں عوامی مقام پہ توڑ پھوڑ یا تعمیر کرتے ہیں تو ان کے حفاظتی اقدامات دیکھ ۔
دیکھ وہ کس طرح پلازوں اور بلند و بالا عمارات میں لگی آگ کو ڈرونز کی مدد سے بجھاتے ہیں ۔
کس طرح جب وہ سیوریج یا مین ہول کی مرمت یا عوامی مقامات پر تعمیرات کرتے یا گڑھے کھودتے ہیں تو آٹھ سے دس فٹ کے ایریا کو نہ صرف خالی کرواتے ہیں بلکہ سخت لوہے کی حفاظتی باڑ لگاتے ہیں ۔
رات کو ریفلیکٹر اور واضح علامات لگاتے ہیں کہ کام ہورہا ہے ۔
گلاسکو اسکارٹ لینڈ میں دس سال کا شیاریان جب گٹر میں گرکر جان کی بازی ہارگیا تو پھر ادارے حرکت میں آۓ فیٹل ایکسیڈنٹ رپورٹ مرتب ہوئی حکومت نے تسلیم کیا کہ حادثہ روکا جاسکتا تھا زمہ داران نے غفلت لاپرواہی ہوجانا تسلیم کیا کمپنی کو ملینز آف ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑا کمپنی کا کنٹریکٹ ختم کرکے بلیک لسٹ کردیا گیا ۔
اور میرے محلے میں پورا خاندان سیلاب میں مدد مدد پکارتا بہہ گیا تھا مگر امداد نہ پہنچ سکی ۔
دیکھ کس طرح کراچی پلازے میں آگ لگی اور کتنے خاندان جھلس گئے مگر موثر ریسکیو آپریشن نہ کیا جاسکا ۔
تین سالہ ابراہیم گلشن اقبال میں گٹر میں جاگرا اور پندرہ گھنٹے بعد اس کے والدین کو اس کی لاش تھما دی گئی ۔
کہروڑپکا میں سات سالہ ریحان گٹر میں گرکر شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔
کراچی میں گوٹھ نوشاہ محلہ کا تین سالہ عبدالرلحمان گٹر میں جا گرا اور اللہ کو پیارا ہوگیا کئی دن تک اس کا خاندان احتجاج کرتا رہا لیکن سب بے سود ۔
کراچی کورنگی مہرٹاون کا آٹھ سالہ دلبر گٹر کی نذر ہوکر جان کی بازی ہار گیا ۔
چھ سال کا ابیان گلشن اقبال کراچی گلی میں کھیلتا کھلے مین ہول میں جا گرا اور جان کی بازی ہار گیا ۔
اگرصرف کراچی کے سیوریج حادثات کاذکرکریں تو اب تک 24 حادثات رجسٹر ہوۓ جن میں 19 بالغ افراد اور پانچ بچے شامل ہیں ۔
لاہور میں ایک معصوم بچی والدہ سمیت سیوریج کے کھلے زیر تعمیر گٹر میں جاگری اور گھنٹوں نکالی نہ جاسکی۔
لاہور ہی میں شاہدرہ کا ایک موٹر سائیکل سوار دوران بارش کھلے گٹر گر کر شدید زخمی ہوا۔

یہ ایک طویل فہرست ہے جس میں ندی نالوں گٹر سیوریج نالے اور کھلے مین ہولز کی ہولناک داستانیں رقم ہیں ۔
میرے اللہ کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں ۔ بس تو نیچے اتر میرے محلے میں آ یا اپنا سفیر مقرر کر ورنہ تیرے قریب سمجھے جانے والے انسانوں کی انسانیت بھی کسی گٹر میں جا گرے گی اور ہم منہ دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔بس تو نیچے آ۔
تحریر باباجیونا

 

بابا جیونا
About the Author: بابا جیونا Read More Articles by بابا جیونا: 3 Articles with 427 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.