عنوان: استقبالِ رمضان — رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا مقدس موسم رمضان المبارک اس


رمضان المبارک اسلامی سال کا وہ بابرکت اور مقدس مہینہ ہے جس کا انتظار ہر صاحبِ ایمان دل کی گہرائیوں سے کرتا ہے۔ یہ صرف ایک مہینہ نہیں بلکہ روحانی تربیت، اخلاقی تطہیر، صبر و برداشت، ہمدردی اور قربِ الٰہی حاصل کرنے کا جامع نظام ہے۔ جیسے ہی شعبان کی آخری ساعتیں ختم ہونے لگتی ہیں، اہلِ ایمان کے دلوں میں ایک عجیب سی کیفیت جنم لیتی ہے—خوشی بھی، شوق بھی، اور ایک مقدس ذمہ داری کا احساس بھی۔ استقبالِ رمضان دراصل اسی شعوری بیداری کا نام ہے کہ انسان اس عظیم مہینے کو محض رسم کے طور پر نہیں بلکہ اپنی زندگی بدلنے کے موقع کے طور پر خوش آمدید کہے۔
رمضان کا پہلا پیغام رحمت ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں۔ گویا انسان کو برائی سے بچنے اور نیکی اپنانے کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کر دیا جاتا ہے۔ استقبالِ رمضان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس رحمت کے نزول سے پہلے ہی اپنے دلوں کو کینہ، حسد، بغض اور نفرت سے پاک کریں تاکہ جب رحمت برسے تو ہمارا باطن اسے قبول کرنے کے قابل ہو۔
رمضان صبر کا مہینہ ہے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ خواہشات پر قابو پانے کی عملی مشق ہے۔ انسان جب دن بھر حلال چیزوں سے بھی خود کو روکے رکھتا ہے تو اس کے اندر تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ استقبالِ رمضان کا صحیح انداز یہی ہے کہ ہم پہلے سے اپنے معمولات کو منظم کریں—زبان کو جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے بچانے کی مشق شروع کریں، نگاہوں کی حفاظت کریں، اور دل کو گناہوں کی آلودگی سے صاف کریں۔ کیونکہ جس دل میں گناہوں کی کثافت ہو وہاں عبادت کی لذت کم محسوس ہوتی ہے۔
یہ مہینہ قرآن سے تعلق جوڑنے کا مہینہ بھی ہے۔ اسی مہینے میں قرآن نازل ہوا، اسی لیے رمضان اور قرآن کا تعلق لازم و ملزوم ہے۔ استقبالِ رمضان کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہم تلاوتِ قرآن کا باقاعدہ معمول بنائیں۔ صرف تلاوت ہی نہیں بلکہ سمجھ کر پڑھنا، اس پر غور کرنا اور اپنی زندگی میں نافذ کرنا اصل مقصد ہے۔ جب قرآن دل میں اترتا ہے تو کردار بدلتا ہے، رویے بدلتے ہیں، اور معاشرہ سنورنے لگتا ہے۔
رمضان ہمدردی اور مواخات کا عملی درس دیتا ہے۔ جب ایک صاحبِ استطاعت انسان بھوک اور پیاس کی شدت محسوس کرتا ہے تو اسے معاشرے کے غریب اور محروم طبقات کا احساس ہوتا ہے۔ یہی احساس اسے صدقہ و خیرات، زکوٰۃ اور فطرانہ ادا کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ استقبالِ رمضان کا تقاضا ہے کہ ہم پہلے ہی اپنے اردگرد موجود ضرورت مند افراد کی فہرست بنائیں، ان کی مدد کا منصوبہ بنائیں اور اس مہینے کو سماجی فلاح کا ذریعہ بنائیں۔ یاد رکھیے، بھوکے کو کھانا کھلانا اور ضرورت مند کی حاجت پوری کرنا بھی عبادت ہے۔
یہ مہینہ مغفرت کا مہینہ ہے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو سال بھر گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں مگر رمضان آتے ہی ان کے دل نرم ہو جاتے ہیں، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور وہ سچے دل سے توبہ کرتے ہیں۔ استقبالِ رمضان کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم اس کے آغاز سے پہلے ہی اپنے رب کے حضور جھک جائیں، اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور آئندہ نیکی کی راہ اپنانے کا عزم کریں۔ جو شخص رمضان پا کر بھی مغفرت حاصل نہ کر سکے، اس سے بڑا محروم کون ہو سکتا ہے؟
رمضان عبادات کی بہار لے کر آتا ہے۔ فرض روزوں کے ساتھ ساتھ تراویح، تہجد، نوافل، ذکر و اذکار—ہر عبادت کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس لیے استقبالِ رمضان میں عملی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ ہمیں اپنی مصروفیات کو اس طرح ترتیب دینا چاہیے کہ عبادت کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت میسر آ سکے۔ سحری کے وقت بیداری، فجر کی پابندی، دن میں تلاوت، عصر کے بعد ذکر، افطار کے وقت دعا اور رات کو قیام—یہ سب رمضان کی روح ہیں۔
افطار بھی رمضان کا خوبصورت پہلو ہے مگر افسوس کہ ہم نے اسے نمود و نمائش اور اسراف کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ استقبالِ رمضان کا تقاضا سادگی ہے، شکر گزاری ہے۔ افطار دسترخوان جتنا سادہ ہو گا اتنی ہی برکت زیادہ ہو گی۔ اصل خوشی پیٹ بھرنے میں نہیں بلکہ روزہ مکمل کرنے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔
رمضان خود احتسابی کا مہینہ ہے۔ یہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی گزشتہ زندگی کا جائزہ لیں—ہم نے کیا کھویا، کیا پایا، کہاں غلطی کی، کہاں بہتری کی ضرورت ہے۔ استقبالِ رمضان دراصل اسی احتسابی عمل کا آغاز ہے۔ جو شخص رمضان میں خود کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتا وہ اس مہینے کی اصل روح سے محروم رہتا ہے۔
معاشرتی سطح پر بھی رمضان اصلاح کا پیغام دیتا ہے۔ مساجد آباد ہو جاتی ہیں، دل قریب آ جاتے ہیں، رشتوں میں نرمی آتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خاندانی جھگڑوں کو ختم کریں، ناراضگیوں کو مٹائیں اور معافی کو عام کریں۔ کیا ہی خوبصورت استقبال ہو کہ رمضان کا چاند طلوع ہو اور ہمارے دل کینوں سے پاک ہوں۔
استقبالِ رمضان میں ایک اہم پہلو نیت کی درستگی ہے۔ اگر نیت صرف رسم نبھانے کی ہو تو بھوک پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، لیکن اگر نیت اصلاحِ نفس، قربِ الٰہی اور رضائے رب ہو تو یہی روزہ انسان کو روحانی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔
آخر میں یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ ہمیں معلوم نہیں یہ ہمارا آخری رمضان ہو یا نہیں۔ کتنے ہی لوگ پچھلے رمضان ہمارے ساتھ تھے مگر آج دنیا میں نہیں۔ اس احساس کے ساتھ جب ہم رمضان کا استقبال کرتے ہیں تو ہماری عبادت میں اخلاص بڑھ جاتا ہے، آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے اور دل عاجزی سے بھر جاتا ہے۔
آئیے ہم سب مل کر اس رمضان کا استقبال صرف خوشی سے نہیں بلکہ تیاری سے کریں—دل کی صفائی سے، نیت کی درستگی سے، عبادت کے شوق سے، خدمتِ خلق کے جذبے سے اور توبہ کے آنسوؤں سے۔ اگر ہم نے اس مہینے کی قدر کر لی تو یہی رمضان ہماری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے، ہمارے گناہ معاف کرا سکتا ہے اور ہمیں اللہ کا مقرب بنا سکتا ہے۔
رمضان آئے تو یوں آئے کہ ہمارے باطن کو بدل دے—اور ہم اس کے بعد وہ نہ رہیں جو پہلے تھے۔
Sardar Muhammad Shoaib Saifi
About the Author: Sardar Muhammad Shoaib Saifi Read More Articles by Sardar Muhammad Shoaib Saifi: 25 Articles with 5161 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.