سیاست سے بلند انسانیت
(Sardar Muhammad Shoaib Saifi, Islamabad)
|
اختلاف اپنی جگہ، مگر بیماری پر ریاستی ذمہ داری اور سیاسی رواداری کا تقاضا پاکستان کی سیاست اپنی سخت بیانی، الزام تراشی اور انتقامی رویّوں کے باعث ایک طویل عرصے سے تنقید کی زد میں رہی ہے۔ یہاں سیاسی اختلاف اکثر ذاتی دشمنی میں ڈھل جاتا ہے اور نظریاتی فاصلے انسانی فاصلے بننے لگتے ہیں۔ حالانکہ جمہوریت کا حسن اختلاف میں ہے، دشمنی میں نہیں۔ کچھ مواقع ایسے ہوتے ہیں جب سیاست کو پسِ پشت ڈال کر انسانیت کو مقدم رکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ آج کا لمحہ بھی ایسا ہی ایک اخلاقی اور سیاسی امتحان لے کر سامنے آیا ہے۔ جب عمران خان کی بیماری اور صحت سے متعلق خبریں زیرِ گردش آتی ہیں تو یہ معاملہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا۔ وہ اس ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ایک بڑی اور مؤثر سیاسی جماعت کے قائد ہیں، اور کروڑوں پاکستانی اُن سے سیاسی و جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ اُن کی صحت محض ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی حساسیت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے میں ریاست اور حکومت کی ذمہ داری محض قانونی نہیں بلکہ اخلاقی بھی بن جاتی ہے۔ یہ موقع ہمیں ماضی کی ایک مثبت روایت بھی یاد دلاتا ہے۔ جب بیگم کلثوم نواز شدید علیل تھیں اور بیرونِ ملک زیرِ علاج تھیں تو شدید سیاسی اختلاف کے باوجود عمران خان نے اُن کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، پھول بھجوائے اور اپنی جماعت کے اُن عناصر کی مذمت بھی کی جنہوں نے بیماری جیسے حساس معاملے پر نامناسب گفتگو کی۔ یہ عمل بظاہر چھوٹا سہی مگر سیاسی اخلاقیات کے اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ اس نے یہ پیغام دیا کہ سیاست اپنی جگہ مگر انسانیت اپنی جگہ۔ بعد ازاں حالات کا رخ بدلا۔ جب نواز شریف کی بیماری اور علاج کا معاملہ سامنے آیا تو عمران خان کے بعض بیانات کو سیاسی شائستگی کے معیار پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ حقیقت ہے کہ اقتدار کی سیاست میں زبان اکثر سخت ہو جاتی ہے اور مخالفین کے لیے گنجائش کم رہ جاتی ہے، مگر تاریخ ہمیشہ رہنماؤں کو اُن کے بہترین اخلاقی رویّوں سے یاد رکھتی ہے، نہ کہ وقتی سیاسی جملوں سے۔ آج اگر حالات نے پلٹا کھایا ہے اور عمران خان خود طبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں تو یہ حکومتِ وقت کے لیے ایک سنہری موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ خاص طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے لیے یہ لمحہ سیاسی بلوغت کے اظہار کا ہے۔ اگر وہ اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرتی ہے تو یہ اقدام سیاسی کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی برتری سمجھا جائے گا۔ ریاست کی ذمہ داری ماں جیسی ہوتی ہے۔ ماں اپنے تمام بچوں کا خیال رکھتی ہے — چاہے وہ اُس سے اختلاف ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔ اگر ایک سابق وزیراعظم کو مناسب طبی سہولیات میسر نہ ہوں تو یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ ریاستی وقار، آئینی ذمہ داری اور انسانی حقوق کا سوال بن جاتا ہے۔ مہذب جمہوریتوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو وہاں سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی بنیادی انسانی تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ بیماری، قید، بڑھاپا یا معذوری — یہ وہ معاملات ہیں جہاں سیاست پیچھے ہٹ جاتی ہے اور انسانیت آگے آ جاتی ہے۔ یہی رویّے قوموں کو بڑا اور نظاموں کو مضبوط بناتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام اپنے رہنماؤں کے سیاسی نعروں سے زیادہ اُن کے اخلاقی فیصلوں کو یاد رکھتے ہیں۔ اگر آج حکومت فراخ دلی دکھاتی ہے تو یہ عمل صرف ایک فرد کو طبی سہولت دینے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سیاسی درجۂ حرارت کم کرنے، مکالمے کی فضا بحال کرنے اور انتقامی سیاست کے تاثر کو زائل کرنے میں مدد دے گا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بیماری کسی جماعت، نظریے یا ووٹر کو نہیں دیکھتی۔ وہ صرف انسان کو لاحق ہوتی ہے۔ اسی لیے اُس کا علاج بھی انسان سمجھ کر ہی کیا جانا چاہیے، مخالف سمجھ کر نہیں۔ اگر صحت جیسے معاملے میں بھی سیاسی تفریق داخل ہو جائے تو معاشرے عدم برداشت کی اُس نہج پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ یہ لمحہ دراصل سیاسی قیادت کے ظرف کا امتحان ہے۔ کیا ہم ماضی کی تلخیوں کو دہراتے رہیں گے؟ یا کوئی نئی، مثبت اور مہذب روایت قائم کریں گے؟ عمران خان نے کلثوم نواز کے معاملے میں جس ہمدردی کا اظہار کیا تھا، اُسے بنیاد بنا کر آج ایک بہتر سیاسی روایت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اقتدار عارضی ہوتا ہے۔ آج کوئی حکومت میں ہے، کل اپوزیشن میں ہوگا۔ آج جو سلوک آپ اپنے مخالف کے ساتھ کرتے ہیں، کل وہی روایت آپ کے اپنے لیے مثال بن جاتی ہے۔ اسی لیے بڑے رہنما انتقام نہیں بلکہ برداشت کی سیاست کرتے ہیں۔ پاکستان کو اس وقت جس سیاست کی ضرورت ہے وہ نفرت نہیں، رواداری کی سیاست ہے؛ تضحیک نہیں، وقار کی سیاست ہے؛ اور سب سے بڑھ کر انسانیت کی سیاست ہے۔ اگر ہم بیماری جیسے معاملے پر بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے باز نہ آئے تو پھر اخلاقی زوال کی حدیں مزید دھندلا جائیں گی۔ وقت کا تقاضا واضح ہے: اختلاف برقرار رہ سکتا ہے، سیاست جاری رہ سکتی ہے، تنقید بھی ہو سکتی ہے — مگر بیماری پر ہمدردی لازم ہونی چاہیے۔ اگر آج انسانیت کو سیاست سے بلند رکھا گیا تو یہی فیصلہ کل پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک مہذب مثال کے طور پر لکھا جائے گا۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو یہ موقع بھی ماضی کی تلخیوں کی طرح تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جائے گا۔ آخرکار تاریخ عہدوں کو نہیں، ظرف کو یاد رکھتی ہے۔ اور بڑے ظرف والے ہی بڑے رہنما کہلاتے ہیں۔ |
|