وہ سوال جہاں سائنس خاموش ہو جاتی ہے
(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
میکس پلانک، “ نے کہا تھامادّہ دراصل ایک ایسی طاقت سے وجود میں آتا ہے جو ایٹم کے ذرات کو باندھے رکھتی ہے۔ ہمیں اس طاقت کے پیچھے کسی شعوری ذہن کو فرض کرنا پڑتا ہے۔”
|
|
|
کائنات کو اگر محض طبیعی قوانین کا مجموعہ سمجھا جائے تو یہ ایک خشک سائنسی خاکہ بن جاتی ہے، مگر جب وقت اور توانائی کو "وجود" کو سمجھنے کی بنیادی کنجیاں مان لیا جائے تو تصویر یکسر بدل جاتی ہے۔ تب کائنات جامد اشیا کا ذخیرہ نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ، متحرک اور مربوط نظام کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہاں اصل حقیقت سکون نہیں بلکہ حرکت ہے، ٹھہراؤ نہیں بلکہ تسلسل ہے۔ یہی تسلسل—جسے وقت اور توانائی سہارا دیتے ہیں—اس کائناتی نظم کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ہر لمحہ ایک نئی صورت، ایک نیا توازن اور ایک نیا مظہر جنم لیتا ہے۔ ستاروں کی پیدائش سے لے کر ایٹم کے اندر ذرات کی حرکت تک، سب کچھ تغیر میں ہے۔ صورتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر پس منظر میں کارفرما قوت ایک ہی رہتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ حرکت کیوں ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس حرکت میں نظم کہاں سے آیا؟ کیا یہ محض اتفاق ہے، یا کسی گہری اور بنیادی حقیقت کا اظہار؟ یہی وہ مقام ہے جہاں جدید سائنس خود ایک فلسفیانہ سوال سے ٹکرا جاتی ہے۔ آئن سٹائن نے ایک موقع پر کہا تھا: “سب سے ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ کائنات قابلِ فہم ہے۔” یہ جملہ دراصل اس حیرت کا اظہار ہے کہ ایک بے جان کائنات میں ایسے قوانین کیوں موجود ہیں جو انسانی عقل کے لیے قابلِ فہم بھی ہیں اور قابلِ پیش گوئی بھی۔ اگر کائنات محض اتفاق کا نتیجہ ہوتی تو اس درجے کی ریاضیاتی ہم آہنگی اور قانونیت کی کوئی معقول توجیہ مشکل ہو جاتی۔ سائنس نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ مادّہ اور توانائی دو الگ حقیقتیں نہیں۔ آئن سٹائن کا مشہور نظریہ E = mc² یہ بتاتا ہے کہ مادّہ توانائی کی ایک صورت ہے اور توانائی مادّے میں ڈھل سکتی ہے۔ یوں کائنات کے تمام مظاہر—کہکشائیں، روشنی، انسان، حتیٰ کہ خلا—ایک ہی بنیادی حقیقت کے مختلف اظہار بن جاتے ہیں۔ طبیعیات دان میکس پلانک، جو کوانٹم نظریے کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، نے کہا تھا “میں مادّے کو بنیادی نہیں سمجھتا؛ مادّہ دراصل ایک ایسی طاقت سے وجود میں آتا ہے جو ایٹم کے ذرات کو باندھے رکھتی ہے۔ ہمیں اس طاقت کے پیچھے کسی شعوری ذہن کو فرض کرنا پڑتا ہے۔” یہ بیان خالصتاً سائنسی پس منظر رکھنے والے ایک محقق کی فکری دیانت داری کا اظہار ہے، جو اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ محض ذرات اور مساواتیں پوری کہانی بیان نہیں کرتیں۔ اگر توانائی وجود کی دھڑکن ہے تو وقت اس دھڑکن کو ترتیب دینے والا اصول ہے۔ وقت محض گھڑی کی سوئیوں کا نام نہیں، بلکہ وہ کائناتی فریم ورک ہے جس کے بغیر نہ تبدیلی کا مفہوم قائم رہتا ہے اور نہ سبب و نتیجہ کا رشتہ۔ اسٹیفن ہاکنگ نے وقت کے بارے میں لکھا: “وقت کا تیر وہ چیز ہے جو کائنات کو معنی دیتا ہے؛ اسی کے بغیر واقعات کا کوئی منطقی ربط باقی نہیں رہتا۔” اگر وقت نہ ہو تو تمام واقعات ایک ہی لمحے میں سمٹ جائیں۔ نہ ارتقا کا تصور ممکن ہو، نہ تاریخ کا، اور نہ شعور کی تشکیل۔ وقت ہی وہ زنجیر ہے جو کائنات کے پھیلاؤ، ستاروں کی زندگی اور انسانی شعور کو ایک مسلسل کہانی میں بدلتی ہے۔ یہاں ایک اور بنیادی سوال جنم لیتا ہے: قوانینِ فطرت خود کہاں سے آئے؟ طبیعیات دان یوگین ویگنر نے اسے “ریاضی کی ناقابلِ فہم افادیت” کہا تھا—یعنی یہ حقیقت کہ کائنات کے قوانین نہ صرف موجود ہیں بلکہ حیرت انگیز طور پر ریاضی کی زبان میں بیان کیے جا سکتے ہیں۔ یہ محض سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا وجودی سوال ہے۔ اسی لیے کئی عظیم سائنس دان اس نتیجے تک پہنچے کہ کائنات کا نظم محض اندھی قوتوں کا کھیل نہیں ہو سکتا۔ ایرون شروڈنگر کے مطابق “شعور کو مادّے کے کسی حصے تک محدود نہیں کیا جا سکتا؛ یہ کائنات کے بنیادی تانے بانے میں پیوست ہے۔” یوں وقت اور توانائی ہمیں کسی عقیدے کی طرف زبردستی نہیں دھکیلتے، بلکہ ایک منطقی سوال ہمارے سامنے رکھتے ہیں: اگر کائنات ایک ہم آہنگ، قانون پابنداور قابلِ فہم نظام ہے، تو کیا اس کے پیچھے کوئی بنیادی حقیقت، کوئی کُلّی اصول، کوئی اعلیٰ ذہانت موجود نہیں؟ یہی سوال وہ دروازہ ہے جہاں سائنس خاموش ہو جاتی ہے، مگر عقل اور شعور سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں—اور یہی سوچ خدا کے وجود کو ایک جذباتی عقیدے کے بجائے ایک معقول امکان کے طور پر ہمارے سامنے لے آتی ہے۔ |
|