سوات کا کاتب” قرآن میاں نوربادشاہ“
(Fazal khaliq khan, Mingora Swat)
| میاں نور بادشاہ ایسا عظیم روحانی و تخلیقی کام سرانجام دے رہے ہیں جو بڑے بڑے اداروں اور ماہر خطاطوں کے لیے باعث فخر ہو سکتا ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عظمت عہدے یا دولت سے نہیں بلکہ نیت، اخلاص اور عمل سے حاصل ہوتی ہے۔ |
|
|
فضل خالق خان (سوات) سوات کی سرزمین اپنی فطری خوبصورتی، دلکش وادیوں، بہتے دریاوں اور قدیم تہذیبی آثار کی بدولت ملک بھر میں ایک منفرد پہچان رکھتی ہے۔ سوات نہ صرف سیاحتی حسن کا مرکز ہے بلکہ یہاں ایسی نابغہ روزگار شخصیات بھی موجود ہیں جو خاموشی سے اپنی زندگی کو کسی بڑے مقصد کے لیے وقف کئے ہوئے ہیں۔ انہی باکمال اور باعمل شخصیات میں ایک نام ”میاں نور بادشاہ“ کا ہے، جنہوں نے گزشتہ دس برس سے رضائے الٰہی کے حصول اور عشق قرآن کے جذبے کے تحت اپنے ہاتھوں سے قرآن مجید لکھنے کا مبارک سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ عشقِ قرآن سے روشن ایک زندگی! 80 برس کی عمر میں بھی میاں نور بادشاہ کا عزم و حوصلہ جوانوں کو مات دیتا ہے۔ سادہ مزاج، دھیمے لہجے اور نورانی چہرے کے حامل اس مرد‘درویش کی زندگی کا محور و مرکز قرآن کریم ہے۔ وہ سوات کے خوبصورت علاقے گلی باغ میں واقع ایک تارکول پلانٹ میں بطور چوکیدار خدمات انجام دے رہے ہیں مگر ان کی اصل پہچان ان کا وہ روحانی اور تخلیقی سفر ہے جس میں وہ کلامِ الٰہی کو اپنے ہاتھوں سے خوبصورت انداز میں تحریر کرتے ہیں۔ میاں نور بادشاہ بتاتے ہیں کہ بچپن ہی سے انہیں دینی علوم سے خاص شغف تھا ۔ قرآن مجید کی تلاوت ان کے دل کو ایک عجیب سکون عطا کرتی تھی۔ دوران طالب علمی جب انہوں نے مدارس میں باقاعدہ تعلیم حاصل کی تو قرآن سے محبت مزید گہری ہوتی چلی گئی اور اسی بناء پر دنیاوی تعلیم یعنی سکول کی تعلیم صرف چوتھی جماعت تک حاصل کرنے کے بعد مدارس سے اپنا قلبی تعلق جوڑ کر بس اسی کے ہوکر رہ گئے۔ اسی زمانے میں انہیں حروف کو خوبصورتی سے لکھنے کا شوق بھی پیدا ہوا۔ اس کیلئے وہ خاص طور پر مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے مرتب کردہ قاعدے سے حروف کی بناوٹ اور خوبصورت انداز تحریر سیکھتے رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شاید اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں قرآن کو ہاتھ سے لکھنے کا بیج بو دیا تھا، جو آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ قرآن شریف کو ہاتھ سے لکھنے کے سفر کے حوالے سے میاں نور بادشاہ سے ” فیملی“ کی ایک طویل نشست ہوئی جس میں انہوں نے اس عظیم سفر کے مختلف پہلووں پر تفصیل سے روشنی ڈالی جسے ہم اپنے قارئین کی دل چسپی کیلئے پیش خدمت کررہے ہیں۔میاں نور بادشاہ نے آج سے تقریباً بارہ سال قبل باقاعدہ طور پر قرآنِ مجید کو اپنے ہاتھ سے لکھنے کا ارادہ کیا۔ ابتدا میں یہ کام انہیں ایک مشکل مرحلہ محسوس ہوا‘ کیونکہ قرآن مجید کی کتابت نہایت ذمہ داری، احتیاط اور یکسوئی کا تقاضا کرتی ہے۔ ہر لفظ، ہر زبر، زیر اور پیش کو پوری توجہ اور درستگی کے ساتھ لکھنا ضروری ہوتا ہے‘ مگر ان کے بقول جب نیت خالص ہو تو اللہ تعالیٰ خود راستے آسان کر دیتا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ قرآن مجید کا ایک مکمل نسخہ تحریر کرنے میں ایک سال سے لے کر تقریباً ڈیڑھ سال تک کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ روزمرہ کی مصروفیات اور ملازمت کے باوجود وہ باقاعدگی سے وقت نکالتے ہیں۔ کبھی فجر کے بعد، کبھی عشاءکے بعد اور کبھی ڈیوٹی کے دوران فرصت کے لمحات میں وہ نہایت انہماک سے قرآن لکھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ قرآن لکھ رہے ہوتے ہیں تو انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو اور دل پر ایک خاص نورانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور اسے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ کب رات ہوئی اور کب دن شروع ہوا ۔ اب تک وہ قرآن پاک کے چار مکمل اور ایک زیر تحریر نہایت خوبصورت نسخے تیار کر چکے ہیں، پانچواں نسخہ اس وقت 16ویں پارے تک مکمل ہوچکا ہے اور مزید کام جاری ہے۔ ہر نسخہ ان کی محنت، صبر اور عشق کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔میاں نور بادشاہ کے ہاتھ سے لکھے گئے قرآن مجید کے نسخے اپنی خوبصورتی اور دلکشی کے اعتبار سے بھی منفرد ہیں۔ وہ مختلف آیات کو مختلف رنگوں میں تحریر کرتے ہیں جس سے نہ صرف پڑھنے میں آسانی ہوتی ہے بلکہ بصری حسن بھی دوبالا ہو جاتا ہے۔ سرخ، سبز، نیلا،پیلا، گلابی اور سیاہ رنگ نہایت ترتیب اور تناسب کے ساتھ استعمال کیے جاتے ہیں۔ہر صفحے کے چاروں اطراف وہ باریک اور نفیس گل کاری کرتے ہیں۔ یہ گل کاری مختلف رنگوں سے مزین ہوتی ہے اور دیکھنے والا بے اختیار داد دیے بغیر نہیں رہتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہر صفحہ ایک مکمل فن پارہ ہو۔ ان کی کتابت میں روایتی خطاطی کی جھلک بھی ملتی ہے اور ذاتی تخلیقی انداز بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے وہ خصوصی مارکر اور قلم استعمال کرتے ہیں جو وہ باالخصوص کراچی سے منگواتے ہیں جبکہ کچھ قلم مقامی مارکیٹ سے بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات قرآن سے محبت رکھنے والے احباب انہیں یہ قلم بطور تحفہ بھی پیش کرتے ہیں۔ قرآن مجید لکھنے کے لیے وہ مخصوص اور معیاری ڈائریاں استعمال کرتے ہیں جو خصوصی طور پر کراچی سے ہی منگوائی جاتی ہیں تاکہ کاغذ کی مضبوطی اور سیاہی کی پائیداری برقرار رہے۔ قرآنی نسخوں کی فروخت سے انکار اور خاندان کیلئے وراثت کا اعلان! ایک سوال کے جواب میں کہ اگر انہیں قرآن مجید کا کوئی نسخہ فروخت کرنے کی پیشکش کی جائے تو کیا وہ تیار ہوں گے؟ میاں نور بادشاہ نے بڑے واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ وہ اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے قرآن کے نسخے کسی بھی قیمت پر فروخت نہیں کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک صاحب نے ان کے ہاتھ کے لکھے قرآن کا ایک نسخہ ایک لاکھ روپے میں حاصل کرنے کی پیشکش کی تھی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ میاں نور بادشاہ کا کہنا تھا کہ یہ نسخے محض کتابیں نہیں بلکہ ان کی روح کا حصہ ہیں۔ یہ ان کی زندگی کی کمائی، ان کی محنت اور ان کے عشق کا ثمر ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ نسخے ان کے خاندان کا اثاثہ بنیں اور آنے والی نسلیں بھی اس سے جڑ کر قرآن سے محبت کا سبق حاصل کریں۔ ”فیملی“ سے طویل نشست کے اختتام پر میاں نور بادشاہ سے ہم نے خصوصی دعا کی درخواست کی جس پر انہوں نے کہا کہ وہ قرآن لکھنے کے اس عمل کا ثواب ان تمام لوگوں کے نام کرتے ہیں جو دنیا میں کہیں بھی امن، بھائی چارے اور انسانیت کی خدمت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کی دعا میں عالمگیر امن، باہمی احترام اور انسانوں کے درمیان محبت کا پیغام نمایاں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کتاب ہے۔ اگر دنیا قرآن کی تعلیمات پر عمل کرے تو ظلم، ناانصافی اور نفرت کا خاتمہ ممکن ہے۔ سادگی میں عظمت! یہ امر نہایت قابل غور ہے کہ ایک طرف میاں نور بادشاہ ایک عام چوکیدار کی حیثیت سے اپنی ملازمت انجام دے رہے ہیں اور دوسری طرف وہ ایسا عظیم روحانی و تخلیقی کام سرانجام دے رہے ہیں جو بڑے بڑے اداروں اور ماہر خطاطوں کے لیے بھی باعث فخر ہو سکتا ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عظمت عہدے یا دولت سے نہیں بلکہ نیت، اخلاص اور عمل سے حاصل ہوتی ہے۔ گلی باغ کی خاموش فضاوں میں بیٹھا یہ درویش صفت انسان اپنے قلم سے نور بکھیر رہا ہے۔ ان کی تحریر کردہ ہر آیت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جب انسان کسی کام کو اللہ کی رضا کے لیے اختیار کر لے تو وہ کام عبادت بن جاتا ہے۔میاں نور بادشاہ کی شخصیت نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ آج کے دور میں جب لوگ شہرت، دولت اور وقتی مفادات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، وہ خاموشی سے ایک ایسا کام کر رہے ہیں جس کا اجر صرف اللہ کے پاس ہے۔ ان کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر نیت سچی ہو تو محدود وسائل بھی بڑے کام کے لئے کافی ہوتے ہیں۔سوات جیسے تاریخی اور خوبصورت خطے کی پہچان صرف اس کے پہاڑ، دریا اور آثار قدیمہ نہیں بلکہ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے عمل سے اس دھرتی کا نام روشن کرتے ہیں۔ میاں نور بادشاہ کا قرآن مجید کو ہاتھ سے لکھنے کا یہ سفر دراصل عشق، صبر اور استقامت کی ایک زندہ داستان ہے ، ایک ایسی داستان جو آنے والی نسلوں کو یہ سبق دے گی کہ کلام الٰہی سے جڑ کر زندگی کو کس طرح با مقصد بنایا جا سکتا ہے۔
|
|