ہماری زندگی پر احادیث کا اثر ( اٹھارویں حدیث)

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

( محمد یوسف میاں برکاتی )

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارے سلسلہ
"ہماری زندگی پر احادیث کا اثر " کے عنوان سے اب تک میں آپ تک سترہ احادیث پہنچا چکا ہوں آج کی تحریر میں ہم اٹھارویں حدیث اور اس کی ہماری زندگی میں اہمیت کے بارے میں پڑھیں گے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے سچ لکھنے ہم سب کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ آج کی حدیث معروف کتاب جامع ترمذی سے لی گئی ہے اور اس کے راوی ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ
" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دعا عبادت کا مغز ہے ( حاصل و نچوڑ ) ہے ".
( جامع ترمذی 3371 )
آج کی اس حدیث میں بڑی اہم بات کی طرف ہمیں اللہ تعالیٰ کے رسول حضور ﷺ نے اشارہ کیا ہے اور اگر ہم اس اہم بات کو آج کے تناظر میں دیکھیں تو یہ معاملہ بڑا سنگین بھی ہے اور حساس بھی وہ اس لیئے کہ ہمارے یہاں لوگوں کی ایک کثیر تعداد ایسی بھی ہے جو عبادتوں کا اہتمام تو بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ کرتے ہیں مگر دعائوں کی طرف دھیان ان کا کم ہوتا ہے جبکہ ہماری آج کی حدیث میں حضور ﷺ نے واضح الفاظ میں بتایا کہ " دعا عبادت کا مغز ہے " یعنی انسان جب کوئی بات سوچتا ہے تو وہ سوچ اس کے دماغ میں سب سے پہلے آتی ہے اگر کسی بھی انسان کا دماغ صحیح طور پر کام نہیں کرتا تو وہ پریشان ہو جاتا ہے کیونکہ انسانی سوچ کا دارومدار اس کے دماغ سے ہے اسی طرح اگر ہم عبادت کرتے ہیں اور دعا کا اہتمام نہیں کرتے تو ہماری عبادت اور اس کی قبولیت کی کوئی مکمل گارنٹی نہیں ہوگی کیونکہ انسان خطا کا پُتلا ہے اور عبادتوں میں اگر کوئی غلطی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہم اس غلطی کی معافی صرف دعائوں کے ذریعے ہی مانگ سکتے ہیں اور ہماری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ دعائوں کی شکل میں جب باری تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچتے ہیں تو وہ نہ صرف سنتا ہے بلکہ اپنے بندے کی دعائوں کو قبول بھی فرماتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں سب سے پہلے ہم لفظ " دعا " کے معنی کو سمجھ لیتے ہیں دعا کے لغوی معنی تو پکارنا ، مانگنا اور سوال کرنا کے ہیں لیکن اگر ہم اس کے معنی کو شرعی اصطلاح میں دیکھیں تو اس کا مطلب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں استغاثہ اور عرض معروض کرنا کے ہیں قرآن مجید کی سورہ المؤمن میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ
" وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ 60
ترجمعہ کنز العرفان:
اور تمہارے رب نے فرمایا کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کرتا ہوں ۔
قرآن مجید میں دعا کو عبادت کا مغز اور توحید کا عملی اظہار قرار دیا گیا ہے، جس میں انبیاء اور نیک لوگوں کی 40 سے زائد 'ربّنا' (اے ہمارے رب) سے شروع ہونے والی دعائیں شامل ہیں۔ یہ دعائیں استقامت، مغفرت، اولاد، اور دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے بہترین قرآنی اصول ہیں۔ قرآن کے مطابق، سچی دعا دل کی گہرائی سے اللہ کی طرف رجوع کا نام ہے۔ اسی طرح سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"
ترجمعہ کنزالایمان ۔
اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا۔
یہ قرآن مجید کی وہ جامع دعا ہے جو حضور ﷺ خود ہر نماز کے بعد مانگا کرتے تھے دعا مانگنا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کے لیئے ہاتھوں کو اٹھانا پھر گڑگڑا کر اپنے رب سے توبہ کرنا رب العزت کو کتنا پسند ہے اس بات کا اندازہ آپ اس واقعہ سے کرلیئجے جسے پڑھ کر آپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا کہتے ہیں کہ ایک شخص جب اپنی عبادت سے فارغ ہوا تو اپنے ہاتھ اپنے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں اٹھا کر دعا مانگنے لگا جوں جوں اس کی دعا میں کیفیت بڑھتی گئی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونا شروع ہوگئے اور پھر وہ سسکیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگنے لگا جب اسے کافی دیر ہوگئی تو ایک فرشتہ کا وہاں سے گزر ہوا وہ فرشتہ اس شخص کی یہ کیفیت دیکھ کر کھڑا ہوگیا اور جب اس نے اس شخص کی یہ حالت دیکھی تو رب العزت کی بارگاہ میں عرض گزار ہوا کہ یارب تیرا یہ بندہ اتنا گرگڑا کر تجھ سے توبہ کا طالب ہے اس کی دعا اب تو قبول کرلے تو رب العزت فرماتا ہے کہ اے فرشتے گواہ رہنا میں نے اس کی دعا تو قبول کرلی ہے مگر مجھے اس کا رونا اس کا آنسو بہانا اس کا دعا کے لیئے میری بارگاہ میں ہاتھ اٹھانا اچھا لگ رہا ہے جب تک اس کا دل کرے اسے اسی حالت میں رہنے دو ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اگر ہم احادیث کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں اس دعا کے متعلق بیشمار احادیث مبارکہ ملتی ہیں جیسے سنن ترمزی کی ایک حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے سوال نہیں کرتا ۱؎ اللہ اس سے ناراض اور ناخوش ہوتا ہے“۔
( سنن ترمزی 3373 )
اس حدیث کی وضاحت یہ ہے کہ حضور ﷺ نے یہ الفاظ ان لوگوں کے لیئے فرمائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عبادات تو کرتے ہیں لیکن ان عبادتوں کو فرض سمجھ کر فارغ ہو جاتے ہیں جبکہ اپنی کی گئی عبادتوں کی قبولیت کے لیئے باری تعالیٰ کی بارگاہ میں دعائیں کرنے میں بینیازی برتتے ہیں نہ توبہ واستغفار کرتے ہیں اور نہ ہی دنیا و آخرت کے لیئے کچھ طلب کرتے ہیں ۔ ہمارے انبیاء کرام علیہم السلام صحابہ کرام علیہم الرضوان اور بزرگان دین کا معمول رہا ہے کہ وہ جب بھی کوئی عبادت کرتے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی غلطی اپنی کوتاہی کی معافی مانگتے ہوئے دعائوں کا اہتمام کرتے تھے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی عبادتوں کو قبول فرمائے اور بیشک وہ رب اپنے ہر بندے کی پکار سنتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ سے مانگو میں دوں گا مجھ سے دعا مانگو میں قبول کروں گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں دعا کے ذریعے انسان اللہ کی توحید کا اقرار کرتا ہے، کیونکہ وہ اپنی مشکلات میں صرف اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے یا پھر اللہ تعالیٰ کے ان محبوب بندوں کا وسیلہ پیش کرکے اپنے رب سے دعا مانگتا ہے جن کی دعائیں کبھی رد نہیں ہوتی اور ان کے عرض کرنے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائوں کو قبول فرما لیتا ہے اسی لیئے دعا کو عبادت کا مغز کہا گیا بالکل اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا کہ " مجھ سے مانگو " تاکہ بندے کا تعلق اور مالک کی عطا کا سلسلہ جاری و ساری رہے اسی طرح دعا انسان کی دنیاوی زندگی کی بنیادی ضروریات کی طلب اور کیئے گئیے گناہوں کی بخشش و توبہ کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھانے کا بہترین ذریعہ ہے جبکہ دنیا میں آنے والے مصائب اور پریشانیوں کو دور کرنے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے جسے ہمارے انبیاء کرام علیہم السلام صحابہ کرام علیہم الرضوان اور بزرگان دین نے بھی اپنی اپنی زندگیوں میں اپنایا اسلام میں دعائوں کی قبولیت کے کئی اہم اوقات بھی ہمیں بتائے گئیے ہیں جیسے مؤذن کی اذان اور اقامت کے درمیان کا وقت دعا کی قبولیت کے لیئے بڑا اہم سمجھا جاتا ہے اسی طرح دعا مانگنے میں کبھی بھی جلدی نہیں کرنی چاہئے ورنہ ہمیں ہمیشہ یہ ہی محسوس ہوگا کہ ہماری دعائیں تو قبول ہی نہیں ہوتی جبکہ حقیقت بھی یہ ہی ہے اور کبھی بھی ناجائز خواہش اور کسی کے خلاف مانگی گئی دعا قبول نہیں ہوتی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں قرآن مجید کی سورہ طہ کی آیت 114 میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّۚ-وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ٘-وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا(114)
ترجمعہ کنزالایمان:
تو سب سے بلند ہے اللہ سچا بادشاہ اور قرآن میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تمہیں پوری نہ ہولے اور عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے علم زیادہ دے ۔
اس آیت کی تفسیر میں علماء کرام فرماتے ہیں کہ
باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ
وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بہت بلند ہے جو سچا بادشاہ اور اصل مالک ہے اور تمام بادشاہ اس کے محتاج ہیں اور اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی طرف قرآن کی وحی کے ختم ہونے سے پہلے قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کریں ۔ اس کاشانِ نزول یہ ہے کہ جب حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام قرآنِ کریم لے کر نازل ہوتے تھے توسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے اور جلدی کرتے تھے تاکہ خوب یاد ہو جائے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ یاد کرنے کی مشقت نہ اٹھائیں۔اور فرمایا کہ اے محبوب وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا: اور عرض کرو:اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو علم میں اضافے کی دعا مانگنے کی تعلیم دی ، اس سے معلوم ہوا کہ علم سے کبھی سیر نہیں ہونا چاہیے بلکہ مزید علم کی طلب میں رہنا چاہئے ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ علم کی حرص اچھی چیز ہے، جیسے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمام مخلوق میں سب سے بڑے عالم ہیں مگر انہیں حکم دیا گیا کہ زیادتی ٔعلم کی دعا مانگو ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اسی طرح قرآن مجید کی سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ
رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِٜ (201)
ترجمعہ کنزالایمان:
اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا۔
یہ وہی دعا ہے کہ جو ہمارے پیارے آقا و مولا حضور ﷺ ہر نماز کے بعد مانگا کرتے تھے اور ہمیں۔ بھی تلقین کی گئی اس لیئے ہر سمجھدار باشعور اور عاشق رسول ﷺ ہر نماز کے بعد یہ دعا ضرور پڑھتا ہے کیونکہ یہ بہت جامع دعا ہے اورتھوڑے الفاظ میں دین و دنیا کی تمام بھلائیاں اس میں مانگی گئی ہیں۔جس طرح دعا کی قبولیت کے لیئے ہمارے فقہاء نے مخصوص اوقات کا ذکر کیا ہے وہاں کچھ الفاظ کا ذکر بھی آیا ہے جیسے دعا مانگتے وقت سب سے پہلے درود پاک پڑھیئے پھر پانچ مرتبہ  ”یَا رَبَّنَا“ کہیئے اور پھر دعا مانگیئے تو یہ دعا کی قبولیت کے لیئے ایک مظبوط عمل ہے اور دعا کی قبولیت میں بڑا اثر رکھتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں سورہ البقرہ کی 186 آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ
وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ-اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ-فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ(186)
ترجمعہ کنزالایمان:
اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے تو انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں۔
بالکل اسی طرح اور المؤمن کی آیت نمبر 60 میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ
وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ (60)
ترجمعہ کنزالایمان ؛
اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا بے شک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھنچتے ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر۔
ان دونوں آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یقین دلایا ہے کہ مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعائوں کو سنتا بھی ہوں اور قبول بھی کرتا ہوں لیکن ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد یہ کہتے ہوئے نظر آتی ہے کہ ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتی علماء اور فقہاء نے اس بات کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے دعا مانگنے کے معنی اطاعت کے ہیں جبکہ دعا کو قبول کرنا اجابت کے معنی میں آتا ہے لہذہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بندہ میری اطاعت کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں یعنی ثواب عطا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کی دعا قبول کرتا ہوں اگر وہ شرعیت کے خلاف نہ ہو اگر وہ کسی دوسرے بندے کو نقصان پہچانے کی دعا نہ ہو کسی کو سزا دلانے کے بارے میں نہ ہو یعنی وہ حدیث جسے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کی ہے کہ " حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے جب کوئی بندہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ تین طرح سے اس کی دعا کی طرف اپنی نظر کرم کرتا ہے یا تو اس کی دعا فوراً قبول فرما دیتا ہے یا پھر اس دعا کو آخرت کے لیئے رکھ لیتا ہے اور یا اگر اس دعا کی قبولیت اس بندے کے لیئے موافق نہیں تو اسے اس کی بجائے اس کی کوئی برائی کو دور کرکے اسے اجر عطا کر دیتا ہے " اللہ اکبر ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں میرا رب کتنا کریم ہے کتنا رحیم ہے یعنی دعا مانگتے رہنا چاہیئے اور مانگتے ہی رہنا چاہیئے کہ یہ رب العزت کا اپنے بندوں کے سارے اعمال سے سب سے زیادہ پسندیدہ عمل ہے اور یہ کام بھی وہی کرتا ہے جسے میرے رب نے توفیق بخشی ہوتی ہے جیسے ایک بزرگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر وقت دعا کیا کرتے تھے پھر ایک دن شیطان سامنے آگیا اور کہنے لگا کہ تم ہر وقت اپنے رب کی بارگاہ میں دعا کرتے رہتے ہو کیا تمہاری کوئی دعا اب تک قبول ہوئی ؟ شیطان کی یہ بات سن کر وہ بزرگ پریشان ہوگئے اور انہوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر دعا مانگنا چھوڑ دی کچھ دنوں بعد ان بزرگ کو خواب میں ایک پرنور اور بارعب بزرگ کا دیدار ہوا اور کہنے لگے کہ تم نے دعا کرنا کیوں چھوڑ دی تو عرض کیا کہ میری دعا قبول ہی نہیں ہوتی تو فرمایا کہ تجھے معلوم ہی نہیں اگر پہلی مرتبہ مانگی جانے تیری دعا قبول نہ ہوتی تو تجھے رب العزت کی طرف سے دوبارہ ہاتھ اٹھانے کی توفیق ہی نہیں ملتی اگر تو بار بار دعا کے لیئے ہاتھ اٹھاتا رہا تو اس کا مطلب ہے کہ تمہاری دعائیں قبول ہوگئی ہیں بس عمل ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے جس میں رب تعالیٰ کی حکمت ع مشیعت ہوسکتی ہے اللہ تعالیٰ نے جب تمہیں توفیق بخشی ہے تو دعائیں مانگا کرو اور بار بار مانگا کرو وہ رب نہ صرف تمہاری دعائیں سنتا ہے بلکہ قبول بھی فرماتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں دعا نہ صرف مومن کا ہتھیار ہے بلکہ آج کی حدیث کے مطابق دعا عبادت کا مغز ہے لہذہ دعا کو مانگنا نہ چھوڑیئے اور مانگتے رہئیے احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتے رہیئے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے رہیئے دعائیں مانگتے رہیں اور اپنے رب کو پکارتے رہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ستر مائوں سے زیادہ پیار کرتا ہے اس لیئے وہ اپنے بندوں کی پکار ضرور سنتا ہے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے سچ کہنے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔
مجھے اپنی دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔ انشاء اللہ انیسویں حدیث لیکر جلد حاضر ہو جائوں گا ۔
محمد یوسف راہی برکاتی
About the Author: محمد یوسف راہی برکاتی Read More Articles by محمد یوسف راہی برکاتی: 206 Articles with 199084 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.