شرق الاوسط کی جنگ، دنیا کی خاموشی اور پاکستان: اقبال کے فکری تناظر میں ایک تجزیہ

یہ مضمو ن شرق الاوسط میں پیدا ہونے والی حالیہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کا تجزیہ پیش کرتا ہے، خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کے تناظر میں۔ اس تحقیق کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ موجودہ بحران محض ایک علاقائی جنگی صورتحال نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں جاری تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ مضمون میں اس امر کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ اسلامی دنیا کی محدود اجتماعی ردِعمل کو صرف سیاسی کمزوری کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اسے جدید قومی ریاستی نظام، معاشی مفادات اور اسٹریٹجک اتحادوں کی پیچیدگیوں کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
اس تجزیے میں پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے، خاص طور پر افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی، داخلی سلامتی کے مسائل اور معاشی دباؤ کے پس منظر میں۔ مزید برآں علامہ محمد اقبال کے سیاسی و فکری تصورات، خصوصاً اجتماعی خودی، قومی اتحاد اور فکری بیداری کے اصولوں کو بطور نظریاتی فریم ورک استعمال کیا گیا ہے۔ مضمون کا استدلال ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قومی استحکام کا انحصار بیرونی اتحادوں سے زیادہ داخلی یکجہتی، معاشی مضبوطی اور متوازن سفارت کاری پر ہے۔ یہ مطالعہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ عصرِ حاضر کے پیچیدہ عالمی ماحول میں فکری بصیرت اور قومی اتحاد ہی پائیدار قوت کا سرچشمہ بن سکتے ہیں۔
شرق الاوسط کی جنگ، دنیا کی خاموشی اور پاکستان: اقبال کے فکری تناظر میں ایک تجزیہ
تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی — آسٹریلیا
یہ مضمو ن شرق الاوسط میں پیدا ہونے والی حالیہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کا تجزیہ پیش کرتا ہے، خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کے تناظر میں۔ اس تحقیق کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ موجودہ بحران محض ایک علاقائی جنگی صورتحال نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں جاری تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ مضمون میں اس امر کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ اسلامی دنیا کی محدود اجتماعی ردِعمل کو صرف سیاسی کمزوری کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اسے جدید قومی ریاستی نظام، معاشی مفادات اور اسٹریٹجک اتحادوں کی پیچیدگیوں کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
اس تجزیے میں پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے، خاص طور پر افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی، داخلی سلامتی کے مسائل اور معاشی دباؤ کے پس منظر میں۔ مزید برآں علامہ محمد اقبال کے سیاسی و فکری تصورات، خصوصاً اجتماعی خودی، قومی اتحاد اور فکری بیداری کے اصولوں کو بطور نظریاتی فریم ورک استعمال کیا گیا ہے۔ مضمون کا استدلال ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قومی استحکام کا انحصار بیرونی اتحادوں سے زیادہ داخلی یکجہتی، معاشی مضبوطی اور متوازن سفارت کاری پر ہے۔ یہ مطالعہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ عصرِ حاضر کے پیچیدہ عالمی ماحول میں فکری بصیرت اور قومی اتحاد ہی پائیدار قوت کا سرچشمہ بن سکتے ہیں۔
موجودہ عالمی سیاست ایک بار پھرشرق الاوسط کے گرد گھومتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بالآخر جنگ میں بدل چکی ہے اور اب عالمی طاقت کے توازن کو بھی ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ فلسطین میں جاری انسانی بحران، خلیجی ریاستوں کی محتاط سفارت کاری، اور عالمی طاقتوں کی صف بندی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع جیوپولیٹیکل تصادم کا پیش خیمہ ہے۔اس صورتحال میں ایک اہم سوال یہ بھی ابھرتا ہے کہ اسلامی دنیا کی اجتماعی آواز کیوں کمزور دکھائی دیتی ہے؟ اور کیا پاکستان واقعی اس بحران میں تنہا کھڑا ہے؟ ان سوالات کا جواب صرف سیاسی تجزیے میں نہیں بلکہ فکری اور تہذیبی سطح پر بھی تلاش کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں علامہ محمد اقبال کی فکر نہایت اہم رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
علامہ اقبال کے نزدیک کسی قوم کی اصل قوت اس کی عسکری طاقت نہیں بلکہ اس کی اجتماعی خودی ہوتی ہے۔علامہ اقبال نے بارہا اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ اگر کسی ملت کی فکری بنیادیں کمزور ہو جائیں تو اس کی سیاسی آزادی بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔وہ فرماتے ہیں:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
یہ شعر دراصل اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ قومی قوت کا سرچشمہ داخلی اتحاد اور شعوری بیداری ہے۔ اگر ہم موجودہ اسلامی دنیا کو دیکھیں تو اس میں سب سے بڑا بحران عسکری کمزوری نہیں بلکہ فکری اور سیاسی انتشار ہے۔دنیا امریکہ کی اس جارحیت پر سوال اٹھاتی ہے یا نہیں اس سے قطع نظر اسلامی دنیا کی خاموشی از خود ایک بڑا سوال ہے کہ آکر امت کا تصور کہاں گم ہو گیا؟
علامہ اقبال کی فکر میں امت کا تصور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ملتِ اسلامیہ کو محض مذہبی برادری نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی قوت سمجھتے تھے۔ مگر جدید عالمی نظام میں قومی ریاستوں (Nation States) کے ظہور نے اس تصور کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔آج کی اسلامی دنیا دراصل مختلف جغرافیائی اور سیاسی مفادات پر مبنی ریاستوں کا مجموعہ ہے۔ قطر، متحدہ امارات، افغانستان،سعودی عرب، ایران، ترکی، مصر اور پاکستان ہر ایک کی اپنی خارجہ پالیسی، دفاعی ترجیحات اور معاشی وابستگیاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی بحران کے موقع پر ایک متحد اسلامی موقف سامنے آنا مشکل ہو جاتا ہے۔علامہ اقبال نے اس بات کو اپنے دورِ حیات میں ہی بھانپ لیا تھا اور اس صورتحال کی پیش گوئی کچھ اس انداز میں کی تھی:
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
یہ شعر اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب اخلاقی اصول اور سیاسی حکمت عملی ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تو طاقت محض اقتدار کی جدوجہد میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
شرق الاوسط میں جاری کشیدگی دراصل طاقت کے توازن کی نئی تشکیل کا حصہ ہے۔ امریکہ اسرائیل کی سلامتی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون سمجھتا ہے، جبکہ ایران اپنے دفاع کو غیر روایتی مزاحمتی حکمت عملی کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ تصادم صرف عسکری نہیں بلکہ اسٹریٹجک بھی ہے۔ ایران کی پراکسی حکمت عملی، میزائل پروگرام اور علاقائی اتحاد دراصل ایک asymmetric deterrence کی مثال ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسرائیل جدید عسکری ٹیکنالوجی اور مغربی حمایت پر انحصار کرتا ہے۔اس صورتحال میں خلیجی ریاستیں کھلی جنگ سے گریز کر رہی ہیں کیونکہ ان کی ترجیح معاشی استحکام ہے۔ تیل کی عالمی منڈی، سرمایہ کاری اور مالیاتی نظام کسی بڑے جنگی بحران کو برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن یہ ریاستیں امریکہ کو اپنی سر زمین استعمال کرنے سے روک بھی نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی میزائل اور ڈرونز ان کی زمین پر بنائے گئے امریکی اڈوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔
تاہم پاکستان کی صورتحال اس بحران میں منفرد ہے۔ ایک طرف وہ شرق الاوسط کے جغرافیائی دائرے کے قریب واقع ہے اور دوسری طرف افغانستان کے ساتھ اس کی سرحدی کشیدگی داخلی سلامتی کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔تحریکِ طالبان پاکستان کی سرگرمیاں اور افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال پاکستان کے لیے ایک مستقل سیکورٹی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کو مغربی سرحد پر مصروف رکھنا علاقائی طاقت کے کھیل کا حصہ ہو سکتا ہے؟بین الاقوامی سیاست میں ایسے امکانات کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ میں کئی بار بڑی طاقتوں نے کسی خطے کو عدم استحکام کے ذریعے دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔
اس سوال کا جواب جذباتی نہیں بلکہ تجزیاتی ہونا چاہیے۔ پاکستان مکمل تنہا نہیں ہے۔ اس کے چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات موجود ہیں، خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی روابط ہیں اور مغربی دنیا کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی برقرار ہیں۔اصل مسئلہ تنہائی نہیں بلکہ اسٹریٹجک گنجائش کا ہے۔ جب کسی ریاست کی معیشت کمزور ہو اور داخلی سیاسی استحکام متزلزل ہو تو اس کی خارجہ پالیسی کے اختیارات محدود ہو جاتے ہیں۔علامہ اقبال نے قوموں کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ داخلی انتشار کو قرار دیا تھا اور بہت واضح انداز میں بتا دیا تھا کہ:
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستان والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
یہ تنبیہ دراصل اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ داخلی کمزوری خارجی دباؤ کو بڑھا دیتی ہے۔
جدید عالمی سیاست میں معیشت جنگ سے زیادہ فیصلہ کن عنصر بن چکی ہے۔ خلیجی ریاستوں کی محتاط پالیسی اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتصادی مفادات کسی بھی نظریاتی وابستگی سے زیادہ اہم ہو سکتے ہیں۔پاکستان کی معیشت بھی اس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی مالیاتی دباؤ اور داخلی معاشی مسائل خارجہ پالیسی کے امکانات کو محدود کرتے ہیں۔علامہ اقبال کے نزدیک معاشی خود مختاری بھی قومی خودی کا ایک اہم حصہ تھی۔ وہ محض روحانی بیداری کے قائل نہیں تھے بلکہ عملی قوت کو بھی ضروری سمجھتے تھے۔
شرق الاوسط کی موجودہ کشیدگی تین ممکنہ سمتوں میں جا سکتی ہے: محدود جنگ اور سفارتی مداخلت، پراکسی جنگوں کا پھیلاؤ، یا وسیع علاقائی تصادم
ہر صورت میں پاکستان کے لیے سب سے اہم عنصر داخلی استحکام ہوگا۔ اگر داخلی سیاسی اتحاد اور معاشی استحکام موجود ہو تو بیرونی بحرانوں کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔علامہ اقبال کی فکر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ قوموں کی اصل طاقت ان کی داخلی بیداری، اخلاقی قوت اور اجتماعی شعور میں ہوتی ہے۔ عسکری طاقت وقتی ہو سکتی ہے مگر فکری قوت دیرپا ہوتی ہے۔انہوں نے ایک جگہ فرمایا:
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
یہ تصور آج بھی اسلامی دنیا کے لیے ایک فکری رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر اسلامی ممالک اپنے مشترکہ مفادات کو سمجھیں اور داخلی استحکام کو مضبوط کریں تو عالمی سیاست میں ان کی آواز زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔شرق الاوسط کی جنگ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن کی نئی ترتیب کا حصہ ہے۔ اسلامی دنیا کی خاموشی محض کمزوری نہیں بلکہ ریاستی مفادات کی پیچیدگی کا نتیجہ بھی ہے۔پاکستان اس بحران کے دائرے کے قریب ضرور ہے مگر مکمل تنہا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ داخلی استحکام، معاشی اصلاح اور متوازن سفارت کاری کے ذریعے اپنی جغرافیائی پوزیشن کو طاقت میں تبدیل کر سکتا ہے۔علامہ اقبال کی فکر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قوموں کی بقا صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ فکری بصیرت، قومی اتحاد اور اخلاقی خودی سے ممکن ہوتی ہے۔آج کے نازک عالمی ماحول میں یہی وہ اصول ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک پائیدار راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔

Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 169 Articles with 249244 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More