عید الفطر‘ اسلامی و سماجی تہوار EID-UL-FITR ISLAMIC AND SOCIAL FESTIVAL
(Prof. Dr. Iqbal Ahmad Akhtar ul Qadri, Karachi)
| ’’عیدُالفطر‘‘ مسلمانوںکاایک پُرمسرّت دینی و مذہبی اور سماجی تہوارہے جوایک طرف اسلام کی ملّی، تہذیبی اور روحانی اقدار کی ایک روشن علامت ہے تو دوسری طرف یہ اللہ کریم کی طرف سے اہلِ ایمان کے لیے رمضان المبارک کی عبادت و ریاضت کا انعام، اعزاز و اکرام اور مسرّت و شادمانی کا دن ہے… عید مسلم اُمّہ کے توحیدی مزاج اور دینی و ملّی اقدار کی پوری طرح آئینہ داربھی ہے |
|
عید الفطر‘ اسلامی و سماجی تہوار از:پروفیسر ڈاکٹر اقبال احمد اخترالقادری‘ کراچی EID-UL-FITR ISLAMIC AND SOCIAL FESTIVAL By: Prof. Dr. Iqbal Ahmad Akhtar-ul-Qadri, Karachi ٭ ’’عیدُالفطر‘‘ مسلمانوںکاایک پُرمسرّت دینی و مذہبی اور سماجی تہوارہے جوایک طرف اسلام کی ملّی، تہذیبی اور روحانی اقدار کی ایک روشن علامت ہے تو دوسری طرف یہ اللہ کریم کی طرف سے اہلِ ایمان کے لیے رمضان المبارک کی عبادت و ریاضت کا انعام، اعزاز و اکرام اور مسرّت و شادمانی کا دن ہے… عید مسلم اُمّہ کے توحیدی مزاج اور دینی و ملّی اقدار کی پوری طرح آئینہ داربھی ہے… اسلامی تہذیب و شائستگی کا یہ جشنِ مسرّت، اہلِ ایمان کے دینی و مذہبی تشخّص کا مظہر بھی ہے…مدینہ منوّرہ میں عیدالفطر کا آغاز اسلامی معاشرت کی تشکیل کے ابتدائی دَور میں یکم شوال المکرم 2ھ /27مارچ 624ء سےہوا، یعنی دوسری ہجری میں پہلی عیدالفطر منائی گئی… اِس موقع پر نبی کریم ﷺ نے اہلِ مدینہ کو زمانۂ جاہلیت کے تہواروں کے بدلے اللہ کی طرف سے دو اسلامی عیدیں عطا ہونے کی خوش خبری سُنائی جس میں تہذیبی اصلاح کا پہلو نمایاں تھا کہ یہ محض مذہبی تبدیلی نہیں،بلکہ سماجی اقدار کی ازسرِ نو تشکیل ہے۔ زمانہ رسالت مآب میںعید کی نماز کُھلے میدان میں ادا کی جاتی تاکہ زیادہ سے زیادہ افرادایک ہی جگہ شریک ہو سکیں،اس وقت عورتوں اور بچّوں کو بھی شرکت کی ترغیب دی گئی، جو اُس اجتماعیت کی علامت ہے جو اسلامی تہذیب کا بنیادی وصف ہے…حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں عید کے دن خوشی، صفائی، بہترین لباس اور خوش بُو کا استعمال مستحب قرار دیا گیا ہے۔یہ ہدایات اِس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اسلام روحانیت کو جمالیات سے جُدا نہیں کرتا… صدقۂ فطر کو نماز سے پہلے ادا کرنے کی تاکید کی گئی تاکہ معاشرے کا کم زور طبقہ بھی عید کی خوشی میں شریک ہو سکے… عید کے خطبے میں تقویٰ، اخوت اور سماجی ذمّے داری کی تلقین کی جاتی تھی۔ اِس طرح عہدِ نبوی میں عیدالفطر عبادت، تہذیب اور سماج کے باہمی ربط کی واضح مثال بن گئی جو بعد کے ادوار میں اسلامی تہذیب کی تشکیل کا اہم ستون ثابت ہوئی اور یوں عیدالفطر ایک اسلامی اور سماجی تہوار بن گیا۔ جیسا کہ شروع میں عرض کیا کہ عید الفطر اللہ کریم کی طرف سے اہلِ ایمان کے لیے رمضان المبارک کی عبادت و ریاضت کا انعام اور اعزاز و اکرام پانے کا دن ہے… چنانچہ حضرت عبداللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ’’آسمانوں پر عیدالفطر کی رات کا نام’’لیلۃ الجائزہ‘‘ یعنی’’انعام کی رات‘‘ ہے۔ جب لوگ عیدگاہ کی طرف جاتے ہیں، تواللہ تعالیٰ فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے۔ ’’بتاؤاُس مزدور کا کیا بدلہ ہے، جو اپنا کام پورا کرچُکا ہو؟‘‘۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ ’’اے معبود و مالک! اُس کا بدلہ یہی ہے کہ اُسے پوری مزدوری دے دی جائے‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اے فرشتو! مَیں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ مَیں نے اپنے ان بندوں کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے عوض اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی‘‘۔پھر بندوں کو مخاطب کرکے ارشاد فرماتا ہے’’ میری عزّت و جلال کی قسم ، مَیں تمہیں مجرموں کے سامنے رسوا نہ کروں گا، بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لَوٹ جائو، تم نے مجھے راضی کردیا اور مَیں تم سے راضی ہوگیا‘‘۔(الترغیب و الترہیب) ’’عید‘‘ کے ایک معنی توجّہ کرنے کے ہیں… چوں کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ اپنے عاجز و بے بس بندوں پر رمضان المبارک میں کی گئی عبادات اور نیک اعمال کے سبب ان پر رحم و کرم فرماتا ہے، اُنہیں اعزاز و اکرام سے نوازتا ہے، اِس لیے اللہ کی خاص عنایات، فضل و کرم اور خصوصی توجّہ کی وجہ سے اسے عید کہا جاتا ہے۔ اسلام میں عید کا فلسفہ اور پس منظر اِس حدیث شریف سے واضح ہے چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ جب مکّے سے ہجرت فرما کر مدینۂ منوّرہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ جن کی ایک بڑی تعدادپہلے ہی دائرۂ اسلام میں داخل ہوچُکی تھی وہ جشن و مسرّت کے دو تہوار منایا کرتے تھے۔علامہ محمود آلوسی لکھتے ہیں۔’’ مدینے والوں کے کھیل کود اور پُرمسرّت تہوار کے یہ دو دن، نوروز اور مہرجان تھے‘‘۔حضور اکرمﷺ نے اُن سے دریافت فرمایا کہ ’’یہ دو دن جو تم مناتے ہو، ان کی کیا حقیقت ہے؟‘‘اُنہوں نے عرض کیا۔ ’’ہم قبل از اسلام سے یہ دو تہوار منایا کرتے ہیں۔حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے ان دو تہواروں کے بدلے اب ان سے بہتر دو دن تمہارے لیے مقرّر فرما دیے ہیں، یومِ عیدالاضحی اور یومِ عید الفطر۔‘‘ (سنن ابو دائود)۔ اِن دونوں دنوں کو اِس لیے بدل دیا گیا کہ اسلام میں عید منانے کا سبب دینی شعار کو بلند کرنا ہے…حضور اکرم ﷺنے عید کے موقع پر زینت و آرائش کے ساتھ ایک اور بات کا اضافہ بھی فرمایا،کہ اس روز اللہ کا ذکر اور اُس کی عبادت بھی کی جائے۔ آپﷺ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا کوئی بھی اجتماع اور مذہبی تہوار اعلائے کلمۃ اللہ سے خالی نہ ہو… تبھی عیدین میں تمام مسلمان صبح سب سے پہلے سب ملکراجتماعی طور پر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں جسے نماز عید کہا جاتا ہے جو اسلامی سماجی اتحاد کا بہترین منظرہوتا ہے …اسلام میں کسی تاریخی فتح یا قومی نجات کے دن کو بطور مذہبی تہوار منتخب نہیں کیا گیا بلکہ اس نے اپنی ملّت کی عمومی خوشی اور اظہارِ مسرّت کے لیے وہ دن منتخب کیا، جو نزولِ وحی کے مہینے رمضان کے اختتام پر آتا ہے … دوسری جانب یہ امر بھی پیشِ نظر رہے کہ اسلام نے ’’عید‘‘ کے پُرمسرّت دینی و ملّی تہوار کے موقع پر اظہارِ مسرّت اور ان تہوار کو منانے کی اجازت تو دی، تاہم ایک مخصوص ضابطے کے ساتھ۔ اور وہ یہ ہے کہ مسرّت میں مسلمان اپنے خالقِ حقیقی کو یاد رکھیں اور اپنے فرائضِ بندگی کی تکمیل سے ہر گز غافل نہ ہوں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ پانچ چیزیں عید کی روشن اور حقیقی علامت ہیں،جس نے انہیں پا لیا اس نے حقیقی عید پا لی۔ (1) اللہ کا خوف اور اُس کی خشیّت، جو بندے کو گناہوں سے محفوظ رکھتے اور اطمینانِ قلب عطا کرتے ہیں۔ (2) گناہوں پر ندامت، جو بندۂ مومن کو شیطان کے مکرو فریب سے بچاتی اور آخرت کا خوف دِلاتی ہے۔ (3) عاجزی، انکساری اور اعترافِ بندگی، جس کی بدولت بندۂ مومن پُلِ صراط سے بآسانی گزر جائے گا۔ (4) اطاعتِ الٰہی، جو بندے کو جنّت کی بشارت دیتی ہے۔ (5) حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پابندی، جو بندے کو رضائے الٰہی تک پہنچاتی ہے۔ پس جس نے اِن پانچ چیزوں کو پالیا، اُس کی عید، حقیقی عید ہوگی۔ ؎ لیس العیدُ لمن تبخّر بالعُود انّما العیدُ التّائبُ الّذی لایعُودُ (عید اُس کے لیے نہیں جو عُود سلگا کر خوش بُو حاصل کرے، (حقیقی) عید دارصل اُس کی ہے جو عید کے روز ایسی توبہ کرے کہ پھر گناہ کی طرف کبھی نہ لَوٹے) روایات میں آتا ہے کہ حضور اکرمﷺ عید کے دن یہ دُعا مانگا کرتے تھے: ’’اے پروردگار! ہم تجھ سے پاک و صاف زندگی اور ایسی ہی عمدہ موت طلب کرتے ہیں۔ ہمارا لَوٹنا ذلّت و رسوائی کا نہ ہو۔ اےپروردگار! ہمیں اچانک ہلاک نہ کرنا، نہ اچانک پکڑنا، اور نہ ایسا کرنا کہ ہم حق ادا کرنے اور وصیّت کرنے سے بھی رہ جائیں۔ اےپروردگار! ہم حرام سے اور دوسروں کے سامنے سوال بننے کی فضیحت سے بچنے کی دُعا کرتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھ سے پاکیزہ زندگی، نفس کا غنیٰ، بقا، ہدایت و کام یابی اور دنیا و آخرت کے انجام کی بہتری طلب کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار! ہم شکوک و شبہات اور آپس میں نفاق، ریا، بناوٹ اور دین کے کاموں میں دِکھاوے کے عمل سے پناہ چاہتے ہیں۔ اے دِلوں کے پھیرنے والے ربّ! ہمارے دل ہدایت کی طرف پھیرنے کے بعد ٹیڑھے نہ کرنا اور ہمیں اپنی طرف سے خاص رحمت عطا فرما، بے شک تُو سب کچھ عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ ’’عیدالفطر‘‘ایک ایسا اسلامی ا ور سماجی تہوار(EID-UL-FITR ISLAMIC AND SOCIAL FESTIVAL) ہے جو ایک ماہ کی روحانی ریاضت کے بعد اجتماعی مسرّت کی صُورت جلوہ گر ہوتا ہے … رمضان المبارک کے اختتام پر یہ دن شُکرگزاری، انکسار اور باہمی الفت کا عملی اظہار بن جاتا ہے … عیدالفطر کا تصوّر محض ایک عبادت کے بعد خوشی منانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ تہذیبی شناخت، خاندانی نظام اور معاشرتی اور سماجی اقدار کے استحکام کا ذریعہ بھی ہے … اِس تہوار کے ذریعے فرد اور معاشرہ، دونوں اپنی دینی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ نمازِ عید کے اجتماعات میں مختلف طبقات کے افراد ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر مساوات کی علامت بن جاتے ہیں، پھر عیدالفطر کی تقریبات میں جو تنوّع پایا جاتا ہے، وہ مقامی تاریخ، لسانی شناخت اور معاشی حالات سے گہرا تعلق رکھتا ہے …اگرچہ ہر شہرو ملک کی تہذیبی روایت اِس تہوار کو ایک جُداگانہ رنگ عطا کرتی ہے، تاہم اس کے بنیادی دینی عناصرسب جگہ یک ساں رہتے ہیں۔ ٭٭٭ |
|