تین دیس ایک دل، ایک دلکش سفرنامہ تحریر: ڈاکٹر فرید احمد پراچہ

تین دیس ایک دل، ایک دلکش سفرنامہ
تحریر: ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
سفرنامہ صرف راستوں کی کہانی نہیں ہوتا بلکہ وہ دلوں، تہذیبوں اور تجربوں کا بیان بھی ہوتا ہے۔ جب کوئی صاحبِ قلم سفر کرتا ہے تو وہ صرف شہروں اور عمارتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ انسانوں، ثقافتوں اور تاریخ کے دھاروں کو بھی محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے اچھا سفرنامہ نگار قاری کو یوں ساتھ لے کر چلتا ہے جیسے وہ خود شریک سفرہو۔
ایسی ہی ایک دلکش اور بامعنی تصنیف "تین دیس ایک دل "ہے جس کے مصنف معروف سفرنامہ نگار طارق محمود مرزا ہیں۔
طارق محمود مرزا کا تعلق بنیادی طور پر پاکستان سے ہے لیکن گزشتہ تقریباً تیس برس سے وہ آسٹریلیا میں مقیم ہیں اگرچہ وہ کاروبار سے وابستہ ہیں لیکن آسٹریلیا کی نامور ترین ادبی شخصیت، مدیر اور وہاں ایک فعال کالم نگار کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ ادب، تاریخ اور فکر کے ساتھ ان کی وابستگی کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ علامہ اقبال کے نہ صرف بڑے مداح ہیں بلکہ فکر اقبال پر ایک کتاب بھی تحریر کر چکے ہیں۔
سفرنامہ نگاری ان کا خصوصی شعبہ ہے اور اس سے پہلے ان کے سفرناموں میں سفرِ ِعشق (جو دراصل سفرِ حج کی رُوداد ہے)، ملکوں ملکوں دیکھا چاند،خوشبو کا سفر،دنیا رنگ رنگیلی،جیسے دلکش سفرنامے شامل ہیں۔
ان کی تازہ تصنیف'' تین دیس ایک دل'' دراصل تین مسلم ممالک کے سفر کی کہانی ہے۔ اس کتاب میں قاری کو بیک وقت ترکی، ملائیشیا اور انڈونیشیا کی سیر کروائی گئی ہے۔ لیکن یہ سیر محض جغرافیے کی سیر نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ اور معاشرت کی ایک زندہ تصویر بھی ہے۔
ملائیشیا کے سفر میں مصنف ہمیں کوالالمپور کی رونقوں سے متعارف کرواتے ہیں۔ بلند عمارتیں، منظم شہری زندگی اور ایک ترقی یافتہ مسلم معاشرے کی جھلک قاری کے سامنے آ جاتی ہے۔انہوں نے وہاں کی معاشرت مختلف تہذیبوں کے باشندوں خصوصا پاکستانیوں کے حالات خوبصورت انداز میں لکھے ہیں۔
اسی طرح ترکی کے سفر میں وہ ہمیں استنبول کی تاریخ، قونیہ کی روحانیت، انطالیہ کے حسن اور ازمیر کی تہذیبی فضا میں لے جاتے ہیں۔
پھر جب سفر انڈونیشیا کی طرف بڑھتا ہے تو بالی جزیرہ کی رنگینیوں اور فطری حسن کی جھلکیاں سامنے آتی ہیں۔
طارق محمود مرزا کی تحریر کی خاص بات یہ ہے کہ وہ معلومات کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ قاری کو کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ کوئی سبق پڑھ رہا ہے۔ بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف کے ساتھ ساتھ چل رہا ہو۔ قدم قدم پر شہر بھی سامنے آتا ہے، لوگ بھی ملتے ہیں، تاریخ بھی جھانکتی ہے اور زندگی کے رنگ بھی نظر آتے ہیں۔
ان کے سفرنامے کی ایک اور دلکش بات یہ ہے کہ اس میں محض مقامات کا ذکر نہیں بلکہ انسانی مشاہدات بھی شامل ہیں۔ کہیں خوبصورت مناظر ہیں، کہیں دلچسپ واقعات، کہیں اچانک مل جانے والے کردار، اور کہیں زندگی کی چھوٹی چھوٹی کہانیاں۔ مصنف خود اگرچہ اب پوتوں نواسوں والے ہیں، لیکن ان کی تحریر میں جوانی کی شوخی اور مشاہدے کی تازگی آج بھی موجود ہے۔
اس کتاب میں ایک اور نمایاں پہلو پاکستانیت ہے۔ جہاں بھی جاتے ہیں، دل میں پاکستان ساتھ ہوتا ہے۔ مختلف ممالک کی ترقی اور نظم و ضبط کو دیکھتے ہوئے قاری کو بھی احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنے ملک کو بہتر بنانے کے لیے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
میری ذاتی طور پر بھی مصنف سے ایک تعلق کی نسبت ہے۔ ان کے بھائی خالد محمود مرزا راولپنڈی میں جماعت اسلامی کے سرگرم رہنما ہیں اور ان کے ذریعے اس خاندان سے تعلق بنا۔ مجھے ان کے دو سفرناموں کی افتتاحی تقاریب میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں بطور مہمان خصوصی شرکت کا موقع بھی ملا۔ اس لیے اس کتاب کے ساتھ ایک ذاتی اور دوستانہ نسبت بھی جڑی ہوئی ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ تین دیس ایک دل صرف ایک سفرنامہ نہیں بلکہ تین ممالک کی تہذیب، تاریخ، معاشرت اور انسانی تجربات کی ایک دلکش روداد ہے۔ یہ کتاب قاری کو سفر کی لذت بھی دیتی ہے، معلومات بھی فراہم کرتی ہے اور سوچنے کے لیے نئے زاویے بھی عطا کرتی ہے۔
 
Tariq Mirza
About the Author: Tariq Mirza Read More Articles by Tariq Mirza: 56 Articles with 58251 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.