# **پنڈی نامہ: ناک والا سکینر، لوڈشیڈنگ سے نجات اور اپنے ہی لوگوں کا حساب!**
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کافی عرصے بعد گھر سے نکلنے کا موقع ملا۔ ویسے آج کل گھر سے نکلنا بھی ایک مہم سے کم نہیں۔ ایک طرف پشاور کی شدید گرمی، دوسری طرف لوڈشیڈنگ، اور تیسری طرف مہنگائی۔ ایسے میں اگر کوئی کہہ دے کہ راولپنڈی چلنا ہے تو انسان پہلے بجلی کا شیڈول دیکھتا ہے، پھر جیب کا، اور آخر میں ہمت کا۔
ایک عزیز کے ہاں راولپنڈی کے قریب ٹھنڈی جانے کا پروگرام بنا تو سوچا چند دن کے لیے ماحول بدلے گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ سفر مجموعی طور پر آرام دہ رہا، اگرچہ گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھے دو مسافر ایسے آرام سے بیٹھے تھے جیسے گاڑی ان کی ذاتی ملکیت ہو۔ ایک کے پاؤں اگلی سیٹ پر تھے اور دوسرے نے پوری نشست پر قبضہ جما رکھا تھا۔ خیر، ایسے مسافر ہر سفر کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔
اصل کہانی اس وقت شروع ہوئی جب موٹروے ختم ہوئی اور گاڑی راولپنڈی کی حدود میں داخل ہوئی۔ اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے گاڑی روکی۔ ہر مسافر سے پوچھا، "کہاں سے آئے ہو؟" پھر ایک شخص کا بیگ اٹھایا، ناک کے قریب کیا اور پوری توجہ سے سونگھنا شروع کر دیا۔
میں چند لمحے خاموش رہا۔ پھر دل میں خیال آیا کہ شاید پنجاب پولیس نے دنیا کی پہلی "ناک والی سکینر ٹیکنالوجی" ایجاد کر لی ہے۔ اگر واقعی صرف سونگھ کر منشیات پکڑی جا سکتی ہیں تو پھر دنیا بھر کے ایئرپورٹس پر لگے اربوں روپے کے سکینرز ہٹا دینے چاہئیں اور یہ اہلکار اقوام متحدہ کو تحفے میں دے دینا چاہیے۔
لیکن اس واقعے نے ایک تلخ سوال ضرور پیدا کیا۔ کیا پشاور یا خیبر پختونخوا سے آنے والا ہر شخص پہلے سے مشکوک سمجھا جاتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ صرف ایک مسافر کی نہیں بلکہ پورے صوبے کی توہین ہے۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، شک بھی برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے، صرف شناخت یا شہر کی بنیاد پر نہیں۔
فیض آباد پہنچ کر اگلا تجربہ بائیک والے کے ساتھ ہوا۔ میں نے پشتو میں بات کی تو اس نے خوشی سے جواب بھی پشتو میں دیا، لیکن کرایہ ڈیڑھ سو سے سیدھا تین سو روپے کر دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جناب خود نوشہرہ کے رہائشی ہیں۔ اس وقت احساس ہوا کہ بعض اوقات اپنا آدمی ہی سب سے مہنگا پڑ جاتا ہے۔ واپسی پر ایک مقامی راولپنڈی والے نے وہی فاصلہ صرف ڈیڑھ سو روپے میں طے کرا دیا۔ اس دن یہ سبق بھی ملا کہ ہر دھوکہ باہر والا نہیں دیتا، کبھی کبھی اپنا بھی جیب ہلکی کر دیتا ہے۔
جس علاقے میں جانا تھا وہاں پہنچ کر ایک اور حیرت انتظار کر رہی تھی۔ بازار میں اتنا رش تھا کہ پشاور کا صدر بازار بھی پیچھے رہ جائے، لیکن اس رش میں ایک چیز نمایاں تھی۔ خواتین بڑی تعداد میں خریداری کر رہی تھیں، سکوٹیاں چلا رہی تھیں، بازاروں میں آزادانہ گھوم رہی تھیں اور کسی کی نظریں ان کا پیچھا نہیں کر رہی تھیں۔ ہمارے ہاں اکثر لوگوں کی توجہ سامان خریدنے سے زیادہ لوگوں کو دیکھنے پر ہوتی ہے، لیکن یہاں ہر شخص اپنے کام میں مصروف تھا۔ یہ فرق سڑکوں کا نہیں، معاشرتی رویوں کا تھا۔
بارش کے بعد گلیوں میں پانی کھڑا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ اس علاقے کو حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ یہاں بھی حکومت پر تنقید ہو رہی تھی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ شکایت صرف خیبر پختونخوا والوں کا مقدر نہیں، پنجاب والے بھی اپنے مسائل کا رونا رو رہے ہیں۔
نماز عصر کے لیے مسجد تلاش کی تو کافی دور جا کر مسجد ملی، مگر دروازہ بند تھا۔ باہر بیٹھے ایک بزرگ نے بتایا کہ جماعت ہو چکی ہے، اگر نماز پڑھنی ہے تو اندر جا کر پڑھ لو پھر دروازہ بند کر دینا۔ یہ منظر دیکھ کر دل میں سوال آیا کہ اللہ کے گھر کے دروازے نماز ختم ہوتے ہی کیوں بند کر دیے جاتے ہیں؟ مسجد صرف نمازیوں کی نہیں، مسافروں کی بھی پناہ گاہ ہونی چاہیے۔
شام کو ایک دعوت میں شرکت ہوئی۔ بتایا گیا کہ علاقے کا بہت مشہور باورچی کھانا تیار کر رہا ہے۔ دکان کے باہر بورڈ اتنا بڑا تھا کہ لگتا تھا دنیا کا بہترین کھانا یہیں ملے گا۔ اندر گئے تو استاد دیگ پر کھڑے تھے اور شاگرد موبائل میں مصروف تھا۔ جب چاول پلیٹ میں آئے تو دل نے اپنے محلے کے باورچی سے دل ہی دل میں معافی مانگی۔ نام بڑا تھا، ذائقہ معمولی تھا۔ اس دن سمجھ آیا کہ شہرت اور معیار ہمیشہ ساتھ ساتھ نہیں چلتے۔
لیکن سب سے بڑا جھٹکا رات کو لگا۔
بجلی نہیں گئی۔
ایک گھنٹہ گزرا، دو گھنٹے گزرے، پھر بھی بجلی موجود۔
میں نے پوچھا، "لوڈشیڈنگ کب ہوتی ہے؟"
جواب ملا، "یہاں تقریباً نہیں ہوتی، صرف گیس رات بارہ سے صبح پانچ بجے تک بند رہتی ہے۔"
یہ سن کر مجھے اپنے پشاور کی یاد آ گئی، جہاں بجلی آنا خبر اور جانا معمول بن چکا ہے۔ ہمارے لیے پنکھا بھی کسی نعمت سے کم نہیں رہا، جبکہ یہاں لوگ اے سی میں بیٹھ کر شکایت کر رہے تھے کہ موسم زیادہ گرم ہے۔
اس لمحے دل میں ایک سوال ضرور پیدا ہوا۔ آخر خیبر پختونخوا کے عوام کا قصور کیا ہے؟ کیا ہم اس ملک کے برابر کے شہری نہیں؟ اگر ایک صوبے میں بجلی مسلسل مل سکتی ہے تو دوسرے میں کیوں نہیں؟
قصور صرف وفاق یا کسی ایک ادارے کا نہیں۔ ہمیں اپنے سیاسی رویوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہم نے ایسے نمائندے منتخب کیے ہیں جو اکثر جلسوں، جلوسوں، تعزیتوں اور سیاسی بیانات میں زیادہ مصروف دکھائی دیتے ہیں، جبکہ عوام کے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ بجلی، گیس، پانی، روزگار اور صحت جیسے مسائل پر مستقل اور سنجیدہ توجہ کم نظر آتی ہے۔
ایک اور دلچسپ بات یہ تھی کہ راولپنڈی کے لوگ بھی روزگار نہ ہونے کی شکایت کر رہے تھے۔ حالانکہ وہاں کاروبار، صنعت، فوجی ادارے اور تجارتی سرگرمیاں کہیں زیادہ ہیں۔ تب احساس ہوا کہ انسان کی فطرت شاید یہی ہے۔ ہر شخص اپنے سے اوپر والے کو دیکھتا ہے، نیچے والے کو کم دیکھتا ہے۔
واپسی پر جب بائیک کا کرایہ آدھا نکلا تو دل میں صرف ایک جملہ آیا، "اپنا حساب کبھی کبھی باہر والوں سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔"
راستے میں ایک پرانی یاد بھی تازہ ہوئی۔ طالب علمی کے زمانے میں پشاور سے راولپنڈی کا کرایہ صرف چونتیس روپے ہوا کرتا تھا اور طلبہ کو آدھا ٹکٹ بھی مل جاتا تھا۔ آج یہی سفر آٹھ سو سے ایک ہزار روپے میں ہوتا ہے۔ وقت بدل گیا، قیمتیں بدل گئیں، حکومتیں بدل گئیں، مگر عوام کی شکایتیں نہیں بدلیں۔
اس پورے سفر کا خلاصہ صرف اتنا ہے کہ پشاور ہو یا راولپنڈی، مسائل ہر جگہ موجود ہیں۔ فرق صرف ان کی نوعیت کا ہے۔ کہیں بجلی کا مسئلہ ہے، کہیں روزگار کا، کہیں نکاسی آب کا اور کہیں عوام کے ساتھ رویوں کا۔ البتہ ایک چیز ضرور نئی دیکھی، وہ تھی ناک سے تلاشی لینے والی پولیس۔ اگر واقعی اس ناک میں سکینر لگا ہے تو اسے قومی اثاثہ قرار دینا چاہیے، کیونکہ ایسی ایجاد ابھی تک سائنس کی دنیا بھی نہیں کر سکی۔
**#Rawalpindi #Peshawar #TravelDiary #HumorColumn #Satire #Pakistan #Islamabad #LoadShedding #PublicTransport #Journalism #KhyberPakhtunkhwa #Punjab #TravelExperience #PakistaniSociety #OneGo**
|