اسٹریٹجی-II پر ایک سال کی خاموشی: پالیسی کہاں ہے اور عمل کہاں؟

خیبر پختونخوا کی اسپورٹس پالیسی 2018 نے ایک بڑا دعویٰ کیا تھا۔ کھیل کو صرف محکمہ جاتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک معاشی شعبہ بنایا جائے گا۔ نجی سرمایہ کاری آئے گی، سابق کھلاڑیوں کو روزگار ملے گا، کھیل مراکز منظم ہوں گے، اور چیمبر آف کامرس کے ساتھ شراکت ہوگی۔ اس تصور کو اسٹریٹجی-II کا نام دیا گیا۔سوال سادہ ہے۔ کیا یہ سب ہوا بھی ہے یا صرف کاغذ میں موجود ہے؟

ایک صحافتی معلوماتی درخواست ایک سال سے زیر التوا ہے۔ اس میں کوئی سیاسی نعرہ نہیں۔ صرف پالیسی کے عملدرآمد سے متعلق سوالات ہیں۔ یہ پوچھا گیا ہے کہ اسٹریٹجی-II کے تحت اب تک کون سے عملی اقدامات کیے گئے، کتنے نجی مراکز رجسٹر ہوئے، کتنے ریٹائرڈ کھلاڑیوں کو روزگار ملا، اور کیا کوئی قانونی فریم ورک تیار ہوا؟اگر یہ سب موجود ہے تو دستاویزات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں؟ اگر موجود نہیں تو پھر پالیسی کی تشریح اور زمینی حقیقت میں فرق کیوں ہے؟

پالیسی کہتی ہے کہ نجی شعبہ کھیل کے انفراسٹرکچر میں سرمایہ لگائے گا۔ لیکن سرمایہ کاری صرف بیان سے نہیں آتی۔ اس کے لیے واضح نظام، ترغیبات، رجسٹریشن کا طریقہ کار اور نگرانی ضروری ہوتی ہے۔کیا محکمہ نے کوئی باقاعدہ ماڈل بنایا؟ کیا کسی کو منتخب کیا گیا؟ کیا کوئی معاہدے ہوئے؟ اگر ہوئے ہیں تو ریکارڈ کہاں ہے؟ اگر نہیں ہوئے تو اس کی وضاحت کیوں نہیں دی جا رہی؟بغیر شفاف نظام کے نجی سرمایہ کاری صرف ایک تصور رہ جاتی ہے۔

کھیل کی دنیا میں سب سے کمزور طبقہ اکثر وہ ہوتا ہے جو کھیل سے ریٹائر ہو چکا ہوتا ہے۔ پالیسی اگر صنعت کی بات کرتی ہے تو اس میں سابق کھلاڑیوں کے لیے ملازمت کا راستہ ہونا چاہیے۔سوال یہ ہے کہ کتنے ریٹائرڈ کھلاڑیوں کو نجی کھیل مراکز میں ملازمت دی گئی؟ کیا اس کا کوئی ڈیٹا موجود ہے؟ اگر محکمہ اس کا ریکارڈ نہیں رکھتا تو پھر پالیسی کی نگرانی کیسے ہو رہی ہے؟اعداد و شمار کے بغیر دعوے قابلِ تصدیق نہیں ہوتے۔

اگر نجی کھیل مراکز قائم ہو رہے ہیں تو ان کی درجہ بندی ہونی چاہیے۔ A، B، C جیسے معیار نہ ہوں تو معیار کیسے طے ہوگا؟کیا رجسٹریشن کے لیے معیارات بنائے گئے؟ کیا حفاظتی ضابطے جاری کیے گئے؟ کیا انسپیکشن رپورٹس تیار ہوتی ہیں؟صنعت کے نام پر کام تب ہی معتبر ہوتا ہے جب نگرانی کا مضبوط نظام موجود ہو۔ ورنہ یہ صرف خودمختار سرگرمی بن جاتی ہے۔
کھیل کو صنعت بنانے کے لیے کاروباری طبقے کی شمولیت ناگزیر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا چیمبر آف کامرس کے ساتھ عملی منصوبے بنے؟ کیا مشترکہ فورمز ہوئے؟ کیا سرمایہ کاروں کو باضابطہ مدعو کیا گیا؟اگر تعاون ہوا ہے تو اس کے ثبوت کیوں دستیاب نہیں؟اصل سوال: صنعت بنی بھی ہے یا نہیں؟کھیل کی صنعت صرف لفظ نہیں ہوتی۔ اس کی پہچان ہوتی ہے۔ نجی سرمایہ کاری کا بہاو¿، برآمدات، مینوفیکچرنگ، روزگار کے اعداد و شمار، اور رپورٹنگ کا نظام۔

اگر یہ عناصر موجود ہیں تو انہیں سامنے لانا چاہیے۔ اگر نہیں ہیں تو پھر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اسٹریٹجی-II ابھی عملی مرحلے میں داخل نہیں ہوئی۔ ایک سال کی خاموشی اس شک کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ یا تو ریکارڈ منظم نہیں، یا عملدرآمد محدود ہے، یا شفافیت کا نظام کمزور ہے۔ کسی بھی پالیسی کی کامیابی اس کے دستاویزی ثبوت سے ثابت ہوتی ہے۔ اگر فائلیں موجود ہیں تو انہیں عوامی معلومات کے تحت فراہم کیا جانا چاہیے۔ اگر نہیں ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ منصوبہ بندی کہاں ہے اور جوابدہی کہاں؟

اسپورٹس پالیسی 2018 نے ایک امید دی تھی کہ کھیل کو معاشی شعبہ بنایا جائے گا۔ لیکن امید تب حقیقت بنتی ہے جب اس کے پیچھے نظام، نگرانی اور شفافیت ہو۔ایک سال کی تاخیر صرف ایک درخواست کا مسئلہ نہیں۔ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ سرکاری پالیسیوں پر عملدرآمد کتنا سنجیدہ ہے۔ اگر اسٹریٹجی-II واقعی فعال ہے تو اس کا ریکارڈ سامنے آنا چاہیے۔ اگر نہیں ہے تو پھر اس پر واضح جواب دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔کھیل کو صنعت بنانے کا دعویٰ صرف اسی وقت معتبر ہوگا جب اس کے ثبوت بھی دستیاب ہوں۔

#RTI #SportsPolicy2018 #KPKSports #Transparency #RightToInformation #Accountability #SportsGovernance #PrivateSector #SportsIndustry #InvestigativeJournalism

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1011 Articles with 783041 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More