عقیدہ اور جذباتی شناخت


عقیدہ اور جذباتی شناخت ایک چیز نہیں ہیں۔ عقیدہ فرد کا اندرونی یقین ہوتا ہے، جو خاموشی سے دل میں رہتا ہے، دلیل سے متاثر ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ پختہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جذباتی شناخت وہ اجتماعی احساس ہے جو فرد کو کسی گروہ سے جوڑتا ہے اور اکثر ردعمل کے طور پر ابھرتا ہے
گزشتہ برس کی آخری سہ ماہی میں یہ خبر زیرِ بحث رہی کہ ڈنمارک سے ایک بڑی شپنگ کمپنی کا سربراہ پاکستان آنے والا ہے تاکہ کراچی کی بندرگاہ کو گہرا کرنے جیسے منصوبے پر گفتگو ہو سکے، جس سے وہ بڑے جہاز جو اس وقت دبئی تک محدود ہیں، براہِ راست یہاں آ سکیں۔ مگر اسی دوران ملک میں احتجاجی سرگرمیاں شروع ہو گئیں، راستے بند ہوئے اور غیر یقینی کی فضا پھیل گئی۔ یہ واقعہ اپنی جزئیات میں خواہ جیسا بھی ہو، اس نے ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کیا کہ آخر کیوں ہمارے ہاں معاشی امکانات کے ساتھ ساتھ عدم استحکام کا سایہ بھی نمودار ہو جاتا ہے۔
اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے ایک اہم فرق کو پہچاننا ضروری ہے: عقیدہ اور جذباتی شناخت ایک چیز نہیں ہیں۔ عقیدہ فرد کا اندرونی یقین ہوتا ہے، جو خاموشی سے دل میں رہتا ہے، دلیل سے متاثر ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ پختہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جذباتی شناخت وہ اجتماعی احساس ہے جو فرد کو کسی گروہ سے جوڑتا ہے اور اکثر ردعمل کے طور پر ابھرتا ہے۔ عقیدہ انسان کو سنجیدہ بناتا ہے، جبکہ جذباتی شناخت اسے فوری ردعمل کی طرف مائل کرتی ہے۔ جب مذہب عقیدے کے طور پر زندہ ہو تو وہ اخلاق، تحمل اور ذمہ داری پیدا کرتا ہے، لیکن جب وہ جذباتی شناخت بن جائے تو وہ ہجوم، نعرہ اور تصادم میں بدل سکتا ہے۔ یہی وہ باریک مگر فیصلہ کن لکیر ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں بعض مذہبی سیاسی حلقے عوامی جذبات کو متحرک کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ صلاحیت بذاتِ خود کوئی جرم نہیں، مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جذباتی شناخت کو اس طرح ابھارا جائے کہ فرد سوچنے کے بجائے صرف ردعمل دینے لگے۔ غربت، تعلیمی پسماندگی اور معاشی محرومی اس عمل کو اور آسان بنا دیتی ہیں، کیونکہ محروم انسان فوری معنی اور فوری طاقت کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اسے جب یہ احساس دیا جائے کہ وہ کسی مقدس مقصد کا محافظ ہے تو وہ بغیر سوال کیے ہر آواز پر لبیک کہنے کو تیار ہو جاتا ہے، چاہے اس کا نتیجہ ملک کے معاشی مفاد کے خلاف ہی کیوں نہ نکلے۔
بین الاقوامی سرمایہ کار کسی ملک میں آنے سے پہلے صرف وسائل نہیں دیکھتے بلکہ ماحول بھی دیکھتے ہیں۔ ان کے لیے سب سے اہم چیز پیش گوئی کی صلاحیت ہوتی ہے — یعنی حالات کتنے مستحکم اور پرامن ہیں۔ جب بار بار احتجاج، بندشیں اور اچانک بحران سامنے آئیں تو سرمایہ کار کے ذہن میں یہ تاثر بنتا ہے کہ یہاں جذبات اداروں سے زیادہ طاقتور ہیں۔ سرمایہ کار ہمیشہ وہاں جاتا ہے جہاں فیصلے جتھے نہیں بلکہ نظام کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ مذہب نہیں بلکہ اس کا استعمال ہے۔ عقیدہ جب دل میں رہتا ہے تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے، مگر جب اسے جذباتی شناخت میں بدل کر سڑک پر اتار دیا جائے تو وہ طاقت کے کھیل کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نسلوں سے غربت میں جکڑے لوگ غیر محسوس طریقے سے کسی اور کے مقصد کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اگر ریاست، معاشرہ اور قیادت اس فرق کو سمجھ کر تعلیم، معاشی مواقع اور شعور کو ترجیح دیں تو مذہب اخلاقی قوت بن سکتا ہے؛ ورنہ وہی قوت جذباتی ہتھیار بن کر ہر نئے موقع کو خطرے میں ڈالتی رہے گی۔
 
Dilpazir Ahmed
About the Author: Dilpazir Ahmed Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 276 Articles with 248653 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.