ایشیا ، عالمی معیشت کا ابھرتا ہوا مرکز

ایشیا ، عالمی معیشت کا ابھرتا ہوا مرکز
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا کی معیشت اس وقت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ترقی کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں۔ ماضی میں مغربی ممالک کو عالمی معاشی طاقت سمجھا جاتا تھا، مگر اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور ایشیا ایک مضبوط اور متحرک خطے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔اسی تناظر میں حالیہ جائزوں اور عالمی فورمز پر ہونے والی گفتگو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایشیا نہ صرف ترقی کر رہا ہے بلکہ عالمی معیشت کا مرکزی انجن بنتا جا رہا ہے۔ یہی حقیقت بواؤ ایشیائی فورم کی تازہ رپورٹ میں بھی واضح طور پر سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2026 میں ایشیائی معیشت کی شرح نمو تقریباً 4.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ عالمی جی ڈی پی میں اس کا حصہ بڑھ کر تقریباً 49.7 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایشیا اب عالمی معیشت میں نصف کے قریب حصہ رکھتا ہے۔یہ پیش رفت محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک طویل المدتی تبدیلی کا نتیجہ ہے جسے بعض ماہرین "ایشیائی صدی" کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔

ایشیا آج دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش خطہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر چین اور آسیان ممالک سرمایہ کاری کے بڑے مراکز کے طور پر ابھر رہے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ مضبوط معاشی بنیادیں، وسیع منڈیاں، اور پالیسیوں میں تسلسل ہے، جو عالمی سرمایہ کاروں کو اعتماد فراہم کرتا ہے۔

ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ایشیا تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی کا عالمی مرکز اب یورپ اور امریکہ سے بتدریج ایشیا کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ایشیا کی بڑی آبادی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اور متنوع اطلاقی ماحول اسے اس میدان میں نمایاں برتری دے رہے ہیں۔ اب ایشیائی ممالک صرف ٹیکنالوجی کے صارف نہیں بلکہ اس کے قائد بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ایشیا کے اندر تجارت اور تعاون میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ خطے کے ممالک اب ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ تجارت کر رہے ہیں، جس سے علاقائی انحصار بڑھ رہا ہے۔یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایشیا اب صرف عالمی ویلیو چین کا حصہ نہیں بلکہ ایک مربوط علاقائی معاشی نظام کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

ایشیا ماحولیاتی شعبے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جہاں ماضی میں یہ خطہ روایتی توانائی کا بڑا صارف تھا، اب وہ صاف اور کم کاربن توانائی کی ترقی میں قائدانہ حیثیت اختیار کر رہا ہے۔یہ تبدیلی نہ صرف ماحول کے لیے مثبت ہے بلکہ مستقبل کی معیشت کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

ایشیا کی ترقی میں چین کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی وسیع منڈی، تیز رفتار ٹیکنالوجی ترقی اور کھلی معیشت کی پالیسی کے باعث چین نہ صرف اپنی ترقی کو آگے بڑھا رہا ہے بلکہ دیگر ایشیائی ممالک کے لیے بھی مواقع پیدا کر رہا ہے۔چین کی پالیسیوں نے خطے میں اقتصادی ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے، جس سے ایشیا کی مجموعی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔

ایشیا کی معیشت اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں علاقائی تعاون، ڈیجیٹل ترقی اور پائیدار توانائی اس کے اہم ستون بن چکے ہیں۔مزید برآں، اپیک جیسے پلیٹ فارمز اس خطے میں پالیسی ہم آہنگی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس سال چین کی میزبانی میں ہونے والا اجلاس بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہوگا۔

یہ کہنا اب مبالغہ نہیں کہ ایشیا عالمی معیشت کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ مضبوط ترقی، ٹیکنالوجی میں پیش رفت، اور علاقائی تعاون نے اسے ایک ایسی طاقت بنا دیا ہے جو نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں عالمی اقتصادی نقشہ مزید تبدیل ہوگا، اور ایشیا اس تبدیلی کا سب سے بڑا محرک ثابت ہوگا۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1902 Articles with 1110071 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More