اس آرٹیکل کا مرکزی خیال بیسٹ سیلر کتاب Unlearn 101 Truths for a Better Life سے لیا گیا ہے۔
ایک بیوی نے خاوند سے کہا 'اگر میں مر جاوں تو تم کیاکرو گے' خاوند نے کہا 'پاگل ہو جاوں گا' بیوی نے پوچھا 'دوسری شادی تو نہیں کرو گے' خاوند نے جواب دیا 'پاگل کا کیا بھروسہ' بیوی نے دوبدو کہا 'پھر میں بھی چڑیل بن جاوں گی اور تمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گی' خاوند نے بال نوچے اور کہا 'مزاق کر کے پچھتایا میں نے خود موقع گنوایا'
جو بننا چاہتے تھے وہ نہ بن سکے جو کرنا چاہتے تھے وہ کر نہ سکے الجھائے رکھا دنیا نے نہ دل کی سن سکے نہ الجھانے والے کو اپنی سنا سکے
اسوقت جو تاریخ گھنٹہ منٹ اور سیکنڈ آپکے پاس ہے آپکے ساتھ گزر رہا ہے یہ دوبارہ نہیں آئے گا۔ آجکے دور میں سب سے ذیادہ انسان خود سے تنگ آیا ہوا لگتا ہے۔ غالب نے کہا تھا نا بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
ہم بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ کسی سے کال پر بات۔۔۔۔۔ پرانے تعلق دار سے کسی سے بالمشافہ ملاقات۔۔۔۔۔ بنفس نفیس ملنا کسی سے نجات۔۔۔۔۔ تنگ کرنے والے سے دور چلے جانا
کچھ نیا سیکھنا۔۔۔۔ کوئی سکِل کچھ نیا پڑھنا۔۔۔۔ کوئی ناول یا تاریخ کی کتاب کچھ نیا کھانا۔۔۔۔۔ سوشی یا چائینز۔۔۔۔۔ فیشن ہی انکا ہے کچھ مختلف دیکھنا۔۔۔۔۔ پاکستانی ہٹ مُویزاِن سینما
کچھ وقت گزارنا۔۔۔۔۔ فارغ بیٹھ کر ۔۔۔ یا کہیں پارک میں بیٹھ کر لوگ دیکھتے ہوئے کچھ وقت گزارنا ۔۔۔۔۔ سوشل میڈیا کی دوڑ میں لگے بغیر۔۔۔۔۔سکون محسوس کرنا جو دل کیا کھایا ، پہنا ، انجوائے کیا۔۔۔۔۔۔ بعض اوقات عام سے گول گپے فینسی کھانے سے ذیادہ اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔ اگر سوشل میڈیا کو بیچ میں نہ ڈالا جائے۔
وقت گزر جانے کا پچھتاوا سب سے عام ہے۔ یہ وہ شے ہے جب گزر جاتا ہے تب پتا لگتا ہے کہ یہ گزر گیا۔اسی لئے انسان کے پاس صحت اور وقت کو سب سے بڑی نعمت کہا گیا ہے۔جب تک آپ زندہ ہیں فنکشنل ہیں آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔
یہ دعویٰ کرنا کہ
کسی نے مجھے کچھ کرنے نہ دیا کسی نے میرا وقت ضائع کرا دیا۔مگر اگر ہم سکرولنگ میں گھنٹوں گزار سکتے ہیں تو اپنی پسند اور مرضی کا کام کرنے میں وقت گزارنے کے لئے بھی وقت لا سکتے ہیں۔
ہر انسان کی ذمہ داریاں الگ ہوتی ہیں۔ ہر انسان کے شوق الگ ہوتے ہیں۔ اس نے پھر انکے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے دیکھنا ہوتا ہے کہ وہ کیا کام کتنا کر سکتا ہے۔ اگر انسان ایک تین سو صفحوں کی کتاب بھی پڑھنا چاہے تو ہر دن میں پانچ پانچ صفحات پڑھ کر دو ماہ میں مکمل کتاب پڑھ سکتا ہے۔
بہت سے پچھتاو ے عمر کے لحاظ سے پروان چڑھتے ہیں۔ یا یوں کہہ لیں شکل بدلتے جاتے ہیں۔ کم عمری میں نمبر نہ اچھے آئے میٹرک میں ڈویژن اچھی آسکتی تھی۔ مگر نہ آئی۔ یونیورسٹی پسند کی نہ ملی۔ کبھی چہرے کی رنگت کبھی قد کاٹھ ان سب باتوں کو ہم پچھتاوے کے قابل سمجھتے ہیں۔
ایک مشہور قول ہے کہ بستر مرگ پر کسی نے بھی یہ خواہش نہیں کی کہ کاش آفس میں ایک دن اور گزارا ہوتا سب کو گھر والوں کا ہی خیال ستایا۔۔۔
لوگ دو طرح کے ہی ہوتے ہیں
مشکلات کے باوجود اللہ کے آگے روتے ہوئے زندگی سے جس حد تک ہو خوشی لینے والے
یا
سب کچھ ہونے کے بعد بھی شکایت کر کے کاش یہ مل جائے وہ مل جائے پچھتا پچھتا کر جینے والے
|