عربی اور قرآن norAi کے ساتھ
(Dr Wali Khan Muzaffar, Karachi)
NorAI — عربی اور قرآن ساتھ ساتھ: مستقبل کی اسلامی تعلیم کا روشن راستہ
تحریر: ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر
ماہرِ زبان و ادبِ عربی
دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ تعلیم، تحقیق، ابلاغ اور روزمرہ زندگی کے ہر شعبے میں AI اپنی افادیت ثابت کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں اگر اس جدید ٹیکنالوجی کو قرآنِ کریم اور عربی زبان کی خدمت کے لیے بروئے کار لایا جائے تو یہ ایک عظیم دینی خدمت ہوگی۔ NorAI اسی مبارک فکر کا ایک قابلِ قدر نمونہ ہے۔
میری نظر میں NorAI کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے "عربی اور قرآن ساتھ ساتھ" کے اصول کو اپنایا ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جو صدیوں سے امتِ مسلمہ کے علمی ورثے کا حصہ رہا ہے۔ قرآن سے عربی سیکھی جائے، اور عربی کے ذریعے قرآن کو سمجھا جائے۔ جب یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ چلتی ہیں تو علم بھی پختہ ہوتا ہے اور ایمان بھی تازہ ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں قرآن کی تلاوت تو عام ہے، مگر قرآن کا فہم ابھی تک عام نہیں ہو سکا۔ اس کی ایک بڑی وجہ عربی زبان سے دوری ہے۔ NorAI اس خلا کو پُر کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتا ہے۔ اس میں طالبِ علم صرف الفاظ یاد نہیں کرتا بلکہ قرآنی عربی کے ساتھ عملی تعلق قائم کرتا ہے، جس سے آیات کے معانی دل میں اترنے لگتے ہیں۔
تعلیم کا مستقبل ڈیجیٹل ہے، لیکن ڈیجیٹل ہونے کا مطلب اپنی دینی شناخت کھو دینا نہیں، بلکہ جدید ذرائع کو دین کی خدمت کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت قرآن، حدیث، عربی زبان اور اسلامی علوم کی ترویج کا ذریعہ بن جائے تو یہ ہمارے عہد کی ایک بڑی علمی کامیابی ہوگی۔
میں اساتذہ، مدارس، جامعات، والدین اور نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جدید تعلیمی ذرائع سے فائدہ اٹھائیں اور NorAI جیسے پلیٹ فارم کو آزما کر دیکھیں۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو عربی زبان سے جوڑ دیں تو وہ نہ صرف قرآنِ کریم کو بہتر طور پر سمجھے گی بلکہ اسلامی تہذیب، علمی روایت اور امت کے فکری سرمائے سے بھی مضبوط تعلق قائم کرے گی۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس کوشش کو قبول فرمائے جو قرآنِ کریم کی تعلیم، عربی زبان کے فروغ اور امتِ مسلمہ کی علمی بیداری کے لیے کی جا رہی ہے۔ NorAI اس سفر کا ایک امید افزا قدم ہے، اور مجھے امید ہے کہ یہ لاکھوں مسلمانوں کے لیے علم، فہم اور ہدایت کا ذریعہ بنے گا۔
"عربی اور قرآن ساتھ ساتھ" — یہی وہ راستہ ہے جو قرآن کو زندگی کا دستور اور عربی کو امت کی مشترکہ علمی زبان بنا سکتا ہے۔ |