قدرتی آفات کی شروعات

قدرتی آفات کی شروعات
صدائے حق
تحریر یوسف علی ناشاد گلگت
قدرتی آفات کبھی بھی اچانک جنم نہیں لیتیں بلکہ ان کے پیچھے انسان کی اپنی غلطیاں غفلت اور فطرت سے مسلسل چھیڑ چھاڑ کی ایک طویل داستان موجود ہوتی ہے جس طرح ایک بندوق سے نکلنے والی گولی اچانک نہیں نکلتی بلکہ اس سے پہلے ایک سوچ ایک فیصلہ اور ایک عمل موجود ہوتا ہے اسی طرح ایک انسان بھی ایک ہی دن میں تباہ نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ ایسے راستے پر چل پڑتا ہے جو آخرکار اس کی اپنی بربادی کا سبب بنتا ہے
اگر ایک نوجوان نشے کا عادی بن جاتا ہے تو اس کے پیچھے بھی کئی اسباب ہوتے ہیں والدین کی بے توجہی بری صحبت غلط ماحول اور معاشرے کی خاموشی اسے اس مقام تک پہنچاتی ہے ابتدا میں اس کی حالت کسی کو محسوس نہیں ہوتی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نشہ اس کی زندگی پر مکمل قبضہ کر لیتا ہے پھر وہ اپنے گھر کا سکون اپنی عزت اور اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھوں برباد کر دیتا ہے جب گھر والوں کو حقیقت کا احساس ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے یہی مثال آج ہماری فطرت اور ماحول پر بھی صادق آتی ہے انسان جب قدرت کے اصولوں کو نظر انداز کرتا ہے تو قدرت بھی ایک وقت کے بعد اپنا ردعمل دکھانا شروع کر دیتی ہے
گلگت بلتستان میں گزشتہ کئی برسوں سے قدرتی آفات کا سلسلہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے ہر سال کہیں نہ کہیں سیلاب کہیں لینڈ سلائیڈنگ کہیں بادل پھٹنے کے واقعات اور کہیں گلیشیئرز کے ٹوٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی سامنے آ رہی ہے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں مکانات بہہ رہے ہیں پل سڑکیں زرعی زمینیں اور باغات تباہ ہو رہے ہیں مال مویشی ختم ہو رہے ہیں اور کئی خاندان اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو رہے ہیں حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان کے تقریباً تمام اضلاع میں معمولی بارش کے باوجود جس بڑے پیمانے پر تباہی دیکھنے میں آئی اس نے ہر باشعور انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دن مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں
جو بزرگ آج ستر اسی یا نوے سال کی عمر میں ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے ہفتوں بلکہ مہینوں تک مسلسل بارش ہوا کرتی تھی مگر اس وقت ایسی تباہی دیکھنے میں نہیں آتی تھی اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں جنگلات محفوظ تھے پہاڑ سرسبز تھے زمین مضبوط تھی اور بارش کا پانی قدرتی طور پر مٹی میں جذب ہو جاتا تھا درخت اپنی مضبوط جڑوں کے ذریعے زمین کو باندھے رکھتے تھے اس لیے نہ سیلاب اتنے تباہ کن ہوتے تھے اور نہ ہی زمین اس قدر کمزور ہوتی تھی
آج صورتحال بالکل مختلف ہے جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے قدرتی توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے پہاڑ ننگے ہوتے جا رہے ہیں مٹی اپنی مضبوطی کھو رہی ہے بارش کا پانی جذب ہونے کے بجائے پوری شدت کے ساتھ آبادیوں کی طرف بڑھتا ہے اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کر دیتا ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض ایسے عناصر بھی اس غیر قانونی کٹائی میں ملوث پائے جاتے ہیں جن پر جنگلات کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جب محافظ ہی خاموش یا شریک ہو جائیں تو پھر قدرت کے نظام کو نقصان پہنچنا لازمی ہو جاتا ہے
گلگت بلتستان دنیا کے ان چند خطوں میں شامل ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے بے شمار گلیشیئرز کی عظیم نعمت عطا کی ہے یہی گلیشیئرز پاکستان کے دریاؤں کی بنیاد ہیں یہی پانی کروڑوں انسانوں کی زندگی کا سہارا ہے یہی کھیتوں کو سیراب کرتا ہے یہی بجلی پیدا کرتا ہے اور یہی مستقبل کی بقا کی ضمانت ہے اگر ان قدرتی ذخائر کو نقصان پہنچا تو اس کے اثرات صرف گلگت بلتستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا پاکستان اس کے نتائج بھگتے گا کیونکہ پانی ہی زندگی ہے اور گلیشیئرز ہی پانی کی زندگی ہیں
دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر جنگلات کی بے دریغ کٹائی نہ روکی گئی اور ماحول کو آلودہ کرنے والے عوامل پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں قدرتی آفات کی شدت پہلے سے کئی گنا زیادہ ہو جائے گی صنعتی کارخانوں سے نکلنے والا دھواں گاڑیوں اور ہوائی جہازوں کا ایندھن اور مختلف کیمیائی مادے فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں اس کے ساتھ اگر انسان اپنے ہاتھوں درخت بھی ختم کرتا رہے تو پھر فطرت کا توازن برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہر سال لاکھوں اور کروڑوں پودے لگانے کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر عملی طور پر پہاڑ پہلے سے زیادہ ویران دکھائی دیتے ہیں اگر واقعی اتنی بڑی تعداد میں شجرکاری کی جاتی تو آج گلگت بلتستان کے پہاڑ پہلے سے زیادہ سرسبز ہوتے صرف پودے لگانا کافی نہیں بلکہ ان کی حفاظت کرنا انہیں پروان چڑھانا اور ان کی مسلسل نگرانی کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کیونکہ ایک درخت کو تناور بننے میں کئی سال لگتے ہیں جبکہ اسے کاٹنے میں صرف چند منٹ درکار ہوتے ہیں
اگر گلیشیئرز معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ پگھلتے رہے تو ابتدا میں شدید سیلاب آئیں گے اور بعد ازاں پانی کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی دریا سکڑ جائیں گے زرعی زمینیں بنجر ہونا شروع ہو جائیں گی پینے کے صاف پانی کا بحران پیدا ہوگا بجلی کی پیداوار متاثر ہوگی اور غذائی قلت جیسے سنگین مسائل جنم لیں گے اس وقت شاید دنیا کی جدید ترین مشینری بھی انسان کو ان مشکلات سے نہ بچا سکے کیونکہ قدرت کے فیصلے کے سامنے انسان کی طاقت بہت محدود ہے
ہمیں اپنے بزرگوں کی روایات سے بھی سبق حاصل کرنا چاہیے مہاراجہ کے دور میں جنگلات کی حفاظت کے لیے انتہائی سخت قوانین موجود تھے جنگل سے ایک درخت کاٹنا تو دور کی بات اپنے ذاتی درخت کو بھی بغیر اجازت کاٹنے کی اجازت نہیں تھی سردیوں میں ایندھن کے لیے صرف وہ درخت استعمال کیے جاتے تھے جو خشک ہو چکے ہوں یا قدرتی طور پر گر گئے ہوں اسی لیے جنگلات محفوظ تھے پہاڑ سرسبز تھے اور قدرتی توازن بھی برقرار تھا
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے نئے جنگلات اگانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے ہر ضلع ہر تحصیل ہر گاؤں اور ہر تعلیمی ادارے میں شجرکاری کو قومی مہم بنایا جائے صرف ایک دن کی رسمی تقریب کے بجائے پورے سال اس کی نگرانی کی جائے اور جو درخت لگائے جائیں ان کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے
میں ریاست پاکستان وفاقی حکومت گلگت بلتستان کی حکومت متعلقہ اداروں پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن اور تمام سیاسی و سماجی قیادت سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی بقا کا مسئلہ سمجھیں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کو روکنے کے لیے فوری اور سخت ترین قانون سازی کی جائے اس پر بلا تفریق عملدرآمد کیا جائے اور ماحولیات کے تحفظ کو قومی ترجیحات میں شامل کیا جائے
یہ صرف درختوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی زندگی کا مسئلہ ہے یہ صرف گلگت بلتستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے اگر ہم نے آج بھی قدرت کی دی ہوئی تنبیہ کو نظر انداز کیا تو کل شاید پچھتاوے کے سوا ہمارے پاس کچھ باقی نہ رہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین کا محافظ بنایا ہے اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس امانت کی حفاظت کریں کیونکہ ایک درخت صرف لکڑی نہیں بلکہ زندگی ہے ایک جنگل صرف پہاڑ کی خوبصورتی نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی سانسوں کی ضمانت ہے اگر ہم نے آج جنگلات کو بچا لیا تو آنے والی نسلیں محفوظ ہوں گی اور اگر ہم خاموش رہے تو قدرتی آفات کی یہ شروعات ایک ایسی تباہی میں تبدیل ہو سکتی ہیں جس کے سامنے انسان کی ساری طاقت بے بس نظر آئے گی۔

 

Yousuf Ali
About the Author: Yousuf Ali Read More Articles by Yousuf Ali: 6 Articles with 1431 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.