اس آرٹیکل کا مرکزی خیال بیسٹ سیلر کتاب Unlearn One Hundred and One Truths for a Better Life سے لیا گیا ہے۔ ایک عورت مارکیٹ سوٹ لینے گئی۔ اس نے دوکان دار سے بے شمار سوٹوں کے تھان کھلوائےاور ہر بار یہی کہتی کہ اگلا تھان کھول کر دکھائیں پہلے والے میں کچھ خاص نہیں۔ اچانک عورت نے کہا یہ اس کونے میں کیا ہے دکاندار بولا باجی یہ میرا ٹفن ہے۔ آہا بلیک فرائیڈے سیل آہا جشن آزادی سیل آہا ستمبر سیل آہا فادر ز ڈے سیل آہا مدرز ڈے سیل اگر آج ہم اپنی دراز اور کیبنٹس جھاڑیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہم نے کتنی بے شمار چیزیں اکٹھی کر رکھی ہیں۔ چاہے وہ کپڑے ہوں یا جیولری ہو یا ہوم ڈیکور
اب بات دو طرح سے ہے ایک تو اگر آپ بہت سوشلائیز کرنے والے نہیں ہیں تب آپکو اتنی چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسرا اگر آپ کا ملنا ملانا ہے تو کیا واقعی میں تب بھی اتنا لدے اور پھندے ہونا ضروری ہے۔
سوشل میڈیا پر اگر بہت کچھ اچھا ہے تو ذیادہ تر کام اب صرف اشتہار بازی کی نظر ہوگیا ہے۔ اب ہمیں بہت ذیادہ سامان کھانا کپڑے سیر سپاٹے اس لئے بھی چاہیئں کہ ہم سوشل میڈیا پر اسکو دکھا سکیں۔ جس طرح پیاز کی پرتیں ہیں۔ اسی طرح ان خرچوں کی ان خواہشوں کی بھی پرتیں ہیں۔ ایک اُتری ہے تو دوسری بھی سامنے ہوگی۔ قبر میں جانے تک ہی یہ پرتیں ختم ہوں گی ۔
اگر ہم اپنی زندگی میں کم کے ساتھ خوش رہنا چاہیں تو اسکے لئے ضروری ہے کہ خود پر بھی کام کریں۔ خود کو جسمانی، روحانی، جزباتی طور پر اتنا توانا کریں پھر جب خود کو آئینے میں دیکھ کر اعتماد سے مسکرا سکیں خود کو اندر سے توانا محسوس کرنا قابل ستائش ہے خود کو دوسروں کی مدد کے قابل سمجھنا قدر دانی ہے خود کو زندگی کے امتحانوں میں جہد مسلسل میں رکھنا شاباش کے قابل ہے گر جانا ناکام ہونا پھر اٹھ کھڑے ہونا اپنی ذات میں بادشاہی ہے سبز جھنڈے کو قابل قدر سمجھنا میچور ہونے کی علامت ہے۔
توکل صبر استقامت توکل جتنا ملا اس میں گزارا صبر جو نہ مل سکا اسکے حصول میں انتظار استقامت لگاتار کام کرنا
جب ایمان اتحاد تنظیم پر عمل کرتے ہیں تو زندگی خود ہی آپ کو کم کے ساتھ بھی مطمئن رہنا سکھا دیتی ہے۔
|