تین دیس ایک دِل۔ طارق مرزا کا نیا سفر نامہ

پروفیسر نسیم شاہد تین دیس ایک دل پر دلکش تجزیاتی مضمون
تین دیس ایک دِل۔ طارق مرزا کا نیا سفر نامہ
تحریر نسیم شاہد
سڈنی آسٹریلیا میں مقیم معروف ادیب، محقق، نقاد اور سفرنامہ نگار طارق محمود مرزا نے اطلاع دی ہے کہ وہ دو اپریل کو لاہور پہنچ رہے ہیں اب دوست اُن کا انتظار کر رہے ہیں اور میں نے اُن کا نیا سفر نامہ،”تین دیس ایک دِل“ پڑھا ہے،جس کی رونمائیاں بھی اُن کی آمد پر مختلف شہروں میں ہوں گی۔
طارق محمود مرزا کمال کی شخصیت ہیں، سڈنی میں انہوں نے ادب کی ایک دنیا آباد کی ہوئی ہے، اردو اور اردو ادب سے تو گویا اُنہیں عشق ہے اس حوالے سے انہیں دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔کمال کا مشاہدہ اور مطالعہ رکھتے ہیں ۔ مجھے حیرت اُس وقت ہوئی تھی جب اُن کی کتاب”حیات و افکارِ اقبال“ سامنے آئی، تب یہ کھلا کہ وہ صرف سفر کرتے اور سفر نامے ہی نہیں لکھتے بلکہ انہوں نے اقبال شناسی کے حوالے سے بھی ایک طویل فکری سفر کیا ہے۔اقبال کے موضوع پر یہ اُن کی ایک شاندار کاوش ہے۔
اگر ہمہ جہت لکھاری کی اصلاح اُن کے لئے استعمال کی جائے تو بے جا نہیں ہو گا،وہ افسانہ نگار بھی ہیں اور کالم نگار بھی۔”تلاشِ راہ“ کے نام سے اُن کا افسانوی مجموعہ قارئین سے داد حاصل کر چکا ہے۔ پانچ سفر نامے لکھ چکے ہیں اور جس رفتار سے وہ سفر کر رہے ہیں، کوئی بعید نہیں کہ اُن کا شمار جلد ہی سب سے زیادہ سفر نامے لکھنے والوں میں ہونے لگے۔اُن کا نیا سفر نامہ ”تین دیس ایک دِل“ ترکی، ملائیشیا اور انڈونیشیا کی سفری روداد پر مشتمل ہے۔ وہ چاہتے تو اس سفر نامے کو بھی تین علیحدہ سفر ناموں میں تقسیم کر سکتے تھے، مگر ایسا کرنے کی بجائے انہوں نے تینوں ممالک کے سفر ناموں کو اس ایک کتاب میں یکجا کر دیا۔میں پہلے بھی سفر ناموں پر لکھتے ہوئے کئی بار یہ کہہ چکا ہوں کہ اب سفر نامہ لکھنا آسان نہیں رہا،حالانکہ معروف معنوں میں آسان ہو گیا ہے کیونکہ ہر ملک کے بارے میں جزئیات تک سوشل میڈیا اور گوگل کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ درحقیقت معلومات کی یہی دستیابی سفر نامے کی صنف کو اب مشکوک بنا گئی ہے۔اب صرف سڑکوں، گلیوں، محلوں، عمارتوں، عجائب گھروں یا تاریخی مقامات کی سیر کا احوال ہی سفر نامہ نہیں بن سکتا۔ یہ تو ایک کلک پر دستیاب ہے، اب کسی ملک کے باطنی کلچر، احساسات، روایات، لوگوں کے اندر تک اتر کر اُن کے رہن سہن کا کھوج لگانا اور پھر اسے لفظوں کے ذریعے ایسے محفوظ کرنا کہ جیسے قاری خود اُن سے مل کر انہیں دیکھ رہا ہو،ایک مشکل امر ہے۔
پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 70 اور80 کی دہائی کے سفرنامہ نگاروں کی طرح آج کے سفر نامہ نگار کو فکشن اور فرضی عشق و محبت کی کہانیاں بیان کرنے کی سہولت بھی حاصل نہیں۔اب یورپ کی وہ حسینائیں نہیں ملتیں جو ان سفرنامہ نگاروں کے ہاں ملتی ہیں جنہوں نے اس زمانے میں اس چورن کو ڈال کے اپنے سفر نامے لکھے۔ طارق محمود مرزا نے اِس مشکل بنتی صنف کو اپنے تخیل، مشاہدے، آنکھ کی دور تک دیکھنے والی چمک اور احساس کی کھڑکی کو کھول کر سفر نامہ نگاری کا سفر کیا ہے۔انہیں اپنے سفر نامے کے دوران ایسے کردار ملتے ہیں جو اپنے کلچر، تہذیب،رویوں اور احساسات کو سامنے لے آتے ہیں۔ طارق محمود مرزا اپنے سفر ناموں میں مختلف ممالک کی جو دنیا دکھاتے ہیں وہ اُس دنیا سے بہت آگے کی چیز ہوتی ہے جو ہمیں گوگل کے ذریعے نظر آتی ہے۔
طارق محمود مرزا اس سفرنامے کے آغاز میں لکھتے ہیں ”یہ انوکھا اور منفرد سفر ہے،جس میں حسین و جمیل قدرتی مناظر بھی ہیں،دلچسپ کرداروں کی شوخی و شرارت بھی ہے اور کئی ناقابل فراموش کہانیاں بھی ہیں۔میں نے کوشش کی ہے جو کچھ میری آنکھوں نے دیکھا اور ذہن و دِل نے محسوس کیا ہے اُسے من و عن قارئین تک پہنچا سکوں،تاہم اس میں جو پیام پوشیدہ ہے میری خواہش ہے وہ ہر دِل میں جگہ بنا سکے“۔
جب سفر نامہ لکھنے والا کسی جذبے اور مقصد کے زیر اثر سفر نامہ لکھتا ہے تو اپنے دِل اور آنکھ کی کھڑکی کبھی بند نہیں کرتا، شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اِس کتاب کے نام میں تین ملکوں کے ساتھ اپنے دِل کو جوڑا ہے،اِس ایک دِل کو جو محبتوں،اُمنگوں،احساسات اور جذبوں سے معمور ہے۔ طارق محمود مرزا نے جن تین ممالک کے سفر کو اِس کتاب میں یکجا کیا ہے،وہ تینوں برادر اسلامی ملک ہیں مگر ظاہر ہے اُن کی ثقافت کا جو تنوع اور انفرادیت ہے ،وہ اس بنیادی وصف کے باوجود مختلف النوع ہے اور دلچسپی کے مظاہر کی حامل ہے۔
اِن تینوں ممالک میں تاریخ اور روحانیت کے کئی پہلو موجود ہیں۔طارق محمود مرزا نے انہیں اجالنے اور بیان کرنے میں نہایت خوبصورتی سے کام لیا ہے۔ اگرچہ تینوں ممالک کا سفر نامہ اپنی جگہ دلچسپی اور حد درجہ معنویت کا حامل ہے، تاہم ترکی کے سفر میں جس طرح طارق محمود مرزا کے اندر کا ولی اور بندہ خود آگاہ مختلف مقامات پر ابھر کے سامنے آتا ہے وہ چیز دگر ہے ۔یہ کہنا مناسب ہو گا کہ طارق محمود مرزا کا دِل بھی جگہوں کی تبدیلی سے تبدیل شدہ انداز میں دھڑکتا ہے۔ مثلاً جب وہ ترکی کے شہر قونیہ کا حوالہ بیان کرتے ہیں تو اُن کی حالت ایک مجذوبِ صادق کی ہو جاتی ہے،قونیہ میں حضرت جلال الدین رومی کا مزار ہے۔سب جانتے ہیں کہ حضرت جلال الدین رومی کا مزار کس قدر مرجع خلائق ہے۔ یہاں عشق کے سوتے پھوٹتے ہیں اور روحانیت کی شمعیں انسان کے باطن تک کو فروزاں کر دیتی ہیں۔ یہاں پہنچ کر انسان جس کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے، اُس کا بیان آسان نہیں۔ تاہم طارق محمود مرزا نے اس کڑے مرحلے کو بڑی اور تخلیقی مہارت سے بیان کیا ہے،وہ اِس قدر خوبصورت انداز میں یہ لمحے بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو قونیہ کے اس روحانی مرکزی میں کھڑا پاتا ہے۔اب یہ وہ چیز ہے جو کسی گوگل،کسی چیٹ جی یا کسی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے تخلیق نہیں پا سکتی۔ یہاں پہنچ کرطارق محمود مرزا کا جادو اثر قلم روحانیت کی روشنائی سے اُس احوال کو بیان کرتا ہے، جو وہاں پہنچ کر ہر شخص کے احساسات کا حصہ ہوتا ہے۔
”تین دیس ایک دِل“ کا سب سے توانا پہلو اس کا اسلوب ہے۔ سفر نامہ لکھنا انشائیہ لکھنے سے کہیں مختلف سرگرمی ہے۔ افسانہ لکھنا یا ناول لکھنا بھی سفر نامے کی اُس روح تک تک نہیں پہنچ سکتا جو اُسے صحیح معنوں میں سفر نامہ بناتی ہے۔سفرنامے میں مناظر اور کردار قدم قدم پر بدلتے ہیں۔افسانہ یا ناول کرداروں کے گرد بنا جاتا ہے جبکہ سفر نامے میں مناظر کرداروں کی تخلیق و دریافت کرتے ہیں۔ پھر سفر نامہ نگار کے لئے ضروری ہوتا ہے وہ واقعتا ًاپنے قاری کی انگلی پکڑ کر اُسے اپنے ساتھ چلائے۔اگر قاری پیچھے رہ جائے اور سفر نامہ نگار آگے نکل جائے تو یہ ایسے ہی ہے کہ کسی اجنبی جگہ پر گائیڈ انگلی چھڑا کر بھیڑ میں غائب ہو جائے۔طارق محمود مرزا کا وصف یہ ہے کہ وہ سفر نامے کو ربط ضبط کے ساتھ لکھتے ہیں وہ بیک وقت معلومات، احساسات، جذبات اور واقعات کی روداد بیان کرتے ہوئے خود اور اپنے قاری کو بھٹکتے نہیں دیتے۔پھر سب سے بڑھ کر ان کی شگفتہ نثر ہے ایسی نثر جو عمدہ اسلوب کے کئی ذائقوں سے ہمکنار کرتی ہے۔اُن کا یہ سفر نامہ اُن کے سفر ناموں میں ایک خوبصورت اضافہ تو ہے ہی تاہم سفر ناموں کی روایت میں بھی ایک نیا قدم ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)

:

 

Tariq Mirza
About the Author: Tariq Mirza Read More Articles by Tariq Mirza: 56 Articles with 58252 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.