تین دیس ایک دِل، دلچسپیوں سے معمور سفرنامہ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم طارق محمود مرزا کا پانچواں سفر نامہ ”تین دیس ایک دِل“ جو ترکی، ملائشیا اور انڈونیشیاکے مختلف شہروں کی سیاحت پر مبنی ہے منظر عام پر آگیا جو بلا شبہ اُردو سفر ناموں کی دنیا میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ سفر نامے کا مقصد صرف یہ ہی نہیں ہوتا کہ سفرنامہ نگار جہاں جہاں جائے اس کا آنکھوں دیکھا حال خوبصورت جملوں میں ادب کی چاشنی کے ساتھ قارئین تک پہنچا دے۔در اصل سفر نامے کو سفر نامہ نگار کی مصروفیات اور اس نے جو مقامات دیکھے، جو کچھ اس دوران اس پر گزری ، ان حالات اورو اقعات کو خوبصورت انداز سے اپنے قارئین تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سفر نامہ جس شہر،ملک یا علاقے کا ہو اس کے بارے میں بھی بنیادی معلومات سفر نامے میں شامل ہوں تاکہ وہ سفر نامہ قاری کے لیے ایک گائیڈ و رہنما کا کام بھی دے۔طارق مرزا کے سفرناموں میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہے وہ قاری پر تاریخ جغرافیے کا بوجھ ڈالے بغیر بین السطور میں اہم معلومات بھی احاطہ تحریر میں لے آتے ہیں ۔ یوں تودنیا میں بے شمار لوگ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب آتے جاتے رہتے ہیں لیکن بہت ہی کم لوگ اپنی ان مصروفیات یا سیاحت کو قرطاس پر منتقل کرنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ادبی تصانیف میں سفرناموں کی تعداد کم ملتی ہے۔ ادبی ذوق کی حامل شخصیات اپنی سفری مصروفیات کو خواہ مختصر ہی کیوں نہ ہوں قلم بند کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔جیسے طارق محمود مرزالکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے رسیا بھی ہیں۔ آسٹریلیا کا شہر سڈنی ان کا وطن ثانی ہے۔ اب تک ان کی سات تصانیف منصہ شہودپر آچکی ہیں۔ ان میں حیات و افکارِ اقبال (شاعرِ مشرق کے حیات و افکار کا اجمالی جائزہ)، تلاشِ راہ (افسانے)اور سفرناموں میں دُنیا رنگ رنگیلی(نیوزی لینڈ، جاپان، تھائی لینڈ (سفرنامے)، سفرِ عشق (رَوداد سفر حج)، ملکوںملکوں دیکھا چاند (ڈنمارک، سوئیڈن، ناروے، قطر(سفر نامہ)، خُوشبُو کا سفر (یورپ کا سفرنامہ) شامل ہیں۔ حیات و افکارِ اقبال ان کی تحقیقی کتاب ہے۔ پیش نظر سفرنامہ ’تین دیس ایک دِل‘ ترکی ملائشیا اور انڈونیشیا کا سفر نامہ ہے۔ اس طرح مِرزا جی اردو سفر ناموں کی دنیا میں بلند و معتبر مقام حاصل کر چکے ہیں۔ یہ بھی کہ وہ سفرنامہ نویسی کے ماہروں میں شمار کیے جائیں گے۔ طارق محمود مرزا پکے پاکستانی ہیں لیکن معاش انسان کو کہیں سے کہیں لے جاتی ہے۔ چنانچہ مرزاجی بھی پاکستان سے آسٹریلیا کے شہر سڈنی جابسے اور عرصہ دراز سے آسٹریلیا ان کا وطن ِ ثانی ہے۔ سفر ناموں کے علاوہ حضرت علامہ اقبال سے اپنی محبت اور عقیدت کا عملی ثبوت انہوں نے اقبال پر اپنی تصنیف’حیات و افکار ِ اقبال‘ سے دیا، مرزا جی کی محبت انہوں نے اپنی اس تصنیف پر تقریظ تحریر کرائی۔علاوہ ان کے سفر ناموں ’خوشبو کا سَفر‘،’ملکوں ملکوں دیکھا چاند‘پربھی اظہاریہ قلم بند کرچکا ہوں۔ بلاشبہ وہ پختہ کارقلم کار ہیں۔سیاحت کا شوق رکھتے ہیں، سیاحتی موضوعات پر ان کا قلم گویا موتی بکھیرتا چلتا ہے۔وہ کسی بھی مقام کا تعارف اچھوتے انداز سے کراتے ہیں کہ پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ از خود اس مقام پر موجود ہے۔پیش نظر سفر نامے سے اندازہ ہوا کہ طارق محمود مرزا کے قلم میں طاقت ہے الفاظ کو خوبصورت جملوں میں پرونے کی۔ اردوادب میں سفر ناموں کو ایک اہم صنف کی حیثیت حاصل ہے۔ ا ردوزبان میں لکھے گئے سفر ناموں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلا سفر نامہ ”تاریخِ یوسفی“ کے نام سے یوسف خان کمبل پوش نے لکھا جو 1847ء میں شائع ہوا تھا۔ اردو کے بے شمار مدبرین، قائدین، مصنفین نے یوسف کمل پوش کی سفر نامہ نگاری کی روایت کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ اسے آگے بھی بڑھایا۔ ان میں سر سید احمد خان، محمد حسین آؔزاد، مولاناشبلی نعمانی، مولوی محبوب عالم،سر عبد القادر، مولوی مسیح الدین، مولانا حکیم سید عبد الحیی، مولانا محمد علی جوہر، قاضی عبد الغفار، سید سلیمان ندوری، مرزا حسین احمد بیگ، خواجہ احمد عباس، پروفیسر احتشام لدین، شورش کاشمیری، نواب رام پور حامد علی خان، اشفاق احمد، جمیل الدین عالی، ابن انشاء، ممتاز مفتی، قدرت اللہ شہاب حکیم محمد سعید، مستنصر حسین تارڑ،کرنل محمد خان، شفیق الرحمٰن، مختار مسعود،امجد اسلام امجد، عطاالحق قاسمی، اسلم کمال، پر تو روہیلہ، رفیق ڈوگر، آفتاب اقبال، انور فیروز، مرزا ریاض، فخر زمان، سید شوکت علی شاہ، پروین عاطف، سید ضمیر جعفری، مسکین علی حجازی، بلقیس ریاض، ڈاکٹر شفیق جالندھری، علی سفیان آفاقی، ذوالفقار تابش، آغا سہیل، رضا علی عابدی، آصف جیلانی، سلمیٰ اعوان، محمد اختر ، حسن رضوی، وحید قیصر، عثمان خاور، قمر علی عباسی، پروفیسر سعید اختر، شِبہ طراز اور ہمارے ممدوح طارق مرزا قابلِ ذکر ہیں ۔ ڈاکٹر صدف فاطمہ کے ڈاکٹریٹ کے تحقیقی مقالہ کا عنوان ”خواتین کے اردو سفر ناموں کا تحقیقی مطالعہ“ تھا، جو کتابی صورت میں انجمن ترقی اردو پاکستان نے شائع کیا۔ ان کی تحقیق کے مطابق اردو میں پہلی خاتون سفر نامہ نگار ”نازلی رفیعہ سلطانی تھیں جنہوں نے ”سیر یورپ“ کے نام سے اپنا سفر نامہ قلم بند کیا تھا۔ بیگم اختر ریاض الدین کے سفر نامے ’سات سمندر پار‘ اور ’دھنک پر قدم‘ مشہور ہوئے۔ اس سے قبل اردو اکیڈمی بہاولپور کے تحت رسالہ ”الزبیر“ کا ’سفر نامہ نمبر‘ بھی شائع ہوچکا ہے۔ طارق مرزا کے سفرنامے، سفر ناموں کی دنیا میں اپنا ایک اہم مقام رکھتے ہیں اوراردوسفر ناموں میں قابل قدر اضافہ ہے۔ سفرناموں کے حوالے سے ان پر جامعات کی سطح پر تحقیق بھی کی گئی۔ ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر مقالات بھی لکھے گئے او رلکھے جا رہے ہیں ۔مرزا صاحب کی ہر کتاب اپنی جگہ مکمل مضمون کی حامل ہے جس میں ریسرچ کے لیے بہت سا موادہے ایک دانش ور قلم کار کی حیثیت سے انھوں نے حیات ِانسانی کے مختلف پہلوؤں کو اپنی تحریروں میں خوبصورتی سے سمویا ہے ۔ تین دیس ایک دِل، تین مسلمان ملکوں تُرکی جو اب ترکیہ ہے، ملائیشیا اور انڈو نیشیا کی سیاحت پر مبنی ہے۔تعارف معروف شاعر و کالم نگار عطاء الحق قاسمی صاحب نے بعنوان ”طارق مرزا کی تحریر زندہ، متحرک اور پُر لطف ہے“ کے عنوان سے لکھا ہے۔ انہوں نے لکھا ”مصنف نے نہ سیاحتی گائیڈ بننے کی کوشش کی ہے، نہ تاریخ کابوجھ قاری پر لادا ہے۔ وہ گلیوں میں چلتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، مساجد میں رکتا ہے، بازاروں میں چونکتا ہے، اور کہیں کہیں خود پر مسکرالیتا ہے۔ یہی خود آگاہی اس سفر نامے کو محض معلوماتی نہیں رہنے دیتی بلکہ ایک زندہ متحرک اور پڑھنے میں لطف دینے والی تحریر بنادیتی ہے“۔ طارق محمود مرزا نے اپنے اس سفر کو ’سفر در سفر‘ کہا ہے۔ لکھتے ہیں ’تین دیس ایک دل، ایسے ہی سفری مشاہدے کا قصہ ہے جو میں نے دل کی آنکھوں سے دیکھا اور دل کی روشنائی سے لکھا ہے۔یہ صرف جسمانی نہیں بلکہ میرا وجدانی سفر بھی ہے۔ یوں یہ سفر در سفر ہے۔ یہ سفر میں نے ایک سیاح کے طور پر بھی اور ایک زائر بلکہ عاشق کے طور پر بھی کیا ہے۔ دوران تحریر بھی اس نے میرے قلب و روح کو گرمائے رکھا۔ جس میں شہر عشق قونیہ، اس کی روحانی فضا، امامِ جذب و عرفان مولانا رومی کے مزارپُر انوار کی زیارت اور ان کے پیر حضرت شمس تبریز کے جذب و سرور کا تذکر شامل ہو، وہ صرف سفر نامہ نہیں، داستانِ عشق و مستی بن جاتا ہے‘۔ اس سفر میں مصنف نے بعض اہم اور مسلمانوں کے لیے متبرک مقامات پر حاضری بھی دی اور فیوض و برکات سے مستفیض ہوئے۔ شہر عشق قونیہ جسے مسجدوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے اور مولانا روم کے مزار کا ذکر مصنف نے انتہائی جذب و سرور سے کیا۔اسی طرح استنبول میں حضور نبی کریم ﷺ اور دیگر انبیا علیہ السلام اور صحابہ کرام ؑ نشانیوں کی زیارت کا ذکر بھی دل کو پگھلا دیتا ہے ۔ علاوہ ازیں ملائیشیا میں مالنڈو بیگم کی میزبانی کا دلچسپ ذکر، بالی ایئرپورٹ کی یاترا، کوالا لمپور کی پہچان جڑواں ٹاور، ملائیشیا کا نیا نویلا شہر پُتر اجائیا، سلطان عبدالعزیز مسجد کی زیارت اور دیگر سیاحتی مراکز دیکھنا اور ان یاد گار لمحات کو خوبصورتی سے قلم بند کیا گیا ہے۔ترکیہ کے شہر استنبول جو یورپ اور ایشیا کا سنگم ہے کی تاریخی جگہوں جیسے نیلی مسجد، توپ کاپی محل عجائب کی زیارت، سلطنت عثمانیہ کا یاد گار محل دولماباغچہ، تقسیم چوک اور دیگر تاریخی مقامات پر حاضری اور ان لمحات کو بیان کرنا، اسی طرح تاریخی شہر انتالیہ، شہر ازمیر، کمال اتا ترک کے گھر کی زیارت اور دیگر مقامات کی سیاحت کادلچسپ او رمعلوماتی بیان قاری کو باندھے رکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہندو انہ تمدن کے حامل جزیرے بالی میں بندروں والے مندر، قدیم مندر ’اُلو واتُواور بالی کا مشہور و معروف کوتا بیچ کا دورہ اور اس کے بارے میں تفصیل کتاب کا دلچسپ حصہ ہے۔ یوں یہ ادبی رنگوں سے مزیّن دلچسپیوں سے معمور سفرنامہ ہے ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔ کراچی (5مارچ2026ء)
|