طارق مرزا ایک عظیم سفرنامہ نگار ہیں محمد بُوٹا انجم ۔ ملائیشیا

طارق مرزا ایک عظیم سفرنامہ نگار ہیں
محمد بُوٹا انجم ۔ ملائیشیا
تبصرہ۔۔دُنیا رنگ رنگیلی
طارق مرزا ایک عظیم سفرنامہ نگار ہیں
محمد بُوٹا انجم ۔ ملائیشیا
تبصرہ۔۔دُنیا رنگ رنگیلی
کُتب بینی میں میری من پسند ترجیحات آپ بیتیاں اور سفرنامے ہیں۔گُزشتہ ہفتے جو کتاب میرے زیرِ مطالعہ رہی وہ طارق محمود مرزا صاحب کا تصنیف کردہ سفر نامہ “ دُنیا رنگ رنگیلی” ہے جو سنگِ میل پبلیکیشنز کی ایک دیرینہ اشاعت ہے۔
مرزا صاحب کا تعلق بُنیادی طور پر پاکستان کے خِطّہ پوٹھوہار سے ہے تاہم وہ گُزشتہ تین عشروں سے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مُقیم ہیں جہاں وہ ایک کامیاب کاروبای اور ادب پرور شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔اُن سے میرا تعارف اور مُلاقات تین برس قبل اُس وقت ہوئی جب وہ آسٹریلیا سے تُرکیہ جاتے ہو ئے تین روز کے لیے کوالا لمپور،ملائیشیا میں رُک گئے۔گورے رنگ،متناسب قد،چہرے کے خد وخال اور سمارٹ جسمانی ساخت کے باعث خوبصورت دِکھنے والے اِس خوش مزاج شخص سے میری مُلاقات کا سبب میرے شاعر دوست عاطر عُثمانی صاحب تھےجو ایک عرصے سے کوالالمپور ملائیشیا میں مقیم ہیں۔مرزا صاحب سے مِل کر مُجھے حیرت ہوئی کہ ایک صاحبِ کُتب اعلیٰ درجے کے نثر نگار میرے لیے اب تک گُمنام کیوں رہے۔وہ چونکہ اپنے سفرناموں کی کُچھ کاپیاں ساتھ لائے تھے اِس لیے ہم نے اُن کتب کی رُو نمائی کے حوالے سے ایک مُختصر سی تقریب کا فوری اہتمام کرڈالا جو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی،ملائیشیا کے مایہ ناز پروفیسر ڈاکٹر ممتاز علی اور اُن کے ادب شناس اہلِ خانہ اور شاگردوں کی شمولیت کے باعث خاصی کامیاب رہی۔تقریبِ کے مہمانِ خصوصی کے طور پر مرزا صاحب کے خیالاتِ عالیہ سے مستفید ہوتے ہوئے احساس ہُوا کہ اُردو ادب پر اُن کی نظر خاصی عمیق ہے اور وہ تحریر کے ساتھ ساتھ فنِ تقریر میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔اِس مُلاقات کے دوران اُنہوں نے مُجھے اپنا سفرنامہ” مُلکوں مُلکوں دیکھا چاند” عنایت فرمایا جو ڈنمارک،سویڈن،ناروے اور قطر کی سیاحت پر مُشتمل ہے۔اُس انتہائی معلومات افزا،خوبصورت اور دِلچسپ سفر نامے کو پڑھ کر میں نے اُس پر ایک سیرِ حاصل تبصرہ قلمبند کیا جو پاکستان کے متعدد اخبارات و رسائل میں اشاعت کے قابل سمجھا گیا۔
مرزا صاحب کے سفرنامے “دُنیا رنگ رنگیلی” میں اُن کا رُخ مغرب کی بجائے مشرق کی جانب ہو گیا ہے۔اُن کی یہ دلکش تصنیف تین ممالک ۔۔نیوزی لینڈ،جاپان اور تھائی لینڈ ۔۔کی سیاحت کے احوالِ واقعی پر مُشتمل ہے۔نیوزی لینڈ میں اُنہوں نے ایک جزیرہ نُما خِطے کے جِن چار شہروں کو اپنے ذوق سیاحت کا مرکز و محور بنایا اُن کے نام ہیں کوئنز ٹاؤن،گلینورکی،ایرو ٹاؤن اور کرومویل۔کوئنز ٹاؤن کی قُدرتی خوبصورتی کا تذکرہ کرتے ہوئے مرزا صاحب ایک جگہ رقمطراز ہیں۔
"اُس وقت میرے سامنے جو منظر تھا اُسے دیکھ کر میں دنگ رہ گیا۔اِتنا خوبصورت منظر میں نے زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ایسا نظارہ جِسے دیکھ کر اِنسان پلک جھپکنا بھول جائے۔میرے سامنے حدِ نظر تک ایک حسین تصویر آویزاں تھی۔رنگ و نُور سے بنی ایک ایسی تصویر جسے صِرف مصوّرِ کائنات ہی تخلیق کر سکتا ہے۔اِتنی دِلکشی،اِتنا حُسن،اِتنے رنگ کہ جِس جانب نظر دوڑاؤ وہیں جم کر رہ جائے۔میں نےسوئٹزرلینڈ،جرمنی،ہالینڈ،فرانس اور برطانیہ کے انتہائی حسین مناظر دیکھ رکھے ہیں مگر نیوزی لینڈ کے اِس چھوٹے سے شہر کا جو منظر میرے فلیٹ کی بالکونی سے نظر آ رہا تھا وہ مُجھے دُنیا میں کہیں دِکھائی نہیں دیا۔اتنے بھرپُور نظارے،اِتنے رنگ،اِتنی جاذبیّت،اِتنی دلکشی تو میں نے کِسی تصویر، کِسی فلم میں بھی نہیں دیکھی۔اِنسانی ہاتھ ایسی تصویر بنانے کی قُدرت نہیں رکھتا۔نہ ہی کوئی کیمرہ یہ منظر دِکھانے کی استطاعت رکھتا ہے۔یہ منظر صرف دیکھا جا سکتا ہے،محسوس کیا جا سکتا ہے لیکن کوئی شاعر یا نثر نگار اِسے احاطہء قلم میں نہیں لا سکتا۔۔۔۔آنکھ جو کُچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں۔"
کُچھ اِسی قسم کے جذبات و احسات کا اظہار مُصنف نے اِس خطے کے باقی شہروں کے بارے میں کیا ہے۔وہاں کی جھیلوں،پہاڑوں،،وادیوں،فارم ہاؤسز،چراگاہوں،آبی گُزرگاہوں،پارکوں اور لوگوں کے دوستانہ رویّوں کا ذکر پڑھ کر تو جی چاہتا ہے کہ اِنسان زندگی کے کُچھ خوبصورت لمحات گُزارنے لیے اُڑ کر وہاں پہنچ جائے۔
جاپان طارق محمود مرزا صاحب اپنے ایک پاکستانی دوست ناصر ناکاگاوا کی دعوت پر تشریف لے گئے تھے۔وہاں ٹوکیو کے علاوہ کُچھ دیگر شہروں میں بھی اُن کی تصنیفات کی تقریباتِ رُو نمائی کا انعقاد ہونے جا رہا تھا۔اُن تقریبات میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب نے اپنے ذوقِ سیاحت کے لیے بھی وقت ضرور نکالا۔ٹوکیو کے علاوہ وہ کوشی گایا جیسے رہائشی اور تجارتی عمارات پر مُشتمل مضافاتی علاقے میں بھی پہنچے،لیکس ٹاؤن نامی شاپنگ سنٹر اور آسا کوسا نامی قدیم ٹوکیو کی وزٹ سے بھی محظوظ ہوئے،جاپان کی بلند ترین عمارت “سکائی ٹاور” کی بلندی اور “ شوزن جی “ نامی گہرے پانیوں والی قدرتی جھیل کی گہرائی بھی ناپی نیز مشہورِ زمانہ بُلٹ ٹرین کے سفر کا تجربہ بھی حاصل کیا۔جاپان میں اُنہیں نیوزی لینڈ جیسی قُدرتی خوبصورتی تو کم کم ہی نظر آئی مگر جاپان کی قابلِ تقلید مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اُنہیں وہاں اخلاقیات اور انسان دوستی کے جو بلند معیار نظر آئے وہ اُس ملک کو تہذیب و تمدّن کا گہوارہ ثابت کرتے ہیں۔جاپان کی اہم اور دلچسپ باتیں یکجا کرتے ہوئے مرزا صاحب رقمطراز ہیں۔
"جاپان میں ابھی بھی بادشاہت قائم ہے اور شہنشاہ سربراہِ حکومت ہے۔۔جاپان میں تعلیم کی شرح سو فیصد ہے۔جاپانیوں کی اوسط عمر سب سے زیادہ ہے۔جاپان میں سو سال سے زائد عُمر کے بوڑھوں کی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ ہے۔جاپان میں شرح افزائش اِتنی کم ہے کہ بچوں سے زیادہ بوڑھوں کے ڈائپر بِکتے ہیں۔جاپان دُنیا میں سب سے زیادہ گاڑیاں بنانے والا مُلک ہے۔یہاں لَو ہوٹل ہیں جہاں” ہنگامی ضرورت” میں چند گھنٹوں کے لیے بھی کمرہ کرائے پر مِل جاتا ہے۔یہاں سڑکوں پر مُفت ٹشو پیپر تقسیم ہوتے ہیں جو در اصل تجارتی تشہیر کا ذریعہ ہیں۔جاپان میں باتھ روم میں جانے کے لیے الگ چپل ہوتے ہیں جو باہر نکلتے ہی اُتار دیے جاتے ہیں۔یہاں رش کی صورت میں دھکا دے کر گاڑی میں سوار کرانے والا ٹرین اسٹیشن میں باقاعدہ عملہ ہوتا ہے۔"
تھائی لینڈ میں مرزا صاحب کی سیاحت اُس ملک کے دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر بنکاک تک محدود رہی مگر اِس اہم ترین شہر کی کوئی بھی قابلِ دید جگہ ایسی نہیں بچی جہاں اُن کے نقشِ قدم ثبت نہ ہوئے ہوں۔وہاں اُنہوں نے واٹ پاؤ مندر،لِٹل انڈیا،واٹ آرون کا مندر،عظیم شاہی محل،کھاؤ سین روڈ،سفاری پارک اور چائنا ٹاؤن کو انتہائی دلچسپی اور باریک بینی سے وزٹ کیا نیز ایک لگژری بوٹ کے ذریعے دریائے چاؤ پھرایا کے کروز ڈنر سے بھی محظوظ ہوئے جِس کا احوال پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ وہاں "ساقی بھی تھا،شراب بھی اور شباب بھی"
طارق محمود مرزا صاحب کے دو سفر نامے پڑھنے کے بعد میرا ماننا ہے کہ وہ اِس وقت پاکستان کے سب سے بڑے سفر نامہ نگار ہیں۔اُنہیں اردو نثر نگاری پر دسترس حاصل ہے اور اِس ہُنر کو وہ اپنی تحریروں کو چار چاند لگانے کے لیے بڑی چابکدستی سے استعمال کرتے ہیں۔اُن کی تحریر کی دوسری بڑی خوبی منظر نگاری ہے۔وہ جِس ملک،جس شہر اور جِس جگہ سے گُزرتے ہیں اُس کا الفاظ میں ایسا نقشہ کھینچتے ہیں کہ وہاں کی مکمل تصویر قاری کے سامنے آ جاتی ہے۔پڑھنے والے کو یوں محسوس ہوتا کہ وہ قدم بہ قدم مرزا صاحب کے ہمراہ چل رہا ہے۔اُن کے سفرناموں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ بیگانہ صفت جادہء منزل سے نہیں گُزرتے ہر شہر اور ہر علاقے کی تاریخ،جُغرافیہ،ثقافت،سیاست،سیاحت اور رسوم و رواج کو اُجاگر کرتے ہو ئے غیر محسوس انداز میں وطنِ عزیز پاکستان سے موازنہ کر کےاپنی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑتے رہتے ہیں۔منظر کشی کے علاوہ جذبات نگاری بھی مرزا صاحب کی تحریروں کا خاصہ ہے۔اِس سفر نامے کے صفحہ187 سے 194 پر جاپان کی بظاہر ہنس مُکھ،ہشاش بشاش اور زندگی سے بھرپُور دکھائی دینے والی اینا نامی ایک خوبصورت بیوہ کی باطنی حرماں نصیبی کا احوال جِس انداز و الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وہ حاصلِ کتاب ہے اور جاپان سے رُخصت ہونے والے جذباتی منظر کا آپ درج ذیل الفاظ سے اندازہ کر سکتے ہیں۔
"اِتنے دِن اکٹھے رہنے کے بعد مُجھے جیسے ناصر صاحب کی عادت سی ہو گئی تھی۔اب ہم ایسے جُدا ہو رہے تھے کہ آئندہ مُلاقات کا کوئی علم نہیں تھا۔یہ ملاقات ہو گی بھی کہ نہیں،اِس بات کابھی یقین نہیں تھا۔اِس خیال سے میرے دِل میں ایک درد سا اُٹھتا تھا۔میں اپنی یہ کیفیت چھُپانے میں مصروف تھا لیکن میری یہ کوشش اُس وقت ناکام ہو گئی جب میں نے ناصر صاحب کی آنکھوں سے اشکوں کے موتی ٹپکتے دیکھے۔اُنہیں دیکھ کر میں بھی آبدیدہ ہو گیا۔ہمیں دیکھ کر میرے بیٹے ذیشان کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔یہ بھی عجیب منظر تھا۔ایک عوامی اور مصروف مقام پر تین مردوں کو اِس طرح روتا دیکھ کر دیکھنے والے بھی حیران ہوتے ہوں گے۔لیکن کیا کیا جائے۔بعض سیلاب ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر بند باندھنا مُمکن نہیں ہوتا۔"
حاصلِ تحریر یہ ہے کہ طارق محمود مرزا صاحب ایک مہان نثر نگار ہیں اور سفرنامہ تحریر کرنے میں اُنہیں یدِ طولیٰ حاصل ہے۔اُن کا ہر سفرنامہ ایک ایسا سیاحتی پیکیج ہے جِس کے باعث قاری بغیر کُچھ خرچ کیے دُنیا جہان کی سیرکا لُطف اُٹھا لیتا ہے۔پاکستان میں جو ادبی ادارہ ہر سال کی بہترین کُتب پر انعام و اکرام دینے پر قادر ہے وہ اگر سفرنامہ کی صنف کے لیے الگ سے کوئی اعزاز رکھے تو مرزا صاحب سے زیادہ اُس کا کوئی حقدار نہیں ہو گا۔
تبصرہ نگار:- محمد بُوٹا انجم،کوالا لمپور،ملائیشیا۔

 

Tariq Mirza
About the Author: Tariq Mirza Read More Articles by Tariq Mirza: 56 Articles with 58249 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.