سفر نامہ : ملکوں ملکوں دیکھا چاند مصنف : طارق محمود مرزا تبصرہ نگار : برگیڈیر ( ر) صولت رضا ناشر : سنگ میل پبلیشر لاہور اردو ادب میں سفرنامہ محض جغرافیائی فاصلوں کی پیمائش نہیں بلکہ تہذیبی، فکری اور داخلی سفر کا بیان بھی ہوتا ہے۔ "ملکوں ملکوں دیکھا چاند" اسی روایت کا تسلسل ہے جہاں مصنف نے ڈنمارک، سویڈن، ناروے اور قطر کے سفر کو صرف مشاہدے کی سطح پر نہیں رکھا بلکہ اسے ایک فکری مکالمے میں ڈھال دیا ہے۔ یہ کتاب بظاہر مختلف ملکوں کی سیاحت کا احوال ہے مگر باطن میں یہ ایک پاکستانی ذہن کی آنکھ سے ترقی یافتہ معاشروں کو دیکھنے کی کوشش ہے اور اسی تقابل میں اس کی اصل معنویت پوشیدہ ہے۔ طارق محمود مرزا کا اسلوب سادہ، رواں اور بے تکلف ہے۔ وہ ثقیل الفاظ یا مصنوعی ادبی تراکیب کے سہارے قاری کو مرعوب نہیں کرتے بلکہ گفتگو کے انداز میں منظر نگاری کرتے ہیں۔ ان کے ہاں جملے چھوٹے اور واضح ہیں جو بیانیہ کو روانی عطا کرتے ہیں۔ یہی سادگی اس سفرنامے کی سب سے بڑی قوت ہے کیونکہ مصنف قاری کو اپنے ساتھ قدم بہ قدم سفر پر لے جاتا ہے۔ کہیں وہ ڈنمارک کی منظم شہری زندگی کا ذکر کرتے ہیں، کہیں سویڈن کی فلاحی ریاست کا نظام بیان کرتے ہیں، کہیں ناروے کے قدرتی مناظر کی تصویری جھلک دکھاتے ہیں اور کہیں قطر کی تیز رفتار ترقی پر تبصرہ کرتے ہیں۔ ہر مقام پر ان کی نگاہ صرف سطحی نہیں بلکہ تجزیاتی ہے۔ کتاب کا اہم پہلو اس کا تقابلی زاویہ ہے۔ مصنف یورپی معاشروں کی صفائی، قانون کی پاسداری، ٹیکس نظام اور سماجی برابری کو بیان کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر پاکستانی معاشرے کی کمزوریوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم یہ تنقید جارحانہ نہیں بلکہ شائستہ اور مہذب ہے۔ وہ کہیں بھی احساسِ کمتری کا شکار نظر نہیں آتے بلکہ ایک سنجیدہ مشاہد کار کی حیثیت سے دونوں معاشروں کے فرق کو سامنے رکھتے ہیں۔ یہی توازن اس سفرنامے کو محض تعریف یا مرعوبیت سے بچاتا ہے۔ ڈنمارک اور سویڈن کے ابواب میں فلاحی ریاست کا تصور نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ مصنف وہاں کے تعلیمی اور صحت کے نظام کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ریاست جب شہری کو بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہے تو معاشرہ خود بخود نظم و ضبط اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں وہ ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہیں کہ ترقی صرف بلند عمارتوں کا نام نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور کا نتیجہ ہے۔ اس نکتے کی ادبی اہمیت یہ ہے کہ سفرنامہ معاشرتی فلسفے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ناروے کے باب میں فطرت کی منظر نگاری خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ مصنف برف پوش پہاڑوں، نیلگوں جھیلوں اور خاموش وادیوں کا ذکر اس انداز میں کرتے ہیں کہ قاری کے سامنے ایک تصویری منظر ابھر آتا ہے۔ یہاں ان کی نثر میں قدرے شاعرانہ رنگ بھی شامل ہو جاتا ہے۔ مگر یہ شاعرانہ پن اعتدال میں رہتا ہے اور بیانیہ کو بوجھل نہیں ہونے دیتا۔ منظر نگاری کے ساتھ ساتھ وہ وہاں کے شہریوں کے رویّوں اور سماجی ہم آہنگی کا ذکر بھی کرتے ہیں جس سے سفرنامہ محض قدرتی حسن کی داستان نہیں رہتا بلکہ انسانی اقدار کا مطالعہ بن جاتا ہے۔ قطر کے حوالے سے مصنف کا انداز قدرے مختلف ہے۔ یہاں وہ ایک ایسے ملک کو دیکھتے ہیں جو تاریخی طور پر اسکینڈے نیوین ممالک جتنا قدیم فلاحی ڈھانچہ نہیں رکھتا مگر تیز رفتار ترقی کی مثال ہے۔ وہ جدید انفراسٹرکچر، بین الاقوامی ماحول اور معاشی وسعت کا ذکر کرتے ہیں۔ تاہم اس بیان میں بھی ایک تنقیدی شعور موجود ہے جہاں وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ترقی کی رفتار کے ساتھ ثقافتی شناخت برقرار رہ پاتی ہے؟ یہ سوال سفرنامے کو فکری گہرائی فراہم کرتا ہے۔ ادبی اعتبار سے دیکھا جائے تو کتاب میں مکالماتی انداز نمایاں ہے۔ مصنف بعض مقامات پر مقامی افراد سے گفتگو کا ذکر کرتے ہیں جس سے بیانیہ میں زندگی آ جاتی ہے۔ قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ محض ایک راوی کی بات نہیں سن رہا بلکہ براہِ راست حالات کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اس تکنیک سے متن میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور یکسانیت ٹوٹتی ہے۔ تنقیدی نقطۂ نظر سے اگر دیکھا جائے تو کتاب کی سب سے بڑی طاقت اس کی سادگی ہے مگر یہی سادگی بعض مقامات پر گہرائی میں کمی کا احساس بھی دلاتی ہے۔ کچھ موضوعات ایسے ہیں جہاں مزید تجزیہ یا تاریخی پس منظر شامل کیا جا سکتا تھا۔ مثلاً اسکینڈے نیوین فلاحی ماڈل کی تشکیل کے اسباب یا قطر کی معیشت کی ساخت پر قدرے تفصیلی گفتگو کتاب کو مزید مضبوط بنا سکتی تھی۔ تاہم یہ کمی اس کی مجموعی تاثیر کو کم نہیں کرتی کیونکہ مصنف کا مقصد تحقیقی مقالہ پیش کرنا نہیں بلکہ ایک مشاہداتی سفرنامہ لکھنا ہے۔ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ کتاب میں جذباتیت کم اور حقیقت پسندی زیادہ ہے۔ مصنف کسی مقام کو جنت یا دوزخ قرار نہیں دیتے بلکہ اعتدال کے ساتھ خوبیوں اور خامیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ یہی اعتدال ادبی وقار کو برقرار رکھتا ہے۔ اردو سفرناموں کی روایت میں بعض اوقات مبالغہ آرائی یا غیر ضروری مدح سرائی دیکھنے کو ملتی ہے مگر یہاں مصنف اس رویے سے بچتے نظر آتے ہیں۔ زبان کی سطح پر کتاب نہایت رواں ہے۔ جملوں کی ساخت سادہ اور عام فہم ہے جس سے عام قاری بھی بآسانی لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی ایک سنجیدہ قاری کو بھی فکری مواد میسر آتا ہے۔ یہی دوہرا تاثر کسی بھی کامیاب نثر کی پہچان ہوتا ہے۔ مصنف کی تحریر میں غیر ضروری طوالت نہیں بلکہ ہر پیراگراف اپنے موضوع سے جڑا رہتا ہے۔ مجموعی طور پر "ملکوں ملکوں دیکھا چاند" ایک ایسا سفرنامہ ہے جو جغرافیے سے آگے بڑھ کر تہذیب، معاشرت اور انسانی رویّوں کا مطالعہ پیش کرتا ہے۔ یہ کتاب قاری کو صرف بیرونی دنیا دکھانے کا فریضہ انجام نہیں دیتی بلکہ اسے اپنے معاشرے پر بھی غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہی دعوت اس کی اصل ادبی کامیابی ہے۔ اس میں نہ تو مرعوبیت ہے، نہ احساسِ برتری، بلکہ ایک متوازن نگاہ ہے جو دیکھتی بھی ہے اور سوچتی بھی ہے۔ اردو سفرنامہ نگاری کی روایت میں یہ کتاب ایک سنجیدہ اور باوقار اضافہ ہے۔ اس کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ قاری کے ذہن میں سوالات جگاتی ہے اور ترقی، تہذیب اور سماجی نظم کے مفاہیم پر دوبارہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ محض ایک سفری یادداشت نہیں بلکہ فکری دستاویز بھی ہے۔ یہی خصوصیت اسے دیرپا بناتی ہے اور اسے عام سیاحتی روداد سے ممتاز کرتی ہے۔
|