کہانی پیار کی ، کاروبار کی

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)



ہم اپنی کتابوں کا بستہ یا علم کا بوجھ لیے کلاس ختم ہونے کے بعد اور کسی استاد کی سرزنش پر رونے کے بعد ، جب سیڑھیاں اتر رہے ہوتے تو وہ اپنی دوست کے ساتھ سیڑھیوں پر ہی ایک طرف بیٹھ کر محبت کی خیالی سیڑھیاں چڑھ رہا ہوتا ۔

مجھے بڑی حیرت ہوتی اس سر عام محبت پر اور لوگوں کی نظروں سے بے نیاز دوام محبت پر اور وہ بھی بیچ رستے سیڑھیوں پر ۔

یہ جزبہ ہم سارے ہی دوستوں اور ہم جماعتوں میں موجود ہوتا مگر اظہار سے خوف زدہ کہ لوگ کیا کہیں گے ؟
علم میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دُھن یا لاشعوری طور پر حصول دولت و دّھن کی لگن میں مصروف ، وقت نہیں تھا جو اتنے دلفریب منظر سے محروم ہو کر صرف اس دل پھینک دوست کو دور سے تکتے تھک سکتے تھے ۔ وہ بڑے آرام سے بیٹھا اپنے محبوب کو قدموں میں لانے کی آرزو
میں ٹوٹکے کرنے کے بجائے آتے جاتے ہم جماعتوں کے قدموں میں ، سیڑھیوں کے بیچ ، اپنی محبت کی سیڑھیاں بیٹھے بیٹھے چڑھتا رہتا اور ہم لوگ علم کی سیڑھیاں چڑھنے کے باوجود تیزی سے نیچے اتر رہے ہوتے ۔
وہ اس کے ساتھ خاموش بیٹھی سر جھکائے سب کچھ کہہ رہی ہوتی اور ہم اپنے علم پر نازاں ہونے کے بجاے ان دونوں کی نڈر محبت پر شاداں و فرحان ہوتے۔

وقت کا پہیہ گھوما اور جو وقت بچپن میں بہت سست
رفتار تھا اچانک سبک رفتار ہو گیا۔

پتہ نہیں کون کہاں پہنچ گیا اور کتنا پہنچا ہوا ہو گیا لیکن کئ برسوں کے بعد جب ہم مل بیٹھنے لگے تو وقت وہیں سے شروع ہو جاتا اور سب بھول جاتے کے وہ عمر کے کس حصے میں ہیں ، بس سب اپنا حصہ ڈالتے اس کھانے کے بل میں جو دلفریب باتوں کے ساتھ اور پرانی یادوں کے ساتھ کھایا جاتا اور مزہ اڑایا جاتا ۔

ایسی ہی ایک محفل میں ایک دوست نے مجھے اپنی کہانی سنائ کہ وہ اس وقت کی عام روش کے تحت ملک سے باہر تعلیم و روزگار کے حصول میں مزے سے زندگی گزار رہا تھا کہ اچانک اس کے والدین کی طرف سے پکار آئ کہ اب ہمارا دل تمہارے بغیر نہیں لگ رہا ، عمر بھی تقاضا کر رہی ہے کہ اب تمہارا ساتھ چاہیے ۔
اس نے بتایا کہ بعیر سوچے سمجھے میں نے بیگ اٹھایا اور سب چھوڑ کر والدین کے پاس جا پہنچا ۔

حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں
لبیک !!

اور مجھے یاد آیا کہ میں نے بھی یہ الفاظ کہے تھے ، جب میں کئ برس پہلے والد صاحب کے ساتھ ایک بڑے دربار میں اپنی تمام خطاؤں کے ساتھ حاضر ہوا تھا۔

میں سوچ رہا کہ وہ سیڑھیوں والا پیار تھا جو سب دوستوں کو چھوڑ کر سیڑھیوں پر بیٹھا تھا یا وہ پیار جو والدین کی محبت میں اپنی پسند کی دنیا چھوڑ کر ان کے قدموں بیٹھا تھا اور یہاں تو محبوب کے بجاے محب قدموں میں بیٹھا تھا۔

اس نے بتایا کہ اس ہجرت پر خدا نے بہت نوازا کہ درمیانے درجے کے کاروبار سے اچانک بڑے کاروبار کا دروازہ کھل گیا اور دولت خود قدموں میں آ کر بیٹھ گئ ۔

یہ تمام پیار جو مجازی سیڑھیوں سے شروع ہوا تھا ، روحانی سیڑھیاں چڑھتا ایک دن بڑی حاضری تک پہنچ گیا ۔

لبیک!!

میں حاضر ہوں !!
تیرے سوا میرا کوئ نہیں ۔

سارے پیار کے دریا شائد صرف ایک پیار کے سمندر کی طرف جاتے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ

میرے بندوں سے پیار کرو !!


ن سے نعمان 
Noman Baqi Siddiqi
About the Author: Noman Baqi Siddiqi Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 258 Articles with 351839 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.