زندگی کے پندرہ سنہری اصول
(Dr. Talib Ali Awan, Sialkot)
زندگی کے پندرہ سنہری اصول (تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان) زندگی کوئی سیدھی لکیر نہیں، ایک مسلسل سفر ہے؛ ایسا سفر جس میں انسان کبھی سیکھتا ہے، کبھی ٹھوکر کھاتا ہے، کبھی سنبھلتا ہے اور کبھی خود کو نئے سرے سے دریافت کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر لوگ کامیابی کے راز تو تلاش کرتے رہتے ہیں، مگر اچھی زندگی گزارنے کے اصول بھول جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک متوازن، پُرسکون اور باوقار زندگی بڑے فلسفوں سے نہیں، چند بنیادی اصولوں سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ اصول کتابوں سے کم اور تجربات، مشاہدات اور بزرگوں کی خاموش دانائی سے زیادہ سیکھنے کو ملتے ہیں۔ آج کا انسان سہولتوں کے باوجود بے سکونی کا شکار ہے۔ وسائل بڑھ گئے، مگر اطمینان کم ہو گیا؛ معلومات بڑھ گئیں، مگر حکمت کم ہوتی گئی۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے جینے کے اصولوں کو کامیابی کی دوڑ میں کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اگر انسان واقعی ایک معیاری اور متوازن زندگی چاہتا ہے تو اسے چند بنیادی اصولوں کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ 1۔ والدین کا احترام: انسان جتنا بھی بڑا ہو جائے، اس کی جڑیں وہیں رہتی ہیں جہاں سے اس نے چلنا سیکھا تھا۔ والدین صرف ایک رشتہ نہیں، ایک سایہ ہوتے ہیں۔ ان کی دعائیں وہ خاموش سرمایہ ہیں جو مشکل وقت میں بھی انسان کے راستے روشن رکھتی ہیں۔ 2۔ وقت کی قدر: وقت شاید وہ واحد دولت ہے جو امیر اور غریب دونوں کو برابر ملتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کون اسے ضائع کرتا ہے اور کون اس سے مستقبل بناتا ہے۔ وقت گزر جانے کے بعد صرف پچھتاوا باقی رہ جاتا ہے۔ 3۔ سیکھنے کا سفر کبھی نہ روکیں: علم صرف ڈگری کا نام نہیں، شعور کا نام ہے۔ جو شخص سیکھنا چھوڑ دیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ زمانے سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ دراصل انسان کی اصل جوانی اس کے سیکھنے کے شوق میں ہوتی ہے۔ 4۔ دوست سوچ سمجھ کر چنیں: انسان اپنی صحبت کا عکس بن جاتا ہے۔ کچھ لوگ ہمیں سنوارتے ہیں، جبکہ کچھ آہستہ آہستہ ہمارے خواب، اعتماد اور شخصیت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ اس لیے دوست صرف وقت گزارنے کے لیے نہیں، کردار سنوارنے کے لیے منتخب کیے جائیں۔ 5۔ دیانت اور سچائی کو نہ چھوڑیں: جھوٹ وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر دل کا سکون چھین لیتا ہے۔ سچائی کبھی کبھی مشکل ضرور لگتی ہے، مگر آخرکار اعتماد، عزت اور اطمینان اسی کے حصے میں آتے ہیں۔ 6۔ محنت کا کوئی متبادل نہیں: ہر بڑی کامیابی کے پیچھے ایک خاموش جدوجہد ہوتی ہے۔ دنیا اکثر صرف کامیابی دیکھتی ہے، مگر اس کے پیچھے کی قربانیاں، ناکامیاں اور صبر نہیں دیکھ پاتی۔ 7۔ کامیابی میں عاجزی اختیار کریں: زندگی کا عجیب اصول ہے؛ جو جتنا بڑا ہوتا ہے، اتنا ہی جھکنا سیکھ لیتا ہے۔ پھل دار درخت ہمیشہ جھکے رہتے ہیں اور خالی شاخیں زیادہ شور مچاتی ہیں۔ 8۔ دوسروں کے کام آئیں: زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں۔ کبھی کسی کو سہارا دینا، کسی کا دکھ سن لینا یا ایک اچھا مشورہ دینا بھی صدقۂ جاریہ بن جاتا ہے۔ 9۔ اپنے آپ پر یقین رکھیں: دنیا اکثر انسان کی صلاحیتوں پر شک کرتی ہے، مگر اگر انسان خود ہی خود پر یقین کھو دے تو پھر راستے واقعی مشکل ہو جاتے ہیں۔ خود اعتمادی غرور نہیں، اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کا نام ہے۔ 10۔ غصے پر قابو رکھیں: غصہ چند لمحوں کا ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات برسوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔ بعض اوقات ایک تلخ جملہ برسوں کے تعلق کو زخمی کر دیتا ہے۔ 11۔ صحت کو نظر انداز نہ کریں: اکثر انسان جوانی صحت قربان کر کے دولت کماتا ہے، اور بڑھاپے میں دولت خرچ کر کے صحت ڈھونڈتا ہے۔ جسم اور ذہن دونوں کی حفاظت ضروری ہے۔ 12۔ شکر گزاری سیکھیں: جو صرف محرومی گنتا رہے، وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔ سکون اکثر اُن لوگوں کے حصے میں آتا ہے جو کمیوں/خامیوں کے باوجود نعمتوں کو پہچاننا جانتے ہیں۔ 13۔ “نہیں” کہنا سیکھیں: ہر کسی کو خوش کرنا ممکن نہیں۔ بعض اوقات اپنی ذہنی سلامتی، وقت اور وقار کے لیے انکار بھی ضروری ہوتا ہے۔ 14۔ تنہائی سے دوستی کریں: کچھ وقت اپنے ساتھ گزارنا کمزوری نہیں، ضرورت ہے۔ شور انسان کو دوسروں کی آواز سناتا ہے، مگر خاموشی اسے اپنے دل کی بات سننے کا موقع دیتی ہے۔ 15۔ معاف کرنا سیکھیں: ہر بوجھ زندگی بھر اٹھانا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض زخم انصاف سے نہیں، درگزر سے ہلکے ہوتے ہیں۔ معاف کرنا دوسروں پر احسان نہیں، اپنے دل کو آزاد کرنے کا نام ہے۔ اگر زندگی کو ایک عمارت سمجھا جائے تو یہ اصول اس کی بنیاد ہیں۔ بنیاد کمزور ہو تو عمارت چاہے جتنی خوبصورت ہو، ایک دن ہلنے لگتی ہے؛ اور اگر بنیاد مضبوط ہو تو سادگی میں بھی استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے کامیابی کو صرف دولت، شہرت اور آسائش سے جوڑ دیا ہے، حالانکہ اصل کامیابی ایک متوازن شخصیت، مطمئن دل اور باوقار کردار کا نام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اچھی زندگی محض اتفاق سے نہیں بنتی، اسے شعوری طور پر تعمیر کرنا پڑتا ہے۔ یہ پندرہ اصول کوئی مشکل فلسفہ نہیں، مگر اگر انسان مستقل مزاجی سے انہیں اپنی زندگی میں جگہ دے دے تو شاید بہت سی الجھنیں خود بخود سلجھنے لگیں۔
|