ہم صرف بولنا سیکھے، سننا نہیں

(Dr. Talib Ali Awan, Sialkot)

ہم صرف بولنا سیکھے، سننا نہیں
(تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان)
۔۔۔۔۔
کبھی غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے زمانے کا سب سے بڑا بحران معاشی نہیں، جذباتی بھی نہیں، بلکہ فکری اور ابلاغی ہے۔ ہم نے بولنے کی صلاحیت تو برقرار رکھی، مگر مکالمے کی روح کھو دی۔ انسان صدیوں سے اختلاف کرتا آیا ہے، مگر ہر اختلاف دشمنی نہیں بنتا تھا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے خیالات سے اس قدر خوف زدہ ہو گئے ہیں کہ گفتگو سے پہلے احتیاط اور خاموشی کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ یہ خاموشی سکون کی نہیں، فاصلے کی علامت ہے۔
تعلقات اچانک نہیں مرتے۔ وہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتے ہیں؛ جیسے دیوار میں پڑنے والی باریک دراڑ، جو ابتدا میں معمولی محسوس ہوتی ہے، مگر وقت کے ساتھ پوری عمارت کو غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔ اکثر رشتے کسی بڑے حادثے سے نہیں ٹوٹتے، بلکہ نہ کہے گئے جملوں، ادھوری وضاحتوں، اور مسلسل نظر انداز ہونے والے احساسات کے بوجھ تلے بکھر جاتے ہیں۔ انسان اُس وقت سب سے زیادہ تنہا نہیں ہوتا جب وہ اکیلا ہو، بلکہ اُس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اپنی بات کہنے سے محروم ہو جائے۔
آج کا انسان معلومات کے سمندر میں کھڑا ہے، مگر فہم کی پیاس بڑھتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہار کو آسان ضرور بنایا، مگر تفہیم کو مشکل بھی کر دیا۔ ہم نے گفتگو کو جملوں کی جنگ بنا دیا ہے۔ ہر شخص سننے کے لیے نہیں، جواب دینے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ دلیل اب سچ کی تلاش کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ انا کی حفاظت کا ہتھیار بنتی جا رہی ہے۔ اسی لیے مباحث بڑھ رہے ہیں، مگر بصیرت کم ہو رہی ہے۔
معاشرے کا تصور ایک جسم کی مانند ہے اور مکالمہ اس کی سانس ہے۔ جب سانس متاثر ہو جائے تو جسم بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی کمزور پڑنے لگتا ہے۔ یہی حال ہمارے گھروں، اداروں اور سماجی رویّوں کا ہے۔ والدین اولاد سے شکوہ کرتے ہیں کہ بچے دور ہو گئے، اولاد محسوس کرتی ہے کہ انہیں سمجھا نہیں جا رہا۔ میاں بیوی ایک ہی چھت تلے رہتے ہیں، مگر ان کے درمیان فاصلے کبھی کبھی میلوں کے برابر ہو جاتے ہیں۔ دوستیاں بھی اب مشترکہ مفادات تک محدود ہونے لگی ہیں۔
المیہ یہ نہیں کہ اختلافات بڑھ گئے ہیں، المیہ یہ ہے کہ برداشت کم ہو گئی ہے۔ ہم نے دوسروں کو سننے کے بجائے انہیں اپنی سوچ کے سانچے میں ڈھالنے کی ضد پال لی ہے۔ حالانکہ ذہنی بلوغت کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ انسان اختلاف کو برداشت کر سکے، بغیر اس کے کہ محبت کم ہو یا احترام مجروح ہو۔ دنیا کی بڑی تہذیبیں مکالمے سے پروان چڑھیں اور معاشرے اُس وقت زوال کا شکار ہوئے جب لوگوں نے ایک دوسرے کو سننا چھوڑ دیا۔
ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ ہم نے وقت دینا چھوڑ دیا ہے۔ تعلقات وقت مانگتے ہیں، توجہ چاہتے ہیں اور بعض اوقات صرف خاموش موجودگی بھی کافی ہوتی ہے۔ مگر ہم نے تعلقات کو بھی کارکردگی کی دوڑ کا حصہ بنا دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چند رسمی جملے، چند پیغامات یا سالگرہ کی مبارک باد رشتوں کو زندہ رکھ سکتی ہے، حالانکہ تعلقات کو زندہ رکھنے کے لیے جذباتی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔
شاید اسی لیے جدید انسان کے پاس رابطے تو بہت ہیں، مگر وابستگیاں کم ہیں۔ وہ سیکڑوں لوگوں کے درمیان موجود ہو کر بھی کسی ایک شخص کی تلاش میں رہتا ہے جو بغیر جلدی کیے، بغیر فیصلہ سنائے، صرف اس کی بات سن لے۔ کیونکہ انسان کو ہمیشہ مشورے کی ضرورت نہیں ہوتی، کبھی کبھی اسے صرف سمجھ لیے جانے کی خواہش ہوتی ہے۔
فکری سطح پر دیکھا جائے تو گفتگو کا خاتمہ صرف رشتوں کا مسئلہ نہیں، یہ ایک تہذیبی بحران بھی ہے۔ جب معاشرے میں سوال کرنے، اختلاف رکھنے اور تحمل کے ساتھ سننے کی روایت کمزور پڑ جائے تو فکری جمود جنم لیتا ہے۔ پھر معاشرے ترقی کے باوجود اندر سے کمزور ہونے لگتے ہیں، کیونکہ عمارتیں تو تعمیر ہو جاتی ہیں، مگر ذہن سکڑنے لگتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے آخری بار کسی کی بات واقعی سننے کے لیے کب وقت نکالا تھا؟ کب کسی اختلاف کو انا کے بغیر قبول کیا تھا؟ اور کب کسی اپنے کی خاموشی کو محض مزاج نہیں، ایک ممکنہ پکار سمجھا تھا؟
زندگی میں بعض نقصان فوری نظر نہیں آتے۔ کچھ خسارے وقت کے ساتھ سمجھ آتے ہیں۔ تعلقات بھی انہی میں سے ہیں؛ وہ جب تک موجود ہوتے ہیں، معمول محسوس ہوتے ہیں اور جب کمزور پڑنے لگیں تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ لفظ کبھی نہیں مرتے، مگر اُن کے درمیان پل ضرور ٹوٹ جاتے ہیں جن پر رشتے کھڑے ہوتے ہیں۔

 
Dr. Talib Ali Awan
About the Author: Dr. Talib Ali Awan Read More Articles by Dr. Talib Ali Awan: 74 Articles with 117417 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.