ماحولیاتی تحفظ اور ترقی کا چینی ماڈل

ماحولیاتی تحفظ اور ترقی کا چینی ماڈل
تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ

جدید دنیا کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ کئی ممالک نے تیز رفتار ترقی کی دوڑ میں قدرتی وسائل اور ماحولیات کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں آلودگی، ماحولیاتی بگاڑ اور عوامی صحت کے مسائل نے جنم لیا۔ تاہم چین نے گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ایک ایسا ترقیاتی ماڈل اختیار کیا ہے جس میں اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کا معاون قرار دیا گیا ہے۔ چین کے صوبہ فوجیان کے شہر شیامن کی یوندانگ جھیل کی داستان اسی سوچ کا ایک نمایاں مظہر ہے، جو آج چین کی ماحولیاتی حکمرانی اور سبز ترقی کی علامت بن چکی ہے۔

آج جب صبح کی سنہری کرنیں یوندانگ جھیل کے پانی پر بکھرتی ہیں تو سفید بگلے پانی کے اوپر پرواز کرتے دکھائی دیتے ہیں اور فوٹوگرافر اس حسین منظر کو اپنے کیمروں میں محفوظ کرنے کے لیے جھیل کے کنارے جمع ہوتے ہیں۔ لیکن چند دہائیاں قبل صورتحال بالکل مختلف تھی۔ جھیل کا پانی سیاہ ہو چکا تھا، تعفن اس قدر شدید تھا کہ لوگ کھڑکیاں کھولنے سے بھی گریز کرتے تھے اور پرندوں کا وجود تقریباً ناپید ہو گیا تھا۔

یوندانگ دراصل ایک ساحلی خلیج تھی جسے 1970 کی دہائی میں زمین کی بحالی کے منصوبوں کے تحت اندرونی جھیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ بعد ازاں تیز رفتار صنعتی ترقی کے دوران کاغذ سازی، چمڑے کی صنعت اور مشروبات تیار کرنے والی فیکٹریوں سمیت ایک سو سے زائد صنعتی اداروں نے اپنا فضلہ براہ راست جھیل میں ڈالنا شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں جھیل شدید آلودگی کا شکار ہو گئی اور مقامی آبادی کی شکایات میں مسلسل اضافہ ہونے لگا۔

1988 میں جب شی جن پھنگ شیامن کے نائب میئر تھے، اس وقت چین اقتصادی ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہا تھا اور مقامی حکام کے سامنے ایک مشکل سوال موجود تھا کہ آیا ترقی کو جاری رکھنے کے لیے ماحولیات کو قربان کیا جائے یا پھر قدرتی ماحول کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اس وقت جھیل کی بحالی کے لیے سالانہ ایک کروڑ یوان مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی، جو اس دور میں ایک بہت بڑی رقم سمجھی جاتی تھی۔ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ محدود مالی وسائل کے حامل شہر کے لیے اتنا بڑا خرچ ممکن نہیں۔

تاہم شی جن پھنگ نے واضح موقف اختیار کیا اور جھیل کی بحالی کے منصوبے کی منظوری دی۔ ان کی ہدایت پر جھیل کے اطراف موجود آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو بند یا منتقل کیا گیا جبکہ پانی کی صفائی اور ماحولیاتی بحالی کے وسیع منصوبوں کا آغاز کیا گیا۔ شی جن پھنگ نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ قدرتی مناظر اور ماحولیاتی وسائل کا تحفظ دور رس اہمیت کا حامل ہے اور ماحولیات کو نقصان پہنچا کر حاصل کی جانے والی ترقی دراصل "تباہ کن ترقی" کے مترادف ہے۔

شی جن پھنگ کی ماحولیاتی سوچ اس اصول پر مبنی ہے کہ انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنا پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ وہ بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ اگر انسان فطرت کو نقصان پہنچائے گا تو اس کے منفی اثرات بالآخر خود انسان کو ہی بھگتنا پڑیں گے۔ اسی لیے انہوں نے معاشی ترقی کی پیمائش کے لیے صرف مجموعی قومی پیداوار کو معیار بنانے کی مخالفت کی اور ماحولیات کو ترقی کے جائزے کا ایک بنیادی عنصر قرار دیا۔

یوندانگ جھیل کی بحالی کے نتائج آج پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ جھیل کے اطراف ایک خوبصورت ویٹ لینڈ پارک قائم ہو چکا ہے جہاں تقریباً ایک سو اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں۔ یہ علاقہ ملک کے معروف برڈ واچنگ مراکز میں شمار ہوتا ہے اور سیاحوں، فطرت سے محبت کرنے والوں اور فوٹوگرافروں کے لیے ایک بڑی کشش بن چکا ہے۔

اس ماحولیاتی تبدیلی نے صرف جھیل ہی نہیں بلکہ پورے شہر کی تقدیر بدل دی۔ آج شیامن کو "سمندر میں باغ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ گزشتہ سال یہاں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد دس کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ صاف ستھرا ماحول اور بہتر شہری منصوبہ بندی نے جدید خدماتی شعبے، مالیاتی اداروں اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کی صنعتوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ وہ فیکٹریاں جو کبھی آلودگی کا سبب بنتی تھیں، ان کی جگہ اب جدید ٹیکنالوجی کمپنیاں، مالیاتی مراکز اور اعلیٰ معیار کے ہوٹل قائم ہو چکے ہیں۔

آج شیامن کی معیشت الیکٹرانک انفارمیشن، مشینری و آلات سازی، تجارت و لاجسٹکس اور مالیاتی خدمات جیسے جدید شعبوں پر مشتمل ہے۔ گزشتہ چالیس برسوں کے دوران شہر کی معیشت نے اوسطاً 13.6 فیصد سالانہ ترقی کی شرح برقرار رکھی، جو قومی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کو تقویت دینے والے عوامل ہیں۔

شی جن پھنگ کی قیادت میں یہ سوچ بعد ازاں قومی پالیسی کا حصہ بن گئی۔ چین نے فضائی آلودگی کے خاتمے، دریائے یانگسی کے ماحولیاتی نظام کے تحفظ، جنگلات کے فروغ، قابل تجدید توانائی کے استعمال اور قدرتی ماحول کی بحالی کے لیے وسیع اقدامات کیے ہیں۔ چین آج دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھنے والا قابل تجدید توانائی کا نظام رکھتا ہے اور عالمی سطح پر نئی سبز اراضی میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ چین کا ہے۔ رواں سال منظور ہونے والا ماحولیاتی ضابطہ قانون بھی ماحولیات کے تحفظ کے لیے قانونی بنیادوں کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

یوندانگ جھیل کی کہانی دراصل جدید چین کی ماحولیاتی تبدیلی کی ایک جھلک ہے۔ یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر دور اندیش قیادت، واضح وژن اور عوامی شمولیت کو یکجا کر دیا جائے تو آلودگی سے متاثرہ علاقے بھی دوبارہ زندگی پا سکتے ہیں۔ آج یوندانگ جھیل نہ صرف شیامن کی خوبصورتی کی علامت ہے بلکہ اس حقیقت کی بھی گواہ ہے کہ سبز ترقی ہی پائیدار خوشحالی کا راستہ ہے۔ چین کا تجربہ دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ قدرتی ماحول کا تحفظ صرف آنے والی نسلوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ موجودہ نسل کی ترقی، خوشحالی اور بہتر معیارِ زندگی کی بھی ضمانت ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1987 Articles with 1166383 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More