کراچی کو اس کا حق کیسے ملے گا؟۔

کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جو پورے ملک کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ روزگار کی تلاش میں خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان، کشمیر، گلگت بلتستان اور سندھ کے مختلف اضلاع سے لاکھوں افراد یہاں آتے ہیں۔ کراچی دراصل پاکستان کا سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا شہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عیدالفطر، عیدالاضحیٰ یا دیگر تہواروں کے مواقع پر طویل تعطیلات آتی ہیں تو کراچی سے ایک غیر معمولی نقل مکانی دیکھنے میں آتی ہے۔ بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں پر رش اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اس شہر میں آباد لاکھوں افراد کی جڑیں ملک کے دوسرے علاقوں سے وابستہ ہیں۔
کراچی ایک بار پھر سیاسی بحث کے مرکز میں ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے زاویۂ نگاہ سے اس شہر کے مستقبل کا نقشہ کھینچ رہی ہیں۔ کوئی کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی بات کر رہا ہے، کوئی اسے وفاق کے ماتحت ایک خصوصی انتظامی یونٹ قرار دینے کا مطالبہ کر رہا ہے اور کوئی اسے براہِ راست وفاق کے سپرد کرنے کی تجویز پیش کر رہا ہے۔ یہ مطالبات نئے نہیں، بلکہ وقتاً فوقتاً مختلف صورتوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کراچی کے مسائل کا حل ایک نئے صوبے یا نئی انتظامی تقسیم میں پوشیدہ ہے؟

میری رائے میں کراچی کے مسائل کی جڑ کسی آئینی یا جغرافیائی بندوبست میں نہیں بلکہ ایک بنیادی سوال میں چھپی ہوئی ہے: آخر کراچی کی اصل آبادی کتنی ہے؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا درست جواب مل جائے تو شاید آدھے سے زیادہ مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔ وسائل کی تقسیم ہو، ترقیاتی منصوبوں کا تعین ہو، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں ہوں یا بلدیاتی اختیارات، سب کا دارومدار آبادی پر ہوتا ہے۔ اگر آبادی کی درست گنتی نہ ہو تو وسائل کی تقسیم بھی درست نہیں ہو سکتی۔

کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جو پورے ملک کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ روزگار کی تلاش میں خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان، کشمیر، گلگت بلتستان اور سندھ کے مختلف اضلاع سے لاکھوں افراد یہاں آتے ہیں۔ کراچی دراصل پاکستان کا سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا شہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عیدالفطر، عیدالاضحیٰ یا دیگر تہواروں کے مواقع پر طویل تعطیلات آتی ہیں تو کراچی سے ایک غیر معمولی نقل مکانی دیکھنے میں آتی ہے۔ بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں پر رش اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اس شہر میں آباد لاکھوں افراد کی جڑیں ملک کے دوسرے علاقوں سے وابستہ ہیں۔

یہ کوئی منفی بات نہیں بلکہ کراچی کی کشادگی، وسعتِ قلب اور قومی کردار کا ثبوت ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ان لاکھوں افراد کی ایک بڑی تعداد برسوں بلکہ بعض اوقات دہائیوں سے کراچی میں مقیم ہونے کے باوجود اپنے شناختی کارڈ، انتخابی اندراج اور رہائشی ریکارڈ میں اپنے آبائی علاقوں کا پتہ برقرار رکھتی ہے۔ نتیجتاً مردم شماری، شہری منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم کے وقت ایک پیچیدہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

اگر کوئی شخص دس، پندرہ یا بیس سال سے مستقل طور پر کسی شہر میں مقیم ہے، وہیں روزگار کرتا ہے، اس کے بچے وہیں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اس کی معاشی و سماجی زندگی اسی شہر سے وابستہ ہے تو ریاست کو ایسی صورت حال کے لیے ایک واضح پالیسی وضع کرنی چاہیے۔ قانون سازی کے ذریعے ایک ایسا طریقۂ کار متعارف کرایا جا سکتا ہے جس کے تحت طویل عرصے سے کسی شہر میں مستقل رہائش اختیار کرنے والے افراد اپنی رہائشی معلومات کو باقاعدہ طور پر اپ ڈیٹ کریں تاکہ مردم شماری اور شہری منصوبہ بندی حقیقی آبادی کی بنیاد پر ہو سکے۔

یہ تجویز کسی شہری کے بنیادی حقوق محدود کرنے کے لیے نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے ہونی چاہیے۔ جب ریاست کے پاس درست اعداد و شمار ہوں گے تو پانی، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت، رہائش اور دیگر بنیادی سہولتوں کی منصوبہ بندی بھی حقیقت کے مطابق ہو سکے گی۔

دوسری جانب کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی تجویز اتنی آسان نہیں جتنی بعض سیاسی تقاریر میں دکھائی دیتی ہے۔ اس کے لیے آئینی تقاضے، سیاسی اتفاقِ رائے اور متعدد انتظامی مراحل درکار ہیں۔ مزید یہ کہ سندھ کی تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی وحدت کو نظر انداز کر کے کوئی بھی فیصلہ نئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ اندرون سندھ کے عوام میں احساسِ محرومی پیدا ہو سکتا ہے اور صوبے کے مختلف حصوں کے درمیان فاصلے بڑھ سکتے ہیں۔

اصل ضرورت نئے نقشے بنانے کی نہیں بلکہ موجودہ حقائق کو تسلیم کرنے کی ہے۔ کراچی کو اس کا حق ملنا چاہیے اور ضرور ملنا چاہیے، لیکن اس حق کے حصول کا راستہ نئی سرحدوں کے قیام سے نہیں بلکہ درست مردم شماری، شفاف اعداد و شمار، مضبوط بلدیاتی نظام اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہو کر گزرتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ جذباتی نعروں کے بجائے مردم شماری کی شفافیت، شہری ریکارڈ کی درستگی اور مقامی حکومتوں کے استحکام کے لیے آواز بلند کریں۔ کیوں کہ جب کراچی کی اصل آبادی گنی جائے گی، جب یہاں رہنے والوں کی حقیقی تعداد سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنے گی، اور جب وسائل اسی تناسب سے تقسیم ہوں گے تو شاید کراچی کو نہ الگ صوبہ بننے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی وفاق کے سپرد کیے جانے کی۔

کراچی پاکستان کا معاشی دل ہے۔ دل کو جسم سے الگ کر کے نہیں بلکہ اس کی دھڑکن کو مضبوط بنا کر پورے جسم کو صحت مند بنایا جاتا ہے۔ کراچی کے معاملے میں بھی دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ جذبات سے زیادہ حقائق اور سیاست سے زیادہ اعداد و شمار کو اہمیت دی جائے۔ کیوں کہ کراچی کا اصل مسئلہ صوبہ نہیں، شناخت اور گنتی کا مسئلہ ہے۔
 Arshad Qureshi
About the Author: Arshad Qureshi Read More Articles by Arshad Qureshi: 152 Articles with 206753 views My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet, CEO/ Editor Hum Samaj
.. View More