“ نہر زبیدہ دریائے دجلہ سے نہر نکال کر مکہ مکرمہ تک پہنچائی گی”





“ نہر زبیدہ دریائے دجلہ سے نہر نکال کر مکہ مکرمہ تک پہنچائی گی”



انجینیر: شاہد صدیق خانزادہ


سرزمینِ حجاز کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ یہاں کئی تاریخی مقامات کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ بچپن میں کہانی سن رکھی تھی کہ عباسی خلیفہ ہارون رشید کی اہلیہ ملکہ زبیدہ نے دریائے دجلہ سے نہر نکال کر مکہ مکرمہ تک لائیں۔
بات یہ ہے کہ لوگ نہر زبیدہ (عین زبیدہ) اور درب زیبدہ کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ حاجیوں کے لئے پانی کی فراہمی کے لئے مکہ مکرمہ کے قریب وادی نعمان سے نہر نکالی گئی۔
تاہم ملکہ زبیدہ نے بغداد سے مکہ مکرمہ تک حاجیوں کے قافلوں کے لئے جو گزر گاہ بنائی اسے درب زبیدہ کہا جاتا ہے۔
نہر زبیدہ 1200 برس تک مشاعر مقدسہ اور مکہ مکرمہ میں پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہی۔ آج کے دور میں ماہر نقشہ نویس اور انجینئر حیران ہیں کہ صدیوں پہلے فراہمیِ آب کے اس عظیم الشان منصوبے کو کیسے تکمیل تک پہنچایا گیا۔
نہر زبیدہ کا منصوبہ اس وقت کے ماہرین نے 10 سال کے عرصے میں مکمل کیا۔ اس کی کُل لمبائی 38 کلومیٹر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس منصوبے پر 170 ملین دینار لاگت آئی تھی۔ آج اس کاحساب لگایا جائے تو ایک دینار 10 گرام سونے کے برابر ہو گا جو بہت بڑی رقم بنتی ہے۔

یہ نہر 1950ء تک چلتی رہی بعد ازاں پمپوں کے ذریعے پانی کھینچے جانے کے باعث خشک ہو کر بند ہو گئی۔ آج بھی اس کا ایک بڑا حصہ محفوظ حالت میں ہے۔

نہر زبیدہ کب اور کیوں بنائی گئی ؟
۔
عباسی خلیفہ ہارون رشید کے انتقال کے بعد ملکہ زبیدہ حج کے لئے آئیں اور مکہ مکرمہ میں حاجیوں کے لئے پانی کی قلت کا نوٹس لیا۔ بغداد واپسی پر ماہر انجینیئرز اور نقشہ نویسوں کو بلا کر مکہ مکرمہ میں پانی کا مسئلہ حل کرنے کا حکم دیا۔

ماہرین نے ملکہ کو سروے کے بعد رپورٹ دی کہ نہر کی تعمیر کا کام انتہائی مشکل ہے۔ تاریخ کے حوالوں میں ملکہ زبیدہ کا یہ جملہ مشہور ہے کہ ’ہر قیمت پر نہر کی تعمیر کی جائے خواہ ہر کدال کی ضرب پر ایک دینار ہی خرچ کیوں نہ آئے ‘۔

مکہ مکرمہ کے قریب وادی نعمان سے پانی لایا گیا۔ اس وقت کے انجینیئرز نے سروے کے بعد وادی نعمان سے میدان عرفات اور پھر مکہ مکرمہ پانی کی فراہمی کا فیصلہ کیا ، اس وادی میں بارش اور پہاڑوں سے پانی آنے کے باعث زمین میں پانی کا لیول زیادہ تھا ۔

عرفات سے 10 کلو میٹر مشرق میں طائف کی طرف جبل کرا کے دامن میں وادی نعمان واقع ہے یہاں زمین میں پانی کی سطح خاصی بلند ہے اس علاقے میں بارش کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔

مصری ماہرین کی رپورٹ کے مطابق وادی نعمان سے پانی پہلے عرفات لے جایا گیا اس کے لئے ڈھلوان کی شکل میں پختہ انڈر گراﺅنڈ واٹر چینل بنایا گیا تاکہ پانی خود بخود بہتا ہوا جائے۔

پانی کا لیول یکساں رکھنے کے لئے کہیں یہ چینل نہر زمین سے اوپر ہے اور کہیں زمین سے نیچے ہے ، چینل کو پتھر اور چونے کی مدد سے پختہ کیا گیا تاکہ زمین سے حاصل ہونے والا پانی دوبارہ جذب نہ ہو جائے۔ یعنی پوری نہر زبیدہ کو خواہ وہ زمین کے اوپر ہے یا اندر پتھروں کو چونے سے جوڑ کر پلاسٹر کیا گیا ہے۔
نہر زبیدہ کو وادی نعمان سے پہلے میدان عرفات، مزدلفہ اور پھر مکہ مکرمہ تک ایک ڈھلوان کی صورت میں لایا گیا۔ آج عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس وقت کس طرح یہ کام انجام دیا گیا۔ سروے کے بغیر اتنا درست حساب کیسے لگایا گیا۔

نہر اونچے نیچے راستوں سے گھومتی ہے لیکن اس کا لیول برقرار رہتا ہے اسی نہر کے ساتھ جبل رحمت پر ایک سبیل بنائی گئی انجینیئرنگ کی یہ خوبصورتی ہے کہ نہر اتنے دُرست لیول پر تھی کہ سبیل میں پانی خود بھرتا تھا اور اس لیول پر تھا کہ لوگ اسے پی سکتے تھے۔

مزدلفہ میں نہر زبیدہ مسجد مشعر الحرام کے قریب کنویں کی شکل میں تھی اور وہاں سے لوگ پانی نکالتے تھے منیٰ کو بھی پانی یہاں سے فراہم کیا جاتا تھا بعد میں نہر پر پمپ لگا کر پانی منیٰ تک پہنچانے کا بندوبست کیا گیا منیٰ میں بھی حوض بنائے گئے ، ایک اندازے کے مطابق نہر زبیدہ سے 600 سے 800 کیوبک میٹر پانی روزانہ مکہ مکرمہ آتا تھا۔

1950ء تک نہر چلتی رہی آبادی بڑھی تو لوگوں کی پانی کی ضرورت بھی بڑھ گئی انہوں نے پمپ لگا کر زمین سے پانی نکالنا شروع کیا کئی مقامات پر چینل پر پمپ لگا کر پانی کھینچا گیا اس کے نتیجے میں زمین میں پانی کا لیول گر گیا اور یوں نہر خشک ہو گئی اب وادی نعمان میں بھی پانی کا اتنازیادہ لیول نہیں رہا۔

نہر زبیدہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور بحالی کے لئے مکہ مکرمہ میونسپلٹی نے کام شروع کر رکھا ہے ۔

رپورٹ میں تاریخی حوالوں سے بتایا گیا کہ ملکہ زبیدہ نے نہر کی تعمیر کا کام شروع کیا تھا، لیکن اسے مکہ مکرمہ تک نہیں لایا جا سکا تھا نہر مکہ مکرمہ کے علاقے عزیزیہ تک جاتی تھی جہاں ایک بڑا حوض بنایا گیا جو حوض زبیدہ کے نام سے معروف تھا، اس سے پانی بھر کر مکہ مکرمہ لے جایا جاتا تھا۔

حالیہ سروے میں جو بات سامنے آئی وہ یہ کہ چونکہ اب زیرِ زمین پانی کا لیول اتنا نہیں رہا کہ عین زبیدہ کو بحال کیا جائے نہر کے روٹ پر تعمیرات ہو چکی ہیں کچھ حصہ سڑک کے ساتھ ہے نہر جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی ہے ۔
تاہم مزدلفہ کے قریب ایک بڑا حصہ جو زمین کے اوپر ہے ( دیوار چین کے جیسا دکھائی دیتا ہے ) اور بڑی حد تک محفوظ بھی ہے مزدلفہ سے گزرتے ہوئے سڑک کے ساتھ ساتھ وہ حصہ دکھائی دیتا ہے ۔

تجویز یہ تھی کہ نہر زبیدہ کو مکمل بحال کرنے کے بجائے اس کے کچھ حصے کو بحال کیا جائے مزید یہ کہ ایک وزٹر سینٹر بنایا جائے، وہاں لوگوں کو بتایا جائے کہ نہر زبیدہ کام کس طرح کرتی تھی تاکہ لوگوں کو اندازہ ہو کہ کتنا پانی تھا اور کیسے آتا تھا

 

شاہد صدیق خانزادہ
About the Author: شاہد صدیق خانزادہ Read More Articles by شاہد صدیق خانزادہ: 508 Articles with 375746 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.