ایک خواب کے بعد
کبھی کبھی انسان اپنی زندگی کے کئی سال ایک ایسے خواب کے پیچھے گزار دیتا ہے، جس کے پورا نہ ہونے کا اس نے کبھی گمان بھی نہیں کیا ہوتا۔ کچھ ایسے ہی حالات سے میں بھی دوچار ہوئی۔
بچپن سے سفید کوٹ میری توجہ کا مرکز رہا۔ صرف سفید کوٹ پہننے کا شوق ہی نہیں تھا بلکہ اسے حاصل کرنے کی تگ و دو بھی میری رگ رگ میں شامل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے اپنی زندگی کے جوانی کے انتہائی قیمتی سال اس خواب کو پانے میں صرف کر دیے۔ میرا ذہن اس خیال سے بھی کوسوں دور تھا کہ اب وہ خواب ادھورا رہ جائے گا۔
اسی لیے اسکول اور کالج میں دن رات ایک کیے، کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر، ہمیشہ اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔ میٹرک میں 96 فیصد اور ایف ایس سی میں 92 فیصد نمبر اس بات کا ثبوت تھے کہ میں نے صرف خواب نہیں دیکھا تھا بلکہ اسے حقیقت بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کی تھی۔
ایف ایس سی کے بعد اب MDCAT کی تیاری کا وقت تھا۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ موٹی سی کتاب، جس کے اوپر Medical and Dental Entrance Book لکھا تھا، جس لفافے میں پیک ہو کر میرے پاس آئی تھی، وہ لفافہ آج تک میری الماری میں محفوظ ہے۔
میں نہیں جانتی تھی کہ یہ لفافہ میری رگ رگ میں ہر روز ایک نیا درد کیوں پیدا کرے گا۔
آج بھی جب یہ لفافہ میری آنکھوں کے سامنے سے گزرتا ہے تو میری آنکھیں بلاجھجک آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں۔ یہ لفافہ نہ صرف مجھے میرے خواب کی یاد دلاتا ہے بلکہ وہ تمام سال بھی میرے سامنے لے آتا ہے جو میں نے اس خواب کے سہارے جیے تھے۔ ماضی کی ہر تصویر اچانک بالکل شفاف ہو کر میرے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔
میں اپنے وقت کا کوئی لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔ یہاں تک کہ سونے کو بھی وقت کا ضیاع سمجھتی تھی۔
جب میں نے MDCAT کی تیاری شروع کی تو میرے لیے بہت سی چیزیں مشکل تھیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں سرکاری اسکول میں پڑھنے والی ایک ایسی لڑکی تھی جو بڑے خواب دیکھتی تھی۔ شروع شروع میں مجھے ان چیزوں کو سمجھنے کے لیے بہت محنت کرنا پڑی۔
جب میں وہ بھاری کتاب اٹھاتی تو میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔ بالآخر میں نے MDCAT دیا اور نتیجہ بھی آ گیا۔
چونکہ اس وقت میں بہت سی چیزوں سے واقف نہیں تھی اور میرے پاس کوئی ایسا رہنما بھی نہیں تھا جو مجھے ان معاملات کو سمجھا سکتا، اس لیے میں نے ہمیشہ کی طرح اپنے بل بوتے پر اور اللہ پر یقین رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔
میرے MDCAT میں 140 نمبر آئے اور مجھ پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔ میں سمجھ بیٹھی کہ شاید دنیا یہیں ختم ہو گئی ہے۔ سانس لینا بھی مشکل محسوس ہو رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی چیز حلق میں پھنس گئی ہو۔
لیکن میں پختہ عزم رکھنے والی لڑکی تھی، علامہ اقبال کی شاعری سے حوصلہ لینے والی لڑکی۔
“غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں۔”
میں نے دوبارہ MDCAT کی تیاری شروع کر دی۔
دوسرا سال بھی اسی پختہ عزم کے ساتھ گزارا۔ اگرچہ وہ سال بہت سی پریشانیوں سے گزرا، لیکن میں نے MDCAT میں 152 نمبر حاصل کیے۔
اب میں مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی۔
لیکن کیا کرتی؟ اس خواب کے بغیر زندگی گزارنے کا کبھی تصور ہی نہیں کیا تھا۔ اس بات سے بے خبر کہ میرا یہ خواب اور کتنی دفعہ ٹوٹے گا، میں نے اسی لگن، محنت اور جنون سے MDCAT کی تیاری جاری رکھی۔
شاید مجھے لگتا تھا کہ خواب کے لیے بار بار کوشش کرتے رہنا، اس سوال کے ساتھ جینے سے زیادہ آسان ہے کہ “اگر میں نے دوبارہ کوشش کی ہوتی تو کیا ہوتا؟”
کیا پتا زندگی کے کس موڑ پر آپ کا دیا جل جائے۔
تیسرے سال میرے MDCAT میں 180 نمبر آئے، لیکن ان نمبروں سے بھی مجھے کوئی فائدہ نہ ہوا اور میرا میرٹ نہ بن سکا۔
اس لمحے جیسے وقت تھم گیا ہو۔ میں بالکل بے جان ہو گئی۔ میرے اردگرد کون کیا کر رہا تھا، مجھے کوئی ہوش نہیں تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، جیسے میرا دماغ سن ہو گیا ہو۔
میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میرا خواب اس طرح، اتنا قریب آ کر ٹوٹے گا۔
میرے لیے یہ بات ہضم کرنا کہ اب میں اپنے خواب کو نہیں پا سکتی، کہ اب سب ختم ہو گیا ہے، یقیناً ناقابلِ برداشت تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میرے اندر کی کوئی بہت قیمتی چیز ہمیشہ کے لیے مجھ سے چھین لی گئی ہو۔
خواب کے اتنا قریب آ کر گرنے کے درد سے صرف وہی شخص واقف ہو سکتا ہے جو خود اس سے گزرا ہو۔ باقی لوگوں کے لیے اسے سمجھنا شاید ممکن ہی نہیں۔
بہرحال، میں کس طرح اس واقعے سے نکلی، یہ میں خود بھی نہیں جانتی۔
میں زندگی سے ناامید ہو چکی تھی۔ میں نے اپنی پڑھائی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
لیکن ان سب حالات میں صرف ایک شخص نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا۔
وہ عظیم شخص میری ماں تھیں۔
انہوں نے مجھے سائیکالوجی پڑھنے کا مشورہ دیا۔
میں نے مختلف یونیورسٹیوں میں مختلف ڈگریوں کا انتخاب کیا، لیکن دل نہ لگنے کی وجہ سے ہر جگہ سے ناکام اور ناامید واپس لوٹی۔
دل کا سکون بہت بڑی چیز ہے۔ اگر آپ کسی جگہ مطمئن ہیں تو یقین کریں کہ دنیا کی کوئی اور چیز آپ کے دل پر اسی طرح اثر نہیں کرے گی۔ لیکن اگر آپ کا دل ہی مطمئن نہیں ہے تو اس لمحے کو گزارنا یقیناً بہت مشکل ہوتا ہے۔
اب میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا۔ میں نے اپنی ماں کی بات مانی اور کلینیکل سائیکالوجی میں داخلہ لے لیا۔
ایم بی بی ایس سے کلینیکل سائیکالوجی کی طرف اچانک رجحان تبدیل کرنا آسان اور معمولی بات نہیں تھی۔ لیکن ان سب کے پیچھے جو مقصد تھا، وہ کہیں نہ کہیں وہی تھا۔
کیا ہوا اگر ایم بی بی ایس پڑھ کر میں انسانوں کی جسمانی بیماریوں کی تشخیص اور علاج نہ کر پائی؟ شاید کلینیکل سائیکالوجسٹ بن کر لوگوں کے ان دکھوں کا مداوا کر سکوں گی جنہیں وہ کبھی کسی سے بیان نہیں کر پاتے۔ ان دکھوں کا، جو اندر ہی اندر انہیں توڑ رہے ہوتے ہیں؛ جنہیں شاید کوئی اور نہ سمجھ سکتا ہے، نہ محسوس کر سکتا ہے۔
شاید یہی سب باتیں مجھے کلینیکل سائیکالوجی کی طرف لے آئیں۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ میٹرک میں 96 فیصد نمبروں کے ساتھ میں نمایاں تھی۔ اس وقت میرے ذہن میں ایک خیال آیا کرتا تھا کہ شاید ایم بی بی ایس کے لیے منتخب ہونے والے لوگ اللہ کے نیک بندے ہوتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں اتنی بڑی کامیابی عطا کرتا ہے کہ وہ ڈاکٹر بن کر لوگوں کی خدمت کر سکیں اور ان کے دکھ درد کا مداوا کر سکیں۔
اور میں خود کو ایک گناہ گار بندی سمجھتی تھی۔ شاید اسی لیے میرے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ شاید میں اس مقام کے لیے منتخب ہونے کے قابل نہیں تھی، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ موقع نہیں دیا۔
لیکن آج سوچتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے بارے میں اس طرح کے فیصلے نہیں کرنے چاہییں۔ اللہ کی حکمت ہماری سمجھ سے کہیں زیادہ وسیع ہوتی ہے۔ ہر ناکامی اس بات کی دلیل نہیں ہوتی کہ ہم اس کے قابل نہیں تھے، اور ہر کامیابی صرف اس بات کی دلیل نہیں ہوتی کہ دوسرا شخص ہم سے زیادہ نیک ہے۔
خیر، میں نے سائیکالوجی پڑھنا شروع کی۔
جہاں ایم بی بی ایس کی تیاری کے دوران میرا دل کہیں نہیں لگا تھا، وہیں سائیکالوجی کی اس ڈگری نے مجھے جو سکون بخشا، اسے میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔
شاید میں نے اپنی ماں کی بات مانی تھی، یا شاید یہ میری اتنے سالوں کی محنت کا صلہ تھا کہ آج میرا دل مطمئن تھا۔
اب تو میں سوچتی ہوں کہ کاش میں نے پہلے ہی سال یہ ڈگری منتخب کر لی ہوتی۔
لیکن اگر ایسا ہوتا تو میں ان سالوں میں سیکھی ہوئی اتنی چیزیں کیسے سیکھ پاتی؟
اگر ایسا ہوتا تو میں اپنے رب کے اتنے قریب کیسے آ پاتی؟
اور سب سے بڑھ کر، اگر ایسا ہوتا تو آج میں آپ کے سامنے یہ تحریر کیسے لکھ پاتی، اور آپ اسے کیسے پڑھ پاتے؟
زندگی میں بہت سے حالات ایسے آتے ہیں جہاں ہمیں لگتا ہے کہ بس، یہاں زندگی ختم ہو گئی۔
لیکن یقین مانیے، آپ لڑ سکتے ہیں، مقابلہ کر سکتے ہیں اور وہ سب حاصل کر سکتے ہیں جس کا آپ نے خواب دیکھا ہے۔
محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ وہ کسی نہ کسی صورت میں آپ کے سامنے آ ہی جاتی ہے۔
جن حالات سے میں گزری ہوں، میرا مقصد یہ ہے کہ میں ایک عظیم سائیکالوجسٹ بن کر لوگوں کو اس دلدل میں گرنے سے پہلے ہی روک سکوں۔
شاید میں ایم بی بی ایس میں لوگوں کی جسمانی بیماریوں کی تشخیص نہ کر سکی، مگر شاید میری کہانی کا مقصد صرف ڈاکٹر بننا ہی نہیں تھا۔
شاید مجھے ایسے راستے پر چلنا تھا جہاں میں پہلے خود کو سمجھ سکوں، اور پھر دوسروں کو سمجھنے اور سنبھالنے کے قابل بن سکوں۔
آج کلینیکل سائیکالوجی میرے لیے صرف ایک متبادل کیریئر نہیں بلکہ میری زندگی کا ایک مقصد بن چکی ہے۔
اس راستے پر چلتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ کبھی کبھی پوری طاقت سے لڑنے کے باوجود وہ مقام حاصل نہیں ہوتا جس کے لیے آپ نے اپنی زندگی لگا دی ہو۔ لیکن تب بھی زندگی ختم نہیں ہوتی۔
میں نے بھی جب اپنی زندگی کا اختتام سمجھ لیا تھا، وہ شاید میری زندگی کا صرف ایک باب تھا۔
میری زمین ابھی بنجر نہیں ہوئی تھی؛ اسے صرف میرے ہاتھ کی نمی درکار تھی۔
زندگی میں اکثر ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر یہ نہ ہوا، اگر یہ خواب مجھے حاصل نہ ہوا، تو شاید میری زندگی بھی ختم ہو جائے گی۔
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
وقت بہت بڑا مرہم ہے۔ انسان کی سوچ کسی حد تک محدود ہوتی ہے، جبکہ زندگی کے راستے ہماری سوچ سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔
جسے ہم اپنی شکست سمجھتے ہیں، وہی شکست ہمارے لیے کامیابی کے ایسے دروازے کھول سکتی ہے جن کا ہم نے کبھی گمان بھی نہیں کیا ہوتا۔
کچھ ناکامیوں کو انسان کو سنبھال کر رکھنا چاہیے، تاکہ ان سے گزر کر کامیابی کے نئے دروازے کھولنے کی ہمت پیدا ہو سکے۔
اگر میری یہ تحریر کسی ایک شخص کو بھی یہ یقین دلا سکے کہ محض ایک خواب کا ٹوٹ جانا زندگی کا خاتمہ نہیں ہے، تو شاید میری کہانی کو لفظوں میں ڈھالنے کا مقصد پورا ہو جائے گا۔
“ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔”
اور شاید میری کہانی کا اختتام ابھی نہیں ہوا |