چین کا پانچ سالہ روزگار منصوبہ

چین کا پانچ سالہ روزگار منصوبہ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

مضبوط معیشت کی بنیاد صرف صنعتی ترقی ہی نہیں بلکہ روزگار کے بہتر مواقع، سماجی تحفظ اور ہنرمند افرادی قوت بھی ہوتے ہیں۔ اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے چین نے آئندہ پانچ برسوں کے لیے انسانی وسائل اور سماجی تحفظ سے متعلق ایک جامع منصوبہ جاری کیا ہے، جس کا مقصد روزگار کے مواقع میں اضافہ، سماجی بہبود کے نظام کو مزید مضبوط بنانا اور عوام کو بہتر پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ہے۔

ملک نے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران انسانی وسائل اور سماجی تحفظ کی ترقی کا نیا منصوبہ جاری کیا ہے، جس میں شہری علاقوں میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سروے پر مبنی شہری بے روزگاری کی شرح کو 5.5 فیصد کے اندر رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزارتِ انسانی وسائل و سماجی تحفظ کی جانب سے جاری کردہ اس منصوبے کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں شہری علاقوں کے 2 کروڑ 50 لاکھ بے روزگار افراد کو دوبارہ روزگار فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ ملازمت کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنے والے 65 لاکھ افراد کو خصوصی روزگار معاونت فراہم کرنے کا بھی ہدف رکھا گیا ہے۔

سماجی تحفظ کے شعبے میں منصوبہ اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیتا ہے کہ بنیادی بڑھاپا پنشن انشورنس کی کوریج 95 فیصد سے زائد برقرار رہے۔اسی طرح بے روزگاری انشورنس سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 25 کروڑ 50 لاکھ جبکہ کام کے دوران حادثات سے متعلق انشورنس، جس میں پیشہ ورانہ چوٹ سے تحفظ بھی شامل ہے، سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 34 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

منصوبے کے مطابق ادارہ جاتی سالانہ پنشن فنڈز اور پیشہ ورانہ پنشن فنڈز کا مجموعی حجم بڑھا کر 9 ٹریلین یوان سے متجاوز رکھنے کی کوشش کی جائے گی، جس سے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم ہوں گی۔

پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ کے لیے بھی بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں 5 کروڑ سے زائد سبسڈی یافتہ پیشہ ورانہ تربیتی مواقع فراہم کیے جائیں گے، جن میں 1 کروڑ 75 لاکھ دیہی مزدوروں کی تربیت بھی شامل ہوگی تاکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو اور روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں۔اس کے علاوہ ایک کروڑ 40 لاکھ افراد کو مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ اہلیت کے سرٹیفکیٹس جاری کیے جائیں گے، جبکہ ہر سال تقریباً 35 ہزار پوسٹ ڈاکٹریٹ محققین کی بھرتی کا سلسلہ برقرار رکھا جائے گا۔

منصوبے میں یہ ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے کہ پانچ سالہ مدت کے اختتام تک 90 فیصد آبادی کو الیکٹرانک سماجی تحفظ کارڈ کے نظام میں شامل کر لیا جائے، تاکہ عوام کو ڈیجیٹل ذرائع سے سماجی خدمات تک آسان رسائی حاصل ہو سکے۔

اس منصوبے میں اعلیٰ معیار اور مکمل روزگار کے فروغ، اجرت اور آمدنی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے، ہم آہنگ مزدور تعلقات کو فروغ دینے اور عوامی خدمات کے معیار اور کارکردگی میں مزید بہتری کے لیے بھی متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

چین کا انسانی وسائل اور سماجی تحفظ کا یہ نیا پانچ سالہ منصوبہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح، روزگار، پیشہ ورانہ مہارتوں اور سماجی تحفظ کو بھی یکساں اہمیت دے رہا ہے۔ روزگار کے وسیع مواقع، جدید تربیتی پروگرام، مضبوط سماجی تحفظ اور ڈیجیٹل عوامی خدمات جیسے اقدامات نہ صرف عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ اعلیٰ معیار کی ترقی اور چینی طرز جدیدیت کے اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1965 Articles with 1146498 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More