| (LifestyleState#)**"۔۔۔ڈیجیٹل دور کے لیےنئی بجٹ حکمت عملی: ایک مختصر فرضی پالیسی کی ترغیب کی کہانی۔۔۔ |
|
|
فلاحی ریاست سے لائف اسٹائل ریاست |
|
فلاحی ریاست سے لائف اسٹائل ریاست: ڈیجیٹل دور کے لیےنئی بجٹ حکمت عملی: ایک مختصر فرضی پالیسی کی ترغیب کی کہانی بجٹ اسٹریٹجی کمیٹی کا یہ اجلاس عام دنوں سے بالکل مختلف تھا۔ کانفرنس روم کی بڑی ہائی ٹیک اسکرین پر ملک کے بدلتے ہوئے معاشی اور سماجی اشاریے چمک رہے تھے، اور میز کے گرد حکومت کے سینئر وزراء، بیوروکریٹس اور چوٹی کے مشیران سر جوڑے بیٹھے تھے۔بحث روایتی فلاحی بجٹ اور سبسڈیز کے گرد گھوم رہی تھی کہ اچانک وزیرِ خزانہ نے مائیک سنبھالا۔ انہوں نے اپنے نوجوان اسسٹنٹ اور سیکنڈ اسسٹنٹ کی طرف دیکھا، جن کی فیس بک، یوٹیوب اور ڈیجیٹل دنیا کے رویوں پر تیار کردہ ریسرچ اُنکے سامنے پڑی تھی۔
وزیرِ خزانہ نے انتہائی سنجیدہ مگر پرعزم لہجے میں گفتگو کا آغاز کیا: "حضرات! میں یہاں سیاست دان کے طور پر نہیں، بلکہ اپنے اس سابقہ تجربے کی بنیاد پر بات کر رہا ہوں جہاں میں نے ملک کے سب سے بڑے بینک اور عالمی اداروں کے نظامون کو ڈیجیٹل لائیزکیا اور وہاں کے ورکنگ لائف اسٹائل کو بدلا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس تجربے کو چند اداروں سے آگے بڑھا کر پوری ریاست پر لاگو کریں۔ اگر ہم دیانتداری سے غور کریں، تو جس اعلیٰ معیار کی ڈیجیٹل زندگی، شاندار گاڑیاں، جدید آلات اور بہترین رہائش کی سہولیات کی خوبیوں سے حکومتی سطح پر ہم اور اشرافیہ اپنے مال و دولت کے بل بوتے پر گزار رہے ہیں، اس نے ہمارے لائف اسٹائل کو تو بالکل بدل دیا ہے۔ لیکن ذرا باہر نکل کر دیکھیں۔"
انہوں نے اسکرین پر مڈل کلاس اور غریب طبقے کا ڈیٹا لائیو کرتے ہوئے کہا: "گو کہ متوسط اور غریب طبقہ وسائل کے اعتبار سے اشرافیہ سے بہت دور ہے، لیکن ٹیکنالوجی کی چمک نے ان کے گھروں کو بھی بدل دیا ہے۔ آج ہر غریب اور متوسط گھرانے کے پاس موبائل فون ہے، گھر میں چاہے چھوٹی ہی سہی مگر ایل ای ڈی لگی ہے، بلکہ ایک ائیر کنڈیشنر بھی عام گھروں میں تو ضرور ملتا ہے اور انٹرنیٹ اور وائی فائی کا استعمال عام ہو چکا ہے، ٹیک اوے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ لوگ اوبر ڈرائیو، اِن ڈرائیو، فوڈ پانڈا اور بے شمار جدید ٹیکنالوجیز سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ میڈیا اور اس ڈیجیٹل چمک نے عام آدمی، بالخصوص نوجوان نسل کی سوچ بدل دی ہے۔ وہ اب ہماری روایتی 'فلاحی ریاست' (Welfare State) کے سست دائرے کا انتظار کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں! وہ اپنے طور پر، اپنی مرضی کے مطابق لائف اسٹائل بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔"
وزیرِ خزانہ نے سب پر ایک گہری نظر ڈالی اور بات کو آگے بڑھایا: "ہم اب بھی وہی پرانا فلاحی ریاست کا راگ الاپ رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ انہیں صرف بیمار ہونے تک میں مفت علاج کی ضرورت پڑتی ہے، اور اس کا بھی ہمارے پاس کوئی بہترین معیار موجود نہیں، جس کی وجہ سے وہ مجبوراً خود ہی مانگ تانگ کر یا اُدھار پکڑ کر پرائیویٹ علاج کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب معاشرہ ذہنی طور پر فلاح سے آگے نکل کر لائف اسٹائل کی چمک کو اپنا چکا ہو، تو ریاست کیوں پیچھے رہے؟ میری تجویز یہ ہے کہ اگلے بجٹ میں ہم فلاحی ریاست کی بجائے باقاعدہ طور پر **لائف اسٹائل ریاست (Lifestyle State)** کا تصور متعارف کروائیں۔ چاہے پہلے قدم کے طور پر ہم بجٹ میں کسی ایک ہی ڈیجیٹل ٹائپ حکومتی سہولت کا اعلان کریں اور اس کے لیے رقم مختص کریں۔"
کمرے میں چند سیکنڈز کے لیے گہرا سکوت چھا گیا۔ وزراء اور مشیروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وزیرِ خزانہ کا ماضی کا ٹریک ریکارڈ، ان کی کامیابیوں کے مثبت نتائج اور نوجوان اسسٹنٹس کی فراہم کردہ گراؤنڈ ریسرچ اتنی ٹھوس تھی کہ کسی کے پاس مخالفت کی گنجائش نہیں تھی۔
وزیرِ منصوبہ بندی نے سب کی ترجمانی کرتے ہوئے سر ہلایا اور کہا: "جناب وزیرِ خزانہ! ہم سب آپ کی اس انقلابی تجویز سے سو فیصد متفق ہیں۔ ماضی میں بھی جب آپ نے سسٹمز کو ڈیجیٹلائیز کیا، ہمیں اس کے بہترین نتائج ملے۔ آپ کو ہماری طرف سے اس نئے وژن کی مکمل اجازت ہے۔ یہ بات اب بالکل واضح ہے کہ ہمیں روایتی فلاحی ریاست کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل ماحول سے لیس کرنا پڑے گا، تاکہ عام آدمی کی زندگی میں سہولیات کی وجہ سے حقیقی اور نظر آنے والی تبدیلیاں آئیں۔" وزیرِ خزانہ کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔ انہوں نے اپنے دونوں نوجوان اسسٹنٹس کو دیکھا جن کی آنکھوں میں وہی روشنیاں چمک رہی تھیں جو اس رات لاہور کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں " سارا اور احمد" کی آنکھوں میں جاگی تھیں۔
میٹنگ کا اختتام کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے فائل بند کی اور کہا: "تو پھر طے پایا؛ آج کے بعد ہم فلاحی ریاست کے پرانے خول سے باہر نکل رہے ہیں، اور ہماری اگلی منزل کا نام ہوگا۔۔۔ **لائف اسٹائل ریاست!(LifestyleState#)**"
|