”نظر کرم کریں یا اپنے مشیر بدلیں“
(mumtaz ranjha, Rawalpindi)
MUMTAZ RANJHA
چک 67جنوبی ممتاز رانجھا ”نظر کرم کریں یا اپنے مشیر بدلیں“ پاکستان ہمارا بہت اچھا ملک ہے یہاں کے لوگ ماشائاللہ پڑھے لکھے مسلمان ہیں لیکن ہماری سوچ ابھی بھی پرانی ہے، جیسے پرانے زمانے کے لوگ ان پڑھ ہوتے تھے ہم پڑھے لکھے بھی ویسے کے ویسے ہیں۔ ہم لوگ ذہنی طور پر ترقی نہیں کر پائے یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے آپ دیکھ لیں ہمارا واپڈا کا محکمہ ان کو مشورہ دینے والے ان کو چلانے والے کتنے عجیب لوگ ہیں کہ کہتے ہیں جی جس بندے کی یونٹ 200 سے زیادہ ہو گئی ہے اس کو دبا کے بل بھیجو حالانکہ ایک غریب بندہ ہے اس کی بجلی بھی زیادہ خرچ ہو جاتی ہے وہ اگر گھر کے چار پانچ بندے ہیں گھر میں دو یا تین پنکھے چلاتے ہیں تو ظاہر ہے ان کا جو یونٹس ہے وہ 200 سے زیادہ کراس کر جائیں گی اب وہ کوئی بندہ ان میں مزدوری کرتا ہوگا اور ایک بندے کی وجہ سے پورا گھر چل رہا ہوگا اور وہ جو مزدوری ہے ظاہر ہے وہ ڈیلی ویجز پہ کام کرتا ہے بعض دفعہ اسے کام ملتا ہے بعض دفعہ نہیں ملتا کبھی بارش ہو جاتی ہے کبھی اس کو کام نہیں ملتا، تو اس نے گھر بھی چلانا ہے گھر کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، تو اس پہ جب اس کا بل زیادہ آ جاتا ہے، تو وہ چولہا جلانے کے قابل نہیں ہوتا بلکہ اس کی پہلی ترجیح ہوتی ہے کہ بل جمع کرا دے تاکہ میٹر نہ کٹ جائے۔گھر میں کھانا ہو نہ ہو اس کے لئے اس شدید گرمی میں بجلی اور پنکھا ضروری ہے۔ اب جیسے کہ ہم بجلی کی بات کر رہے تھے اسی طرح گیس کا محکمہ لے لیں وہ کیا کرتے ہیں کہ کسی بندے کی اگر گیس میٹر سے لیک ہو گئی ہے تو اس کا بل زیادہ آنا شروع ہو جاتا ہے وہ آن لائن کمپلین بھی کرتا ہے تو اس کمپلین پر کوئی جلدی سے نوٹس نہیں لیتا بلکہ ہوتا یہ ہے کہ اس کا بل زیادہ آنا شروع ہو جاتا ہے، اتنا زیادہ آنا شروع ہو جاتا ہے کہ وہ گیس استعمال کرنا بند کر دیتا ہے۔ اب ایک طرف اس کا چولہا بند ہو جاتا ہے گیس بند ہو جاتی ہے،لیکن بل پھر بھی آنا بند نہیں ہوتا اور وہ بیچارہ محکمے کے دفتر میں چکر لگا لگا کے تھک جاتا ہے۔ پاکستان میں ہونا اور پھر مسلمان ہونا اگرچہ ایک نعمت ہے لیکن کئی کم بخت محکموں نے اس نعمت کو زحمت بنا دیا ہے۔ کوئی بندہ اگر غلطی سے ٹیلی فون کی لائن لگوا لیتا ہے انٹرنیٹ اس نے تھوڑا استعمال کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے خفیہ چارجز پی ٹی سی ایل والے اتنے کر دیتے ہیں کہ اس کو بالاخر وہ ٹیلی فون یا انٹرنیٹ بند کروانا پڑ جاتا ہے اور پھر اس کے جوتے گھس جاتے ہیں۔ اپنا ٹیلی فون کا کنکشن کٹوانے کے لیے دفتر کے چکر لگا لگا کر لیکن محکمے والے جو ہیں ان پہ جوں نہیں رینگتی اور اس کا کنکشن جلدی سے بند نہیں کرتے اس کو ایک دو مہینے فالتو بل دینا پڑتا ہے۔اسی طرح ہمارے جو کنٹونمنٹ کے دفاتر بنے ہوئے ہیں جتنے بھی شہروں میں ہیں اس میں لوگ کینٹ کے تمام چارجز پراپرٹی ٹیکس وغیرہ باقاعدہ ادا کرتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ پورے ملک میں زیادہ تر رکشہ سروس چل رہی ہے جو لوگوں کے دروازوں پہ جا کے ڈبل پیسے لیتے ہیں اور ان کے گھریلو کوڑا کرکٹ پیسے لیکر اٹھاتے ہیں۔ گلی میں جھاڑو دیتے ہوئے کنٹونمنٹ کا کوئی بندہ نظر نہیں آتا سڑک پہ کسی کسی جگہ دکان کے آگے یا سڑک پر وہ صبح صبح آتے ہیں۔ یہی کنٹونمنٹ ملازمین اپنی تنخواہ کے علاوہ علاقہ مکینوں سے نقد پیسے لیکر اپنی خدمات بجا لانے میں کوئی کسر نہیں اٹھاتے،اب حالانکہ محکمہ لوگوں سے ٹیکس لے رہا ہے لیکن ان کے جو لوگ ہیں یا ان کا جو عملہ ہے وہ عوام سے بھی پیسے بٹور رہی ہے اور ان کی صفائی نہیں ہوتی۔ اب آتے ہیں دوسرے معاملات کی طرف اب حکومت نے بڑی اچھی سروس شروع کی ہے یہ جو گرین بسز ہیں لیکن ان گرین بسز کو چلنے کے لیے بعض علاقوں میں روڈ اکھڑے ہوئے ہیں اورسڑکیں اکھڑنے سے ان روڈز پر یہ گاڑیاں نہیں چل رہیں۔پنڈی میں جیسے چکری روڈ ہے یہاں پہ ان گاڑیوں کا چلنا بہت ضروری ہے کیونکہ وہاں سے کافی لوگ اندرون شہر آتے ہیں اور واپس جاتے ہیں تو اس کے لیے کلمہ چوک چکری روڈ پر کوئی گرین بس نہیں چلائی جا رہی اسی طرح گرجا روڈ تنگ ہونے کی وجہ سے رش بھی زیادہ ہے اور ادھر سے بھی لوگ کافی شہر کے اندر جاتے ہیں اور واپس آتے ہیں تو ایک بس گرین لائن کی گرین بس جو ہے اس سائیڈ پہ بھی چلنی چاہیے جو کہ ڈھوک سیداں چوک سے گزرتے ہوئے گرجا گاؤں تک جائے،اسی طرح گرجا گاؤں سے واپس ڈھوک سیداں چوک تک آئے،اس طرح کی سہولتوں کا مشورہ دینے والے افراد نہ جانے حکام ِ بالا کو لوگوں کی تکالیف کا کیوں نہیں بتاتے۔ ہمارے شہر میں اور بہت سے مسائل ہیں اگر ہم دیکھ لیں کہ ایک سبزی والا فروٹ والا اس کا ریٹ ایک دوسرے سے مختلف ہے کسی نے سو روپے کی سلیٹ لگائی ہے کسی کا ریٹ اسی سلیٹ پر دو سو روپے ہے اور کسی نے چار سو لگایا ہوا ہے۔آپ کو ہر دکان ہر ریڑھی پر نیا ریٹ ملتا ہے۔خریداری کرنے والا پہلے ہی کم پیسوں سے گزر بسر کر رہا ہوتا ہے۔پھر ان کے ہتھے چڑھ کر اس کی باقی ماندہ عقل جاتی رہتی ہے۔ میاں شہباز شریف ہوں، محترمہ مریم نواز ہوں یا کوئی بھی اہم منسٹر ہو اسے عوام کے مسائل کے حل کی تلاش اور عوامی مسائل کی نشاندہی خود کرنی ہو گی۔لوگ یا عوام کسی بھی لیڈر کی خوبصورت شکل کو نہیں بلکہ اس کی طرف سے عوام کو ملنے والے ریلیف سے متاثر ہوتے ہیں۔خان صاحب نے ملک کا بہت بڑہ غرق کیا ہے مگران کی پرسنیلٹی سے متاثرین کم عقلوں نے ابھی تک ملکی ترقی میں ٹانگ اڑائی ہوئی ہے۔خدارا اب اگر نون لیگ کی متحدہ حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو پھر شاید خان صاحب کی طرح سندھ کا بیڑہ غرق کرنے والوں کے ہتھے ملک نہ چڑھ جائے۔سڑکوں کا جال، نوجوانوں کو لیپ ٹاپ، تعلیم،قرض اور کسانوں کومراعات اس حکومت نے دیں لیکن عوام کو مہنگائی سے نکالنا اور عوام کی قسمت پر بیٹھے اجارہ داری طبقے کو سائیڈ لائین پر لگانا بھی حکومت وقت کا کام ہے۔آخری گزارش اس حکومت سے کہ عوام پر مزیدنظر کرم کریں یا نا اہل مشیر بدلیں۔
|