گلی کے نکڑ سے جمہوریت کے ایوان تک
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
|
صبح ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوئی تھی۔ گلی کے نکڑ پر چائے کے ہوٹل کے سامنے چند لوگ روزمرہ کی طرح جمع تھے۔ ایک شخص ہاتھ میں بجلی کا بل لیے پریشان کھڑا تھا، دوسرے کے گھر کے سامنے کئی دن سے پانی کھڑا تھا، تیسرے کی شکایت تھی کہ محلے کی گلی کی سٹریٹ لائٹ خراب ہے اور رات ہوتے ہی پورا راستہ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ ایک بزرگ نے حسبِ معمول شکایت کی کہ نالی کئی ہفتوں سے صاف نہیں ہوئی۔ گفتگو کا رخ اچانک سیاست کی طرف مڑ گیا۔ کسی نے کہا، "یہ مسئلہ کون حل کرے گا؟" دوسرے نے جواب دیا، "صاحب! ہمارے ووٹ تو بڑے لوگوں کے لیے ہیں، ہماری گلی کا ووٹ کس کام کا؟" اتنے میں ایک نوجوان نے قدرے حیرت سے سوال کیا، "اگر ہمارے محلے کے مسائل کے لیے بھی کوئی منتخب نمائندہ ہو، جس سے ہم براہِ راست سوال کرسکیں، تو؟"
چائے کے کپ کے گرد چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ سوال بظاہر معمولی تھا، مگر دراصل اسی سوال میں جمہوریت کی پوری روح پوشیدہ تھی۔
جمہوریت کا اصل امتحان پارلیمنٹ کی بلند عمارتوں میں نہیں ہوتا۔ اس کا سب سے مشکل امتحان اس گلی میں ہوتا ہے جہاں بارش کے بعد پانی کھڑا ہوجاتا ہے، اس محلے میں جہاں صفائی کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اس بستی میں جہاں پینے کا پانی دستیاب نہیں، اس بازار میں جہاں تجاوزات شہریوں کا راستہ روک لیتی ہیں اور اس گھر میں جہاں کسی بچے کی پیدائش کا اندراج کرانے کے لیے شہری کو سرکاری دفتر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ریاست اگر شہری کے روزمرہ مسائل تک پہنچنے میں ناکام ہوجائے تو بڑے بڑے جمہوری دعوے بھی اپنی معنویت کھونے لگتے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر میں مقامی حکومت کو جمہوریت کی نچلی سطح کا ادارہ نہیں بلکہ جمہوریت کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔
پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کی بحث کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نیا نظام محض چند نئے عہدوں، نئی نشستوں یا نئی انتخابی حدود کا نام نہیں؛ یہ بنیادی طور پر اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے کہ اقتدار کو صوبائی دارالحکومتوں اور بڑے انتظامی مراکز سے نکال کر اس سطح تک کیسے پہنچایا جائے جہاں شہری روزانہ کی بنیاد پر ریاست سے رابطہ کرتا ہے۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت مقامی حکومت کے مختلف درجات تشکیل دیے گئے ہیں جن میں ٹاؤن کارپوریشن، میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹی، تحصیل کونسل اور یونین کونسل شامل ہیں۔ یوں مقامی حکومت کو ایک کثیر سطحی نظام کے طور پر ترتیب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس پورے ڈھانچے میں یونین کونسل کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہی وہ سطح ہے جہاں ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ سب سے کم ہوسکتا ہے۔ ایک یونین کونسل میں تیرہ ارکان کی نمائندگی کا تصور سامنے آتا ہے۔ نو جنرل ارکان عوام کے براہِ راست ووٹ سے منتخب ہوں گے، جبکہ چار نشستیں مخصوص ہوں گی۔ ان مخصوص نشستوں میں خواتین، کسان یا مزدور، نوجوان اور غیر مسلم شہریوں کی نمائندگی شامل ہے۔ بظاہر یہ صرف نشستوں کی تقسیم ہے، مگر اس کے پیچھے ایک اہم سیاسی فلسفہ موجود ہے: مقامی حکومت صرف اکثریت کی آواز نہیں بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات کی شرکت کا نام ہے۔
جمہوریت میں نمائندگی کا سوال ہمیشہ محض یہ نہیں ہوتا کہ کون جیتا؛ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کون کون اس نظام میں نظر آتا ہے۔ اگر کسی کونسل میں خواتین موجود نہ ہوں، نوجوانوں کی آواز نہ ہو، محنت کش اور کسان کی نمائندگی نہ ہو اور اقلیتیں فیصلہ سازی سے باہر ہوں تو عددی اکثریت تو قائم ہوسکتی ہے مگر سماجی نمائندگی ادھوری رہ جاتی ہے۔ مخصوص نشستوں کا تصور اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم یہاں بھی اصل امتحان یہ ہوگا کہ مخصوص نشستوں پر آنے والے نمائندوں کو محض رسمی حیثیت دی جاتی ہے یا انہیں حقیقی فیصلہ سازی میں مؤثر کردار ملتا ہے۔
نئے نظام کا ایک اہم پہلو انتخابی طریقۂ کار ہے۔ جنرل کونسلرز کا انتخاب براہِ راست عوام کریں گے اور خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ پوری یونین کونسل کو ایک ملٹی ممبر حلقے کے طور پر تصور کیا گیا ہے اور ووٹر اپنے حقِ رائے دہی کو قانون میں مقررہ طریقے کے مطابق استعمال کرے گا۔ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار جنرل ارکان کی حیثیت سے کامیاب ہوں گے۔ اس طرح یونین کونسل کی بنیادی سیاسی تشکیل براہِ راست عوامی مینڈیٹ سے ہوگی۔
یہ بات بظاہر معمولی محسوس ہوسکتی ہے، مگر مقامی جمہوریت کے لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ جب ایک شہری اپنے علاقے کے کونسلر کو براہِ راست منتخب کرتا ہے تو اس نمائندے کی سیاسی جواب دہی بھی اسی شہری کے سامنے قائم ہوتی ہے۔ وہ شخص محض کسی بالائی سیاسی سطح کا نامزد کردہ نمائندہ نہیں رہتا بلکہ اپنے علاقے کے ووٹر کا منتخب کردہ فرد بن جاتا ہے۔ یوں جمہوریت کا وہ تصور مضبوط ہوتا ہے جس میں نمائندگی اور جواب دہی ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔
لیکن انتخابات صرف نمائندے منتخب کرنے کا نام نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ منتخب ہونے کے بعد وہ نمائندہ کیا کرسکتا ہے؟ اگر کونسلر اپنے علاقے کے مسائل دیکھ تو سکتا ہو مگر حل نہ کرسکتا ہو، شکایت تو سن سکتا ہو مگر وسائل نہ رکھتا ہو، عوام سے ووٹ تو لے مگر فیصلوں کے لیے ہر مرتبہ کسی دوسرے دفتر کا محتاج ہو تو مقامی حکومت کا بنیادی مقصد کمزور ہوجاتا ہے۔
اسی لیے نئے بلدیاتی نظام کی اصل اہمیت اس کے اختیارات میں پوشیدہ ہے۔ یونین کونسل کو مقامی سطح پر بجٹ، فیسوں، بعض مقامی محصولات اور ترقیاتی ضروریات کے حوالے سے کردار دیا گیا ہے۔ پیدائش، وفات، شادی اور طلاق جیسے شہری اندراجات، گلیوں اور نالیوں جیسے چھوٹے ترقیاتی کام، پانی کے مقامی ذرائع کی دیکھ بھال، صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ میں تعاون، عوامی شکایات کی نشاندہی اور مقامی سہولیات کی بہتری جیسے معاملات اس سطح کو شہری زندگی سے براہِ راست جوڑتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنے کی ضرورت ہے: اختیار اور وسائل ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ اگر کسی ادارے کو ذمہ داری دے دی جائے مگر اسے مالی وسائل نہ دیے جائیں تو وہ عوام کی توقعات پوری نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اگر وسائل موجود ہوں مگر انہیں استعمال کرنے کا شفاف اور جواب دہ نظام نہ ہو تو یہی وسائل بدعنوانی کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ اس لیے مقامی حکومت کی کامیابی کے لیے سیاسی اختیار، انتظامی اختیار اور مالی وسائل کے درمیان توازن ناگزیر ہے۔
ایک مضبوط یونین کونسل کا تصور دراصل یہ ہے کہ شہری کو اپنے مسئلے کے لیے ہر بار ضلعی یا صوبائی سطح کے دفتر کا رخ نہ کرنا پڑے۔ اگر گلی کی صفائی کا مسئلہ ہے تو مقامی ادارہ فوری طور پر حرکت میں آئے، پانی کا مسئلہ ہے تو مقامی سطح پر اس کی نشاندہی اور حل کی کوشش ہو، سٹریٹ لائٹ خراب ہے تو متعلقہ ادارہ ذمہ داری قبول کرے اور اگر کسی بنیادی سہولت کی کمی ہے تو یونین کونسل اسے اپنے منصوبہ بندی کے عمل میں شامل کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مقامی حکومت انتظامی سہولت سے بڑھ کر شہری اختیار بن جاتی ہے۔
اسی تناظر میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب بھی اہم ہے۔ عوام براہِ راست ان عہدوں کا انتخاب کرنے کے بجائے پہلے یونین کونسل کے ارکان منتخب کریں گے اور پھر منتخب ارکان اپنے اندر سے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب کریں گے۔ دونوں عہدوں کے امیدوار مشترکہ امیدوار کے طور پر سامنے آئیں گے اور انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے ہوگا۔
یہ طریقۂ کار ایک طرف یونین کونسل کے اندر سیاسی قیادت کے انتخاب کا راستہ کھولتا ہے تو دوسری طرف مقامی اتحاد، گروپ بندی اور سیاسی مفاہمت کے امکانات بھی پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مقامی سیاست اپنی اصل شکل اختیار کرتی ہے۔ کونسلر صرف ووٹ لینے والا امیدوار نہیں رہتا بلکہ منتخب ہونے کے بعد اسے مختلف ارکان کے ساتھ مل کر حکومت بنانا، فیصلے کرنا اور اختلافات کو سنبھالنا پڑتا ہے۔ اگر یہ عمل سیاسی بلوغت، مشاورت اور شفافیت کے ساتھ آگے بڑھے تو مقامی حکومت حقیقی جمہوری تربیت گاہ بن سکتی ہے۔
یونین کونسل کے اوپر تحصیل اور شہری سطح کے اداروں کا تصور بھی اسی سلسلۂ اختیارات کا حصہ ہے۔ تحصیل کونسل میں چیئرمین، وائس چیئرمین اور یونین کونسلوں کے منتخب نمائندوں کی شرکت مقامی حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان ربط پیدا کرسکتی ہے۔ اسی طرح میونسپل اداروں میں میئر، ڈپٹی میئرز اور یونین کونسل کی قیادت کی شرکت شہری حکومت کو نچلی سطح کے نمائندوں سے جوڑنے کی کوشش ہے۔
اس پورے نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ مختلف سطحوں کے درمیان اختیارات واضح ہوں۔ اگر ایک ہی کام کے لیے کئی ادارے ذمہ دار ہوں اور آخر میں کوئی بھی جواب دہ نہ ہو تو شہری پھر اسی پرانے مسئلے کا شکار ہوجاتا ہے: "مسئلہ ہمارا ہے، مگر ذمہ دار کوئی نہیں۔" مقامی حکومت کا بہترین نظام وہی ہوگا جس میں ہر سطح کے ادارے کی ذمہ داری واضح ہو اور شہری کو معلوم ہو کہ کس مسئلے کے لیے کس نمائندے یا ادارے سے رجوع کرنا ہے۔
شہری سہولیات کا بڑا حصہ بالخصوص میونسپل اور تحصیل سطح کے اداروں سے وابستہ ہوتا ہے۔ پانی، سیوریج، صفائی، سڑکیں، سٹریٹ لائٹس، پارکس، قبرستان، پارکنگ، فائر بریگیڈ اور بعض دیگر سہولیات مقامی حکومت کے بنیادی دائرۂ کار میں آتی ہیں۔ اسی طرح بلڈنگ پلان، لینڈ یوز، زوننگ، ہاؤسنگ اسکیموں کی نگرانی اور تجاوزات جیسے معاملات میں بھی مقامی حکومت کا کردار شہری زندگی کے معیار پر براہِ راست اثرانداز ہوتا ہے۔
ایک شہر کی خوب صورتی صرف اس کی بلند عمارتوں سے نہیں ہوتی۔ شہر اس وقت مہذب دکھائی دیتا ہے جب اس کی گلیاں صاف ہوں، پانی دستیاب ہو، سڑکیں قابلِ استعمال ہوں، پارکس آباد ہوں، قبرستان منظم ہوں، تجاوزات قانون کے مطابق قابو میں ہوں اور شہری کو بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے سفارش اور رشوت کے دروازے پر دستک نہ دینا پڑے۔ اس اعتبار سے بلدیاتی حکومت دراصل شہری تہذیب کے انتظام کا نام ہے۔
نئے نظام میں مقامی سطح پر تنازعات کے حل اور مصالحت کا تصور بھی قابلِ توجہ ہے۔ بعض تنازعات کو فریقین کی رضامندی سے مقامی سطح پر مصالحت کے لیے لایا جاسکتا ہے اور اس مقصد کے لیے ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جاسکتی ہے۔ اس تصور کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر معمولی اختلاف فوراً طویل قانونی کارروائی کی طرف نہ جائے بلکہ جہاں قانون اجازت دے وہاں باہمی رضامندی اور مصالحت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔
تاہم یہاں ایک باریک لکیر موجود ہے جسے عبور نہیں کیا جاسکتا۔ مقامی مصالحت، عدالتی نظام کا متبادل نہیں۔ بنیادی حقوق، قانونی تحفظ اور باقاعدہ عدالتی دائرۂ اختیار اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔ مقامی حکومت کا مصالحتی کردار اسی وقت مفید ہوگا جب اسے قانون کی حدود، رضامندی اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے ساتھ مربوط رکھا جائے۔
بلدیاتی نظام کا ایک اور اہم پہلو سیاسی تربیت ہے۔ ایک نوجوان جب پہلی مرتبہ یونین کونسل کا رکن بنتا ہے تو وہ صرف ایک عہدہ حاصل نہیں کرتا؛ وہ عوامی زندگی کے ایک ایسے مدرسے میں داخل ہوتا ہے جہاں اسے بجٹ، منصوبہ بندی، اختلافِ رائے، عوامی شکایات، انتظامی معاملات اور اجتماعی فیصلوں کا عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ یہی لوگ آگے چل کر تحصیل، ضلع، صوبائی اور قومی سطح کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس اعتبار سے مقامی حکومتیں مستقبل کی سیاسی قیادت کی نرسری ہیں۔
مگر اس نرسری میں سیاسی تربیت اسی وقت ممکن ہے جب مقامی حکومتوں کو تسلسل حاصل ہو۔ پاکستان میں بلدیاتی اداروں کی تاریخ بار بار نظام کے بننے اور ختم ہونے، انتخابات میں تاخیر اور اختیارات کی تبدیلی سے عبارت رہی ہے۔ ایک مقامی حکومت اگر اپنی مدت پوری ہی نہ کرسکے تو نہ ادارہ مضبوط ہوتا ہے، نہ نمائندہ تجربہ حاصل کرتا ہے اور نہ شہری کو جمہوری تسلسل کی عادت پڑتی ہے۔
پانچ سالہ مدت اسی اعتبار سے اہم ہے۔ منتخب مقامی حکومت کو اپنی پالیسی، ترجیحات اور ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے لیے مناسب وقت ملنا چاہیے۔ مدت پوری ہونے کے بعد مقررہ وقت کے اندر نئے انتخابات کا انعقاد بھی ضروری ہے تاکہ جمہوری عمل کا تسلسل قائم رہے۔ مقامی حکومت کوئی عارضی انتظام نہیں بلکہ ریاستی حکمرانی کا مستقل ستون ہونی چاہیے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری بھی اسی لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کرتی ہے۔ حلقہ بندی، انتخابی فہرستیں، امیدواروں کی جانچ، پولنگ، انتخابی عمل اور نتائج کی شفافیت مقامی جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ اگر شہری کو یہ اعتماد نہ ہو کہ اس کا ووٹ محفوظ ہے اور انتخابی عمل غیر جانب دار ہے تو مقامی حکومت کا پورا تصور کمزور ہوجاتا ہے۔
اسی طرح منتخب نمائندوں کے لیے اہلیت اور نااہلی کے اصول بھی واضح اور غیر جانب دار ہونے چاہئیں۔ عوامی عہدہ اعتماد کا منصب ہے۔ بدعنوانی، غلط بیانی اور قانون کی خلاف ورزی جیسے معاملات میں مناسب قانونی احتساب ضروری ہے، لیکن احتساب کی یہی شرط اس وقت مؤثر رہتی ہے جب اس کا اطلاق سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو۔ قانون اگر ایک امیدوار کے لیے سخت اور دوسرے کے لیے نرم ہوجائے تو مقامی جمہوریت کی بنیاد ہی متزلزل ہوجاتی ہے۔
سیاسی جماعتوں کے حوالے سے بھی مقامی حکومت ایک دلچسپ صورتِ حال پیدا کرتی ہے۔ ایک طرف جماعتی نظم سیاسی نظام کو منظم کرتا ہے، دوسری طرف مقامی حکومت کا بنیادی مقصد مقامی مسائل کا حل ہے۔ اگر پارٹی سیاست اتنی غالب ہوجائے کہ گلی، محلے اور بستی کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جائیں تو بلدیاتی نظام اپنی اصل روح کھو سکتا ہے۔ ایک اچھے مقامی نمائندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ جماعتی وابستگی کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے کے مفاد کو بھی مقدم رکھے۔
شفافیت اس پورے نظام کی شہ رگ ہے۔ یونین کونسل کے پاس کتنی رقم آئی؟ کہاں خرچ ہوئی؟ کس گلی کی تعمیر پر کتنا خرچ ہوا؟ صفائی کے لیے کتنے وسائل مختص ہوئے؟ کس ترقیاتی منصوبے کو ترجیح دی گئی؟ عوام کو ان سوالات کے جواب ملنے چاہئیں۔ جدید مقامی حکومت میں بجٹ عوام سے چھپایا نہیں جاتا بلکہ عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ نمائندہ جتنا قریب ہوگا، اس سے سوال بھی اتنا ہی قریب سے ہونا چاہیے۔
یہاں شہری شرکت کا تصور بھی اہم ہے۔ عوام کا کردار صرف پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ محلے کے شہریوں، اساتذہ، تاجروں، نوجوانوں، خواتین، سماجی کارکنوں اور دیگر متعلقہ حلقوں کو مقامی منصوبہ بندی میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ جس گلی کے مسئلے کو وہاں رہنے والا شہری سب سے بہتر جانتا ہے، اس مسئلے کی ترجیح طے کرتے وقت اس کی رائے کو نظرانداز کرنا عقلمندی نہیں۔
بلدیاتی حکومت کو اس لیے بھی مضبوط ہونا چاہیے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ہر چھوٹے مسئلے کو خود حل نہیں کرسکتیں۔ اگر صوبائی حکومت کو ہر گلی کی نالی، ہر پارک کی گھاس، ہر سٹریٹ لائٹ اور ہر مقامی پانی کے مسئلے کی نگرانی کرنا پڑے تو حکمرانی کا پورا ڈھانچہ غیر مؤثر ہوجائے گا۔ اختیارات کی تقسیم کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ جو کام مقامی سطح پر بہتر طور پر ہوسکتا ہے، اسے غیر ضروری طور پر اوپر کی سطح پر نہ لے جایا جائے۔
یہی اصول دنیا میں "Subsidiarity" کے تصور سے بھی جڑا ہوا ہے: فیصلہ حتی الامکان اسی سطح پر ہونا چاہیے جہاں اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور جہاں اسے زیادہ مؤثر انداز میں حل کیا جاسکتا ہے۔ مقامی حکومت اس اصول کو عملی شکل دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
تاہم اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر اختیار یونین کونسل کے حوالے کردیا جائے۔ ریاستی نظم میں مختلف سطحوں کے درمیان توازن ضروری ہے۔ مقامی نوعیت کے مسائل مقامی حکومت کے ذریعے، صوبائی نوعیت کے معاملات صوبائی حکومت کے ذریعے اور قومی نوعیت کے امور قومی سطح پر حل کیے جائیں۔ کامیاب نظام وہی ہے جس میں اختیارات کی سرحدیں واضح اور باہمی تعاون کا طریقہ کار مضبوط ہو۔
قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں بھی مقامی حکومت کا کردار نمایاں ہوجاتا ہے۔ سیلاب، وبا، زلزلے یا کسی دوسری ہنگامی صورتِ حال میں سب سے پہلے متاثر ہونے والا علاقہ مقامی آبادی ہی ہوتی ہے اور ابتدائی معلومات بھی اسی سطح سے حاصل ہوتی ہیں۔ اس لیے یونین کونسل اور دوسرے مقامی ادارے امدادی سرگرمیوں، عوامی رابطے اور ضرورت مند افراد کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی نظام کو صرف "گلی نالی کی سیاست" سمجھنا اس کی اہمیت کو محدود کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مقامی حکومت شہری ریاستی تعلق کی سب سے عملی شکل ہے۔ ایک شہری اپنے ملک کے صدر یا وزیر اعظم سے شاید کبھی نہ ملے، لیکن وہ اپنے کونسلر، چیئرمین یا میئر سے براہِ راست سوال کرسکتا ہے۔ یہی قربت مقامی حکومت کو جمہوری اعتبار سے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔
ایک مؤثر بلدیاتی نظام شہری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ریاست کوئی دور کی، ناقابلِ رسائی طاقت نہیں بلکہ اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ جب گلی صاف ہوتی ہے تو ریاست نظر آتی ہے؛ جب پانی دستیاب ہوتا ہے تو ریاست نظر آتی ہے؛ جب سٹریٹ لائٹ روشن ہوتی ہے تو ریاست نظر آتی ہے؛ جب پیدائش کا اندراج آسانی سے ہوجاتا ہے تو ریاست نظر آتی ہے۔ دوسری طرف جب بنیادی سہولت کے لیے شہری کو سفارش، رشوت یا سیاسی تعلق تلاش کرنا پڑے تو ریاست کی موجودگی کمزور محسوس ہوتی ہے۔
پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام اسی لیے ایک اہم موقع بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔ موقع اس لیے کہ اختیارات، نمائندگی اور مقامی فیصلہ سازی کو زیادہ منظم شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے؛ امتحان اس لیے کہ قانون کی خوب صورت دفعات عملی زندگی میں کس حد تک تبدیل ہوتی ہیں، اس کا فیصلہ کاغذ نہیں بلکہ عوام کریں گے۔
آنے والے برسوں میں اس نظام کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے کونسلر منتخب ہوئے یا کتنی نشستیں تخلیق ہوئیں۔ اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ عام شہری کی زندگی کتنی آسان ہوئی۔ کیا شکایت کا جواب پہلے سے جلد ملتا ہے؟ کیا ترقیاتی کام واقعی ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں؟ کیا بجٹ میں شفافیت آتی ہے؟ کیا خواتین، نوجوانوں، کسانوں، مزدوروں اور اقلیتوں کی آواز فیصلہ سازی میں سنائی دیتی ہے؟ کیا منتخب نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہیں؟ کیا ادارے اپنی مدت پوری کرتے ہیں؟ کیا اختیارات کے ساتھ وسائل بھی منتقل ہوتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا شہری کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا ووٹ اس کی گلی، محلے اور بستی کی حالت بدلنے کی طاقت رکھتا ہے؟
صبح کے اس چائے کے ہوٹل کی طرف دوبارہ آئیے جہاں گفتگو شروع ہوئی تھی۔ پانی ابھی بھی کھڑا ہے، سٹریٹ لائٹ ابھی بھی خراب ہے اور نالی کی صفائی ابھی باقی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب محلے کے لوگوں کے پاس ایک سوال کا جواب ہونا چاہیے: ہماری طرف سے فیصلہ کون کرے گا، اور ہم اس سے جواب کس طرح مانگیں گے؟
یہی سوال بلدیاتی نظام کی اصل روح ہے۔
پارلیمانی جمہوریت شہری کو ووٹ دینے کا حق دیتی ہے، مگر بلدیاتی جمہوریت اسے اپنے روزمرہ ماحول کے بارے میں فیصلہ سازی کے قریب لے آتی ہے۔ قومی سیاست ریاست کا بڑا نقشہ بناتی ہے، مقامی حکومت اس نقشے میں شہری کی گلی تلاش کرتی ہے۔ صوبائی حکومت بڑے منصوبے بنا سکتی ہے، مگر مقامی حکومت اس بات کا فیصلہ زیادہ قریب سے کرسکتی ہے کہ کس محلے میں کس بنیادی سہولت کی فوری ضرورت ہے۔
اس لیے بلدیاتی نظام کو محض سیاسی عہدوں کی تقسیم نہ سمجھا جائے۔ یہ دراصل اختیار، ذمہ داری اور جواب دہی کے درمیان ایک سماجی معاہدہ ہے۔ عوام نمائندے منتخب کرتے ہیں، نمائندوں کو اختیار ملتا ہے، اختیار کے ساتھ وسائل آتے ہیں، وسائل کے ساتھ ذمہ داری آتی ہے اور ذمہ داری کے ساتھ جواب دہی لازم ہوتی ہے۔ اگر اس زنجیر کی کوئی ایک کڑی ٹوٹ جائے تو پورا نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔
آخرکار جمہوریت کا سفر ہمیشہ اوپر سے نیچے نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی جمہوریت کو اوپر جانے کے لیے نیچے سے مضبوط ہونا پڑتا ہے۔ ایک بااختیار یونین کونسل، فعال کونسلر، جواب دہ چیئرمین، باخبر شہری اور شفاف مقامی بجٹ بظاہر چھوٹی چیزیں ہیں، مگر یہی چھوٹی اکائیاں مل کر ایک بڑے جمہوری نظام کی بنیاد بناتی ہیں۔
اگر پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام واقعی شہری کو اس کے اپنے محلے میں اختیار، نمائندگی اور جواب دہی کا احساس دے سکا تو یہ محض ایک نیا انتظامی ڈھانچہ نہیں ہوگا؛ یہ جمہوریت کو ایوانوں سے نکال کر گلی کے نکڑ تک لانے کی ایک حقیقی کوشش ثابت ہوگا۔
اور شاید پھر کسی صبح چائے کے اسی ہوٹل پر بیٹھا وہ بزرگ یہ نہ کہے کہ "ہمارے ووٹ کس کام کے؟" بلکہ اطمینان سے کہہ سکے:
"ووٹ صرف حکومت بنانے کے لیے نہیں ہوتا؛ ووٹ اپنی گلی، اپنے محلے اور اپنی زندگی کے فیصلوں میں حصہ لینے کا حق بھی ہے۔" |
|