یومِ دفاعِ پاکستان(6 ستمبر)

حب قومی سماجی کونسل کے زیر اہتمام
یومِ دفاعِ پاکستان(6 ستمبر)
٭
ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی
پروفیسر ایمریٹس۔ منہاج یونیورسٹی، لاہور، پاکستان
صدارتی کلمات
محمد اسلم فاروقی صاحب چیئر مین محب قومی سماجی کونسل، کونسل کے دیگر احباب اور حاضرین محفل۔
السلام علیکم!
آج ہم یومِ دفاعِ پاکستان(6 ستمبر)1965ء کی جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ جن احباب نے یومِ دفاعِ پاکستان کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا وہ قابل تعریف ہے۔ اپنے وطن کے لیے ہمارے جذبات اور احساسات ایسے ہی ہونے چاہیے۔ وطن ہماری جان ہے، ہماری آن ہے، اپنے وطن پرہم ہر طرح کی قربانی کے لیے ہما وقت تیار ہوں، خاص طور پر مصلح افواج کے شانہ با شانہ کھڑے ہوں۔ اگر کوئی بھی دشمن خاص طور پر بھارت جس نے اولین دن سے ہی اس نے پاکستان کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ وہ کئی بار پاکستان پر جنگ مسلط کرچکا اور اس کے نتیجے میں اسے اس بات کا اندازہ بخوبی ہوچکا ہے کہ پاکستان کی مصلح افواج اور بہادر عوام اپنے دشمن سے نمٹنا خوب جانتے ہیں۔
6 ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان ہماری قومی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جاچکا ہے۔ جنگ1965ء جسے آج 61 سال گزرجانے کے باوجود بھی تاریخ میں زندہ ہے اور پاکستانی قوم ہر سال اس قومی دن کو یاد رکھتے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جب ہماری مصلح افواج اور پاکستانی قوم نے وطن ِ عزیز کا دفاع کرتے ہوئے دشمن پڑوسی ملک کو ایسا سبق سکھایا تھا کہ جس کا بدلہ لینے کی خواہش تو پوری نہیں ہوئی البتہ اس نے پاکستان کو نقصان ضرور پہنچا یا۔ پاکستانی افواج اور بہادر قوم نے وطن عزیز کے دفاع کے لیے اتحادم عزم اور اپنی مصلح افواج کے شانہ با شانہ مل کر بے مثال قربانی کا اعلیٰ ثبوت دیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا دشمن کئی اعتبار سے پاکستان سے بڑا ہے، اس کی افواج کی تعداد زیادہ ہے، عوام کی تعداد زیادہ ہے، جنگی ساز و سامان زیادہ ہے لیکن اسے اچھی طرح علم ہو چکا کہ پاکستانی افواج اور پاکستانی قوم کے پاس وطن کے لیے قربانی دینے کا جذبہ، حوصلہ، شہید ہونے کا جذبہ موجود ہے اور دشمن ملک کا دامن اس جذبے سے خالی ہے۔ اور یہ کمزوری دشمن ملک کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ 1965 ء کی جنگ سے یہ پیغام ملتا ہے کہ جنگ ہتھیاروں، ساز و سامان، جنگی جنون سے نہیں لڑی جاسکتی، اس کے لیے ایمان، اتحاد، نظم و ضبط، حوصلے اور قربانی کے جذبے کا ہونا ضروری ہے اور پاکستان کی افواج اور قوم قربانی کے جذبے سے سر شار ہیں۔
1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی افواج دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ثابت کیا کہ وطن کی حفاظت صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے اور1965ء کی جنگ میں افواج پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ وطن کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو سبق سکھانا جانتی ہیں، ساتھ ہی اس جنگ میں پاکستانی قوم نے افواج کے ساتھ شانہ با شانہ دشمن کے سامنے کھڑے ہوکر ثابت کیا کہ وطن کی حفاظت صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔
سوچیں! قیام پاکستان کے ابتدائی سالوں کی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کر لیا گیا، اب سوال ہمارے سامنے یہ ہے کہ ہم نے ان78سالوں میں وطن کو مضبوط کرنے، ترقی کی راہ پر گامزن کرنے، مضبوط پاکستان بنانے کے لیے اپنا حصہ کس قدر ڈالا، یہ بات واضح اور عیاں ہے کہ نہیں ہم سے کوتائی ہوئی، لاپروائی ہوئی، ہم نے جو فیصلے کیے ان سے ہمارا وطن مضبوط اس معنی میں تو ہوا کہ ہم ایٹمی طاقت بن گئے لیکن یہ بھی تو ہوا کہ ہم نے اپنا ایک بازو گنواں دیا۔کیا ہم نے اس سے سبق سیکھا، اپنی سوچ کو، اپنے عمل کو تبدیل کرنے کے اقدامات کیے، اس کا جواب تاریخ ہمیں یہ دیتی ہے کہ نہیں ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا، ہم صرف اور صرف طاقت کے حصول، اقتدار کی دوڑ میں لگے رہے، جو اس دوڑ میں آگے نکل گئے انہوں نے بھی اس جانب توجہ نہیں دی، میری مراد ہے اقتدار میں آنے والا طبقہ۔ ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، برد باری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ملک کی بھلائی کا سوچنا ہوگا، اس کو حاصل خطرات سے نبرد آزما ہونے کا سوچناہوگا۔ اپنی سوچ کے دھارے کو اس جانب لائیں اور عملی اقدام کریں کہ ہم اپنے وطن کی بہتری کے لیے انفرادی طور پر اور اجتمائی طور پا کیا کچھ کرسکتے ہیں، اسی میں ہمارے وطن کی بھلائی اور ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔ جنگ مسائل کا حل ہر گز نہیں، اور اب جب کے کئی ممالک خاص طور پر پاکستان اور بھارت ایٹمی قوت بن چکے ہیں۔ جنگ بہت ہی خطرناک ہو کر رہ گئی ہے۔ ہر ایک مل کو اپنے عوام کی ترقی اور بھلائی کے اقدامت کرنا ہوں گے۔ اسی میں عام لوگوں کی بھلائی ہے۔ وطن سے محبت کا عملی ثبوت یہ ہے کہ ہم ایک کام بھی ایسا نہ کریں جس سے وطن کو نقصان پہنچے، قومی وسائل ضائع نہ کریں اور نفرت کو فروغ نہ دیں، اپنے ارد گرد لوگوں کے ساتھ انصاف، بھائی چارے، حسنِ سلوک سے پیش آئیں۔
پاک بھارت کے مابین چار جنگیں
بھارت نے 78 سالوں میں چار مرتبہ باقاعدہ بڑی جنگیں مسلط کیں۔ پہلی جنگ قیام پاکستان کے فوری بعد 1947ء۔1948ء میں، یہ کشمیر سے الحاق اور تناع پر لڑی گئی۔ اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی ہوئی جس کے بعد کشمیر تقسیم ہوگیا یعنی مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر۔دوسری پاک بھارت جنگ 1965ء کی جنگ تھی جو6 ستمبر میں شروع ہوئی اور17 دن جاری رہنے کے بعد تاشقند معاہدے پر ختم ہوئی۔ تیسری پاک بھارت جنگ 1971ء میں مشرقی پاکستان کے بحران کی وجہ سے ہوئی جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے طور پر الگ ہوگیا۔ چوتھی پاک بھارت جنگ 1999ء میں ہوئی جسے کارگل جنگ کہا جاتاا ہے۔ اس لیے کہ یہ کارگل کے برف پوش پہاڑوں پر لڑی گئی۔ ان کے علاوہ چھوٹی چھوٹی جھڑپوں کی کوئی تعداد نہیں، ہمارا دشمن کیوں کہ پاکستان کو قبول ہی نہیں کرتا اس وجہ سے جھیڑ چھاڑ کرتا ہی رہتاہے۔ ان جنگوں سے کیا حاصل ہوا۔ نقصان بھارت کو ہوا اور پاکستان کا بھی۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ذرائع کے مطابق بھارت کو تقریباً 3000 سے 3712فوجیوں کی ہلاکت، 250سے زائد ٹینکوں اور60 سے 75 کے قریب جنگی طیاروں کا نقصان ہوا۔ اپنے اس نقصان کا بدلہ اس نے لینا ہی تھا۔ چنانچہ1971ء میں اس نے بنگال کو پاکستان کے خلاف اکسا کر اس کا بدلہ لیا اور ہم اپنے ایک بازو سے محروم ہوگئے۔ دنیا میں اس وقت تک9 ممالک ایٹمی قوت ہیں۔ ان میں بھارت اور پاکستان بھی ایٹمی قوت ہیں۔ اب اگر جنگ ہوتی ہے تو نقصان کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران 1945میں امریکہ نے جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے ۔ ہیرو شیما میں ایک لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور ناگا ساکی میں 74 ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ ایٹمی بموں کی تباہی کے دیکھتے ہوئے اس کے بعد سے اب تک کسی ملک نے دوسرے ملک پر جوہری ہتھیار استعمال نہیں کیے۔
1965ء پاک بھارت جنگ اور مَیں
1965ء کی جنگ میں میری عمر پندرہ سولھا سال کی رہی ہوگی۔ میں نویں کلاس کا طالب علم تھا۔ میرا سرکاری اسکول جس میں مَیں پانچویں جماعت سے پڑھ رہا تھاپاکستان ائر فورس کے علاقے پی اے ایف بیس ماری پور جو اب بیس مسرور کہلاتا ہے کے کیمپ نمبر2 میں تھا، جو اب بھی ہے۔ بھارت نے جنگ مسلط کی، پاکستان کی مسلح افواج دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار تھیں۔ جنگ میں افواج کے بلند حوصلے، اور ان کے مورال کو بڑھانے اور جذبہ بیدار کرنے کے لیے ضروری تھا کہ افواج کے علاوہ ملک کے عوام بھی اپنی حکومت اور افواج کے شانہ با شانہ سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ اس حوالے سے فوری اقدام کے طور پر اس کے صدر مملکت فیلڈ مارشل جرنل ایوب خان صاحب نے ریڈیوپر ایسی جذباتی اور افواج اور عوام کا مورال بلند ہوا۔ ان کی تقریر اس وقت میں نے اپنے اسکول میں سنی، بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی وژن کو پاکستان میں آئے ایک سال ہی ہوا تھا یعنی پاکستان میں ٹیلی ویژن کا آغاز 26 نومبر1964ء کو ہوا۔ ہمارے اسکول کے صدر مدرس نے اسکول کے ریڈیو کو باہررکھوا دیا جہاں پر ہم تمام طلبہ اور اساتذہ نے ایوب خان صاحب کی یہ تقریر سنی۔ صدر پاکستان کا یہ معروف خطاب 6ستمبر 1965ء کو ہوا، اس میں کوئک شک نہیں ایک تو الفاظ دوسرے ایک فوجی کی جوشیلی اور گرم جوشی کی گئی تقریر نے افواج پاکستان کے حوصلے تو بلند کیے ساتھ ہی عوام میں جوش و خروش پید ہوگیا۔ ایوب خان صاحب کی اس تقریر کا یک جملہ بہت مقبول ہوایہ ان کی تقریر کا آغاز بھی تھا۔ انہوں نے کہا تھا ”دشمن نے ایک ایسی قوم کو للکارا ہے جواپنے ملک کی آزادی اور عزت کے لئے مرمٹنے کو تیار ہے“۔ صدر ایوب خان نے کہا تھا کہ پاکستان کے عوام متحد ہیں، ان کے دلوں میں ایمان اور وطن سے محبت ہے، اور وہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہیں گے۔ انہون نے قوم کو حوصلہ دیتے ہوئے آے بڑھنے اور دشمن کا مقابلہ کرنے کا عزم دلایا۔ اس تاریخی جملے سے متاثر ہوکر حمایت علی شاعر نے مشہور ملی نغمہ ”اے دشمنِ دیں، تو نے کس قوم کو للکارا“ لکھا جو بہت مقبول ہوا۔ اس دور کے شاعروں نے ملی نغمے لکھے جنہیں اس دور کے گلوکاروں نے خوبصورت انداز سے پیش کیا۔ مشہور ملی نغموں میں ’اے راہِ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو‘، اے مردِ مجاہد جاگ ذرا، ساتھیو مجاہدو جاگ اٹھا ہے سارا وطن، میریا ڈھول سپاہیا، تینو رب دیاں رکھاں، اللہ اکبر، چاند میری زمیں، پھول میرا وطن اور دیگر ملی نغموں نے عوام میں جوش و جذبہ پیدا کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے نوجوانوں کو خودی اور بلند حوصلے کا پیغام دیا۔ ان کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف خواہشوں سے ترقی نہیں کرتیں انہیں محبت، نظم و ضبط، اتحاد اور جہد ِ مسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔ آئیے یوم دفاعِ پاکستان کے دن یہ عہد کریں کہ ہم پاکستان کو ذمہ داری اور اور امانت سمجھیں گے، ہم اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کریں گے، تعلیم اور علم کو فروغ دیں گے، قانون کی پاسداری کریں گے اور یہ کہ ہم اپنے وطن کی ترقی کے لیے ہر وہ کام کریں گے جو ہمارے بس میں ہوگا۔ اللہ پاک ہمارے وطن پاکستان کو امن، استحکام، ترقی اور خوشیوں کا مرکز بنادے اور ہمیں ایک ذمہ دار، باکرداراور محبِ وطن پاکستانی بننے کی طوفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ پاکستان زندہ باد! پاکستان پائندہ باد!
(6 ستمبر2026ء) See less


Prof. Dr Rais Ahmed Samdani
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 874 Articles with 1712052 views Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More