ملکی بقاء کے لئے حق کا ساتھ دیں
(Ch Zulqarnain Hundal, Gujranwala)
تحریر: ذوالقرنین ہندل
لکھاری کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے،وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں اور سال2019میں آگاہی ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔
ملکی معیشت میں زراعت ریڑھ کی ہڈی ہے۔ پاکستان کی اکثریت کا روزگار اسی شعبے سے وابسطہ ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق ساٹھ فیصد سے زائد کا روزگار زراعت اور اس سے منسلک شعبوں سے وابسطہ ہے۔
اس شعبے کو چلانے کے لئے حکومت نے مختلف زرعی شعبے بنا رکھے ہیں۔ انہی میں سے ایک شعبہ زرعی ادویات کے کنٹرول کا بھی ہے۔ جس کا نام پیسٹی سائیڈ کوالٹی کنٹرول ہے۔اس ڈیپارٹمنٹ نے زرعی ادویات کے معیار، جعلی ادویات کی روک تھام کے ساتھ گزشتہ سالوں سے چاول کی ایکسپورٹ کوالٹی کے معیار کے لئے ممنوع زہروں کے استعمال کو بھی کافی حد تک کنٹرول کیا ہے۔جو واقعی قابل داد ہے۔جس سے آنے والے دنوں میں پاکستان سے چاول کی برآمدات بڑھیں گی۔
بات گوجرانوالہ کی ایک سابق تحصیل سے شروع ہوتی ہے۔یہاں سے ایک نامور وزیر کے بھائی قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے ہیں۔ جس بڑے مہذب و نامور خاندان کے برعکس یہ نشست ان کے حوالے کی گئی ہے،امید کرتے ہیں کہ یہ ان کی لاج رکھیں گے۔
اس تحریر کا مقصد محض اصلاحی ہے، کسی فرد کی دل آزاری مقصود نہیں۔
اسی حلقے میں گزشتہ چند سالوں سے ایک خاتون پیسٹی سائیڈ کوالٹی کنٹرول کے شعبے میں بطور ایک اہم آفیسر اپنی خدمات انجام دے رہی تھیں۔ دوران ڈیوٹی وہ اپنے معمول کے مطابق کام کے دوران ایک زرعی دوائیوں کے ڈیلر کی دوکان سے چند استعمال کی مدت ختم ہوئی ادویات اور چاول کی فصل پر ممنوعہ ادویات کو تحویل میں لے کر قانونی تقاضے پورے کر کے ان کے خلاف استغاثہ دائر کر دیتی ہیں۔بجائے کہ اس مسئلے کا بہتر حل نکالا جاتا۔وہ شخص اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اپنے سیاسی لیڈر کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔خاتون افسر کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔خاتون افسر ایم این اے کے کہنے پر استغاثہ واپس نہیں لیتی، جس کو ممبر پارلیمنٹ اپنی انا کا مسئلہ بنا کر متعلقہ محکمے کی اعلی قیادت کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ اسی کشمکش میں سیاسی رہنما خاتون کا ٹرانسفر کروا دیتے ہیں۔مختلف محفلوں میں ممبر پارلیمنٹ اس بات کا تذکرہ بھی کر چکے ہیں کہ خاتون افسر نے میرا فون نہیں اٹھایا اسی وجہ سے اس کا ٹرانسفر کروایا ہے۔فون نہ اٹھانے پر ٹرانسفر کی سزا کس قانون کے تحت ہے؟
بجائے اس کہ کے معزز ممبر پارلیمان اپنے رتبے کے مطابق اپنے اسپورٹر کو سمجھاتے کہ غیر قانونی ادویات کا استعمال ترک کرکے قانون کے تقاضوں کے مطابق ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے خاتون افسر کا ٹرانسفر کروا کر غیر قانونی کام کو بڑھاوا دیا ہے۔ جو نہ صرف کسانوں کے لئے نقصان کا باعث ہے بلکہ زراعت کی بقاء سمیت ملکی معیشت و بقاء کے لئے خطرے کا باعث ہے۔اس نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
سال 2024میں یورپئین یونین نے قریب 104پاکستانی چاو ل کی کھیپ کو مہلک و سرائیت پزیر زہروں کے استعمال کی وجہ سے رد کر دیا تھا۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 20-50% پیدوار غیر معیاری اور جعلی ادویات کے استعمال کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے۔
ایسے میں محکمے کا غیر معیاری وممنوعہ ادویات کی روک تھام کا کام کیسے غلط ہو سکتاہے؟ بلکہ اسی کام کی تو وہ تنخواہ لیتے ہیں۔ملک میں زراعت کی بقاء کے لئے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے،جس سے غیر معیاری و ممنوعہ ادویات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
یہ تو ایک واقعے کا احوال ہے نہ جانے ایسے کتنے واقعات ہوں گے، جو ملکی بقاء کے لئے مہلک بیماری کا کام کر رہے ہیں۔ جس سے نہ صرف انتظامی مسائل بڑھ رہے ہیں،بلکہ ملکی ساکھ متاثر ہونے کے ساتھ ملکی بقاء کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
اگر اللہ کی ذات نے آپ کے سر پر حکمرانی کا سہرا سجا دیا ہے، تو اسے اپنی ذاتی انا کی بھینٹ مت چڑھائیں۔بلکہ اسے اللہ کی طرف سے دی گئی ذمہ داری سمجھ کر اس میں توازن رکھ کر ملک و معاشرے کے لئے مفید بن جائیں۔ جو ملکی بقاء کے لئے درست راستے پر چل رہے ہیں انہیں راستے سے ہٹانے کے لئے اپنی توانائی خرچ نہ کریں۔آپ کی یہ توانائی ملکی بقاء و بہتری کے لئے بھی استعمال ہو سکتی ہے،جس سے آپ کو ذہنی سکون و اطمینان بھی ملے گا اور آپ کی شخصیت میں نکھار آئے گا۔
لکھنے کو تو بہت کچھ تھا،مگر لکھنے کا مقصد کوئی ذاتی رنجش نہیں بلکہ خالص اصلاح ہے۔امیدکرتا ہوں کہ اس پیغام کا اچھا تاثر جائے گا۔خدارا؛ملکی بقاء کے لئے ہمیشہ حق کا ساتھ دیں۔ ذرا سوچئے!