14 اگست: جشنِ آزادی یا احتساب کا دن؟

14 اگست: جشنِ آزادی یا احتساب کا دن؟
(تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان)
14 اگست آتے ہی گلیاں سبز ہلالی پرچموں سے سج جاتی ہیں، گھروں کی چھتوں پر جھنڈے لہرانے لگتے ہیں، گاڑیوں پر سبز و سفید رنگ نمایاں ہو جاتا ہے، ملی نغموں کی آوازیں بلند ہوتی ہیں اور ہر طرف "پاکستان زندہ باد" کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ یہ منظر یقیناً خوبصورت ہے، کیونکہ وطن سے محبت انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ مگر کبھی کبھی دل میں ایک سوال بھی اٹھتا ہے: کیا وطن سے محبت کا اظہار صرف ایک دن کے جوش، چند جھنڈوں اور چند نعروں تک محدود رہنا چاہیے؟
14 اگست صرف کیلنڈر پر درج ایک تعطیل نہیں، یہ ایک تاریخی ذمہ داری کی یاد دہانی بھی ہے۔ 1947ء میں پاکستان کا قیام محض زمین کے ایک ٹکڑے کے حصول کا واقعہ نہیں تھا؛ یہ ایک سیاسی جدوجہد، قربانیوں، ہجرتوں اور ایک ایسے مستقبل کے خواب کا نتیجہ تھا جس میں ایک قوم اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی فیصلے خود کر سکے۔ آزادی نے ہمیں ایک ریاست دی، مگر اس ریاست کو ایک مضبوط، منصفانہ اور خوشحال معاشرے میں تبدیل کرنا آج بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ مگر آزادی کا اصل مفہوم صرف یہ نہیں کہ ہمارے اوپر کوئی غیر ملکی حکمران نہیں۔ آزادی کا ایک گہرا مفہوم یہ بھی ہے کہ ایک قوم اپنے فیصلے عقل، دیانت، قانون، خودداری اور قومی مفاد کے مطابق کرے۔ اگر ایک شہری اپنے حق کے لیے سفارش کا محتاج ہو، اگر قانون طاقتور اور کمزور کے لیے مختلف ہو، اگر تعلیم دولت والوں تک محدود ہو، اگر نوجوان روزگار کے لیے وطن سے باہر جانے کو واحد راستہ سمجھنے لگیں اور اگر عام آدمی اپنی بنیادی ضروریات کے لیے پریشان ہو تو ہمیں اپنے جشن کے ساتھ اپنے احتساب کی طرف بھی دیکھنا چاہیے۔
ہم نے آزادی کو اکثر ایک جذباتی تصور بنا دیا ہے، جبکہ آزادی ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ ریاست آزاد ہو سکتی ہے، مگر اس کے شہری جہالت، غربت، ناانصافی، کرپشن، خوف اور تعصب کی زنجیروں میں گرفتار رہ سکتے ہیں۔ جھنڈا لہرانا آسان ہے، مگر اس جھنڈے کے وقار کے مطابق کردار ادا کرنا مشکل ہے۔ قومی ترانہ پڑھنا آسان ہے، مگر اپنے منصب، کاروبار، تدریس، سیاست اور روزمرہ زندگی میں قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا اصل امتحان ہے۔ اور یہاں ایک تلخ مگر ضروری بات بھی کہنی چاہیے۔ ہمارا جھنڈا واقعی خوبصورت ہے؛ سبز رنگ امید، سفید رنگ امن اور ہلال و ستارہ روشن مستقبل کی علامت دکھائی دیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ کبھی کبھی اسی خوبصورت جھنڈے کے ساتھ ایک ایسا "ڈنڈا" بھی دکھائی دیتا ہے جو اس کے حسن سے زیادہ ہماری بے بسی کی داستان سناتا ہے۔ شاید ہمیں جھنڈا بدلنے کی نہیں، اس کے ساتھ جڑے ہوئے اس "ڈنڈے" کے مزاج کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ جس دن اختیار کا مطلب خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ شہری کو تحفظ دینا سمجھ لیا گیا، شاید اسی دن آزادی کا مفہوم بھی عام آدمی کو محسوس ہونا شروع ہو جائے۔ ہمیں اپنے جھنڈے سے کوئی شکایت نہیں؛ شکایت اگر ہے تو اس "ڈنڈے" سے ہے جو کبھی قانون کے نام پر، کبھی اختیار کے نام پر اور کبھی نظم و ضبط کے نام پر عام آدمی کے سروں پر سایہ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ جھنڈا ہماری شناخت ہے، ڈنڈا ہماری حکمرانی کا طریقہ نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کا وقار اس وقت بلند ہوتا ہے جب شہری جھنڈا دیکھ کر فخر محسوس کرے، خوف نہیں۔
ہم اکثر پوچھتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ شاید اس سوال کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی ضروری ہے: ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟ اگر ہم استاد ہیں تو کیا ہم نے دیانت داری سے نسل تیار کی؟ اگر ہم ڈاکٹر ہیں تو کیا مریض کو انسان سمجھا؟ اگر ہم تاجر ہیں تو کیا ناپ تول میں انصاف کیا؟ اگر ہم سرکاری ملازم ہیں تو کیا اپنے منصب کو امانت سمجھا؟ اگر ہم سیاست دان ہیں تو کیا اختلاف کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھا؟ اگر ہم عام شہری ہیں تو کیا قانون، صفائی، ٹریفک اور دوسرے شہریوں کے حقوق کا خیال رکھا؟
قومیں صرف حکمرانوں سے نہیں بنتیں؛ قومیں شہریوں کے مجموعی کردار سے بنتی ہیں۔ لیکن اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ریاستی اداروں اور فیصلہ سازوں کی ذمہ داری عام شہری سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ جس کے ہاتھ میں اختیار ہو، اس کے ہاتھ میں جواب دہی بھی ہونی چاہیے۔ اقتدار کسی فرد یا طبقے کو عوام سے بالاتر نہیں کرتا، بلکہ اسے عوام کے سامنے زیادہ جواب دہ بناتا ہے۔ اگر ریاست شہری سے قانون کی پابندی کا تقاضا کرتی ہے تو ریاست پر بھی لازم ہے کہ وہ قانون کو سب کے لیے یکساں رکھے۔
ایک پرچم اس وقت خوبصورت نہیں ہوتا جب صرف وہ بلند ہو، بلکہ اس وقت خوبصورت ہوتا ہے جب اس کے نیچے رہنے والے لوگ اپنے کردار سے اس کی عزت بلند کریں۔ سبز و سفید رنگ ہماری عمارتوں پر ضرور سجنے چاہئیں، مگر سبز امید ہمارے نوجوان کے دل میں اور سفید دیانت ہمارے کردار میں بھی نظر آنی چاہیے۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کی کہانی صرف ناکامیوں کی کہانی نہیں۔ اس ملک نے محدود وسائل کے باوجود بے شمار شعبوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں پاکستانیوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ہمارے سائنس دانوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، انجینئروں، کھلاڑیوں، فن کاروں اور کاروباری افراد نے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے اندر صلاحیت نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی اجتماعی صلاحیت کو مسلسل اور منظم قومی قوت میں تبدیل نہیں کر سکے۔ چودہ اگست ہمیں ماضی پر فخر ضرور سکھائے، مگر ماضی میں پناہ لینا نہیں۔ آزادی کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب ہم اپنے بچوں کے لیے ایسا پاکستان چھوڑیں جس میں انہیں بنیادی سہولتوں کے لیے سفارش نہ ڈھونڈنی پڑے، انصاف کے لیے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے، روزگار کے لیے اپنی صلاحیت سے زیادہ تعلقات کی ضرورت نہ ہو اور اختلافِ رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے۔
ایک آزاد ریاست میں شہری کو حکومت سے اختلاف کرنے کا حق بھی ہونا چاہیے اور حکومت کو اختلاف سننے کا حوصلہ بھی۔ تنقید کو غداری سمجھنے کے بجائے اسے اصلاح کا موقع سمجھا جائے۔ کیونکہ جہاں سوال کرنے والا دشمن قرار پائے، وہاں غلطی کی اصلاح مشکل ہو جاتی ہے اور جہاں اقتدار سوال سے گھبرائے، وہاں ادارے مضبوط نہیں ہوتے۔ آج اگر ہم واقعی یومِ آزادی منانا چاہتے ہیں تو ایک دن کے لیے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ ہم نے اپنے حصے کی ذمہ داری کہاں پوری کی اور کہاں کوتاہی کی۔ ہمیں اپنے فیصلہ سازوں سے بھی پوچھنا ہوگا کہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے میں عام شہری کی زندگی کو کتنا آسان، محفوظ اور باوقار بنایا گیا۔ جشن کا مطلب سوال ختم کرنا نہیں؛ کبھی کبھی جشن کا بہترین طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوال اٹھائیں۔
14 اگست کا سب سے خوبصورت جشن شاید وہ ہوگا جب ایک استاد بغیر سفارش کے پوری دیانت سے پڑھائے، ایک طالب علم نقل کے بجائے محنت کو کامیابی کا راستہ بنائے، ایک تاجر ملاوٹ سے انکار کرے، ایک افسر رشوت کو ٹھکرا دے، ایک سیاست دان اختلاف کو دشمنی نہ بنائے، ہر ایک ادارہ قانون کو شخصیات سے بالاتر رکھے، ایک شہری اپنے فرائض ادا کرے اور ایک نوجوان یہ سوچے کہ پاکستان سے باہر جانے سے پہلے پاکستان میں کچھ بدلنے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ آزادی صرف یہ نہیں کہ ہم ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئے ہیں؛ آزادی یہ بھی ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بہتر ملک دینے کی ذمہ داری قبول کریں۔ اس لیے اس 14 اگست پر پرچم ضرور لہرائیے، ملی نغمے ضرور سنیے، پاکستان زندہ باد ضرور کہیے، مگر چند لمحوں کے لیے خاموش ہو کر یہ بھی سوچیے کہ جس پاکستان کے لیے ہمارے بزرگوں نے ہجرت کی، قربانیاں دیں اور اپنا سب کچھ چھوڑا، کیا ہمارا آج کا پاکستان واقعی اُن کے خواب کے قریب پہنچا ہے؟
اگر جواب مکمل طور پر "ہاں" نہیں ہے تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ شاید یہی احساس اگلی منزل کا آغاز بن جائے۔ قومیں ایک دن میں نہیں بدلتی، مگر ایک دن فیصلہ ضرور کرتی ہیں کہ اب انہیں بدلنا ہے۔ پاکستان ہمارا ماضی بھی ہے، ہمارا حال بھی اور ہماری آنے والی نسلوں کی امانت بھی۔ جشنِ آزادی کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس امانت کو صرف نعروں میں نہیں، اپنے کردار، اپنی دیانت، اپنے اداروں اور اپنے فیصلوں میں بھی محفوظ رکھیں۔ پاکستان زندہ باد مگر ایسا پاکستان بھی زندہ باد جس میں جھنڈا فخر کی علامت ہو، "ڈنڈا" خوف کی نہیں، جہاں ریاست طاقت سے نہیں، انصاف سے مضبوط ہو اور جہاں شہری آزادی کو صرف 14 اگست کو نہیں، اپنی روزمرہ زندگی میں بھی محسوس کر سکے۔
(پاکستان پائندہ باد) 
Dr. Talib Ali Awan
About the Author: Dr. Talib Ali Awan Read More Articles by Dr. Talib Ali Awan: 74 Articles with 117197 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.