چین میں تعمیرات کا نیا چہرہ

چین میں تعمیرات کا نیا چہرہ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

شدید گرمی میں بھی بلند عمارت کی تعمیر جاری ہے، مگر کارکن دھوپ اور موسم کی سختی سے محفوظ ہیں۔ تعمیراتی کارکنوں کے سر کے اوپر ایک بڑا متحرک پلیٹ فارم چھتری کی طرح موجود ہے جو عمارت کے ساتھ ساتھ اوپر اٹھتا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ تعمیراتی سامان بھی اگلی منزل تک پہنچ جاتا ہے اور مختلف سینسر ہر مرحلے کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ یہ منظر اس تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جس میں چین کا تعمیراتی شعبہ روایتی محنت پر انحصار سے نکل کر مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹوئن، خودکار مشینوں اور ذہین نگرانی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اس جدید نظام کو ایک طرح کی ’’متحرک فضائی فیکٹری‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ اسٹیل کا وسیع پلیٹ فارم متعدد ستونوں پر قائم ہوتا ہے اور حفاظتی جال اور ریلنگ اسے گھیرے رکھتے ہیں۔ عمارت بلند ہونے کے ساتھ یہ پورا پلیٹ فارم بھی اوپر منتقل ہوتا رہتا ہے، جس سے کھلی فضا میں بلند عمارتوں پر کام کرنے کے بجائے نسبتاً محفوظ اور بند ماحول میں تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینا ممکن ہو جاتا ہے۔


اس نظام کا فائدہ صرف کارکنوں کو شدید موسم سے بچانے تک محدود نہیں۔ تعمیراتی سامان اور آلات بھی پلیٹ فارم کے ساتھ اوپر منتقل کیے جاتے ہیں، جس سے بھاری سامان کو بار بار کرین کے ذریعے الگ سے اٹھانے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ یوں وقت اور انسانی محنت دونوں کی بچت ہوتی ہے۔

بڑے رقبے پر تعمیر کے دوران درستگی برقرار رکھنے کے لیے اس نظام میں ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی اور متعدد سینسرز استعمال کیے جاتے ہیں۔ سینسر مسلسل حقیقی وقت میں معلومات جمع کرتے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل نظام مختلف مراحل کی نگرانی کرکے ممکنہ خرابی کی نشاندہی کرتا اور ضرورت پڑنے پر خودکار اصلاح بھی کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے بعض منصوبوں میں ایک منزل کی تعمیر تقریباً چار دن میں مکمل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوئی ہے۔

چین میں تعمیراتی شعبے کی یہ تبدیلی کسی ایک منصوبے تک محدود نہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے متعلقہ حکام نے مختلف شہروں میں سمارٹ تعمیرات کے آزمائشی منصوبے شروع کیے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو تعمیر کے ابتدائی نقشے سے لے کر عمارت کی تکمیل اور بعد ازاں دیکھ بھال تک پورے عمل میں شامل کیا جائے۔

کچھ بڑے شہری تعمیراتی منصوبوں میں مصنوعی ذہانت سے لیس کیمرے تعمیراتی مقامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ نظام کارکنوں کے غیر محفوظ رویوں کی فوری نشاندہی کرکے خودکار انتباہ جاری کر سکتا ہے۔ ٹاور کرینوں میں نصب سینسر مشینوں کی سرگرمیوں کو مسلسل مانیٹر کرتے ہیں، جبکہ ورچوئل تربیتی نظام کارکنوں کو حقیقی کام شروع کرنے سے پہلے مختلف حفاظتی صورتحال کا عملی تجربہ فراہم کرتے ہیں۔

خطرناک حالات کی تربیت کے لیے ورچوئل رئیلٹی ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ کارکن ایسے ممکنہ حادثات کی مصنوعی صورتحال میں تربیت حاصل کر سکتے ہیں جو حقیقی تعمیراتی مقام پر پیش آ سکتے ہیں۔ اس طرح حفاظتی تربیت محض ہدایات سننے کے بجائے عملی تجربے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

سمارٹ تعمیرات کا مقصد صرف تعمیراتی مقام کو محفوظ بنانا نہیں بلکہ عمارت میں رہنے والوں کے تجربے کو بھی بہتر بنانا ہے۔ بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ کے ذریعے عمارت مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ جانچنا ممکن ہے کہ ہوا کس سمت سے گزرے گی، کمروں میں قدرتی روشنی کس حد تک پہنچے گی اور توانائی کے استعمال کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔


نئی رہائشی عمارتوں میں سمارٹ آلات بھی تیزی سے شامل کیے جا رہے ہیں۔ بعض گھروں میں ایسے کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے بزرگ افراد یا بچوں کے گرنے کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ گیس لیک ہونے کی صورت میں سینسر خودکار طور پر گیس کا والو بند کرنے اور کھڑکیاں کھولنے کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔ یوں سمارٹ تعمیرات عمارت کی تعمیر کے مرحلے سے نکل کر روزمرہ زندگی کا حصہ بن رہی ہیں۔

اس پورے عمل کو حکومتی پالیسی کی بھی حمایت حاصل ہے۔ تعمیراتی شعبے میں سمارٹ ٹیکنالوجی کے فروغ، جدید صنعتی سلسلے کی تشکیل اور عمارتوں کے پورے دورانیۂ حیات میں ڈیجیٹل نظام کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد تعمیرات کو صرف تیز تر بنانا نہیں بلکہ معیار، حفاظت، توانائی کی بچت اور وسائل کے بہتر استعمال کو بھی یقینی بنانا ہے۔

سمارٹ تعمیرات اب صرف رہائشی عمارتوں تک محدود نہیں رہیں۔ پیچیدہ سرنگوں، شاہراہوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں بھی یہی طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ بعض پہاڑی علاقوں میں جہاں چٹانیں غیر مستحکم اور زمین دھنسنے کا خطرہ موجود ہوتا ہے، تعمیر شروع کرنے سے پہلے زیر زمین حالات جانچنے کے لیے جیولوجیکل ریڈار اور دیگر جدید آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔

سرنگ کی کھدائی کے دوران بھی متعدد سمارٹ سینسر مسلسل زمین کی حرکت، دباؤ اور سطح میں تبدیلی کی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس حقیقی وقت کے ڈیٹا کی بنیاد پر تعمیراتی ٹیمیں اپنے طریقہ کار میں فوری تبدیلی کر سکتی ہیں۔ یوں ممکنہ خطرے کا انتظار کرنے کے بجائے اس کی پیشگی نشاندہی کرکے کارروائی کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔

یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے جو چین کے تعمیراتی شعبے کو روایتی انداز سے الگ کر رہی ہے۔ پہلے تعمیراتی منصوبوں میں زمین کا سروے، نقشہ سازی، تعمیر، سامان کی ترسیل اور بعد ازاں دیکھ بھال بڑی حد تک الگ الگ مراحل سمجھے جاتے تھے۔ اب مصنوعی ذہانت، سینسرز، ڈیجیٹل ٹوئن اور خودکار مشینیں ان تمام مراحل کو ایک مربوط ڈیٹا نظام میں جوڑ رہی ہیں۔

اس تبدیلی کا اصل مقصد صرف عمارتیں جلدی اور کم خرچ میں بنانا نہیں۔ اس سے کہیں بڑا مقصد ایک ایسے جدید صنعتی نظام کی تشکیل ہے جہاں ڈیزائن، پیداوار، تعمیر، سامان کی ترسیل اور دیکھ بھال ایک ہی مربوط سلسلے کا حصہ ہوں۔ اس کے نتیجے میں تعمیراتی سامان، انجینئرنگ مشینری، صنعتی سافٹ ویئر اور سمارٹ آلات جیسے متعلقہ شعبوں میں بھی نئی جدت اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

چین کے لیے تعمیراتی شعبے کی یہ ڈیجیٹل تبدیلی اس بات کی مثال ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف کمپیوٹر یا روبوٹ بنانے تک محدود نہیں۔ جب یہی ٹیکنالوجی عمارت، سڑک، سرنگ اور گھر بنانے کے طریقے کو تبدیل کرنے لگے تو اس کے اثرات پوری معیشت اور روزمرہ زندگی تک پہنچتے ہیں۔ مستقبل کی تعمیر شاید صرف اینٹ، سیمنٹ اور فولاد سے نہیں ہوگی؛ اس کی بنیاد ڈیٹا، ذہین مشینوں اور مسلسل نگرانی پر بھی قائم ہوگی۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1980 Articles with 1161716 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More