ڈاکٹر اظہار احمد گلزار: مدحتِ رسول ﷺ اور تاریخِ ادب کے امین تحریر: ناصر راجپوت
(Dr.Izhar Ahmad Gulzar, Faisalabad, Pakistan)
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار: مدحتِ رسول ﷺ اور تاریخِ ادب کے امین
تحریر: ناصر راجپوت |
|
|
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار: مدحتِ رسول ﷺ اور تاریخِ ادب کے امین تحریر: ناصر راجپوت |
|
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار: مدحتِ رسول ﷺ اور تاریخِ ادب کے امین
تحریر: ناصر راجپوت
۱ ادب اور تاریخ کا رشتہ ہمیشہ سے گہرا اور ناقابلِ تنسیخ رہا ہے۔ جہاں تاریخ کسی شہر کے جغرافیے، سیاسی تبدیلیوں اور معروضی احوال کو محفوظ کرتی ہے، وہاں ادب اس شہر کی فکری، تہذیبی اور معنوی روح کو زرق برق لباس پہناتا ہے۔ فیصل آباد کے علمی و ادبی منظر نامے پر ڈاکٹر اظہار احمد گلزار ایک ایسی ہمہ جہت اور جامع الصفات شخصیت کے طور پر ابھرتے ہیں جنہوں نے نہ صرف اس خطے کی ادبی تاریخ کی پاسبانی کی، بلکہ مدحتِ رسول ﷺ کے نور سے اپنے قلم اور فکر کو دوامی جلا بھی بخشی۔ معروف محقق و نقاد پروفیسر ریاض احمد قادری نے اپنے ایک توصیفی مضمون میں بجا طور پر انہیں "فیصل آباد کی ادبی تاریخ کا امین" قرار دیا ہے۔ یہ لقب محض ایک رسمی توصیف نہیں بلکہ ڈاکٹر صاحب کی دہائیوں پر محیط تحقیقی، تنقیدی، تخلیقی اور نعتیہ کاوشوں کا اعتراف ہے۔
۲۔ سوانحی خاکہ اور متنوع علمی خصوصیات :
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی شخصیت گہرے علمی تتّبع، انتھک محنت اور حیرت انگیز ورسٹائل صلاحیتوں کا مجموعہ ہے۔ ولادت و نسب: آپ کی ولادت 15 جولائی 1966ء کو چک نمبر 87 گ ب (بابے دی بیر)، ضلع فیصل آباد میں رانا محمد گلزار خاں کے گھر ہوئی، جبکہ والدہ ماجدہ حاجن زبیدہ بیگم ہیں۔ تعلیمی سفر: آپ نے پی ایچ ڈی (اردو زبان و ادبیات) اور ایم فل کی اعلیٰ علمی ڈگریاں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ اردو، پنجابی، سیاسیات اور اسلامیات جیسے متنوع مضامین میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کر کے اپنی علمی پیاس کا ثبوت دیا۔ طبی علوم و تخصیص: انسانی علوم کے ساتھ ساتھ آپ نے فارمیسی و میڈیکل ٹیکنیشن کورس میں ڈپلومہ حاصل کیا اور ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے طور پر بھی تخصیص حاصل کی۔ سائنس اور ادبیات کا یہ سنگم ان کی فکر میں منطقی توازن، مشاہدے کی باریک بینی اور ہمہ گیر وسعتِ مطالعہ پیدا کرتا ہے۔ ۳۔ اردو ادب کے لیے تحقیقاتی، تدوینی اور تنقیدی خدمات اردو ادب کے میدان میں ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع اور معتبر ہے۔ آپ کی تصانیف تحقیق، تنقیدی شعور، تدوین اور تذکرہ نگاری کا شاندار نمونہ ہیں:
(الف) تحقیقی و تنقیدی تصانیف
جہانِ نور: نور محمد نور کپور تھلوی کی اردو شاعری کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ، جس میں علاقائی شعری سرمائے کو سائنسی بنیادوں پر پرکھا گیا ہے۔
تاریخِ اردو ادب اور ادبی تحریکیں: اردو ادب کے ارتقائی مراحل اور ادبی تحریکوں کے اثرات کا احاطہ کرنے والی ایک مستند کاوش۔
(ب) سیرت و نعت شناسی فخرِ کائنات (مقالاتِ میلادِ النبی ﷺ): سیرتِ طیبہ اور محافلِ میلاد کی علمی و تحقیقی جہتوں پر مشتمل مقالات۔ سارا عالم ہے منور آپ کے انوار سے: غیر مسلم شعراء کے نعتیہ کلام کا تحقیقی انتخاب و تجزیہ۔ زمانے میں چمکا ہے نامِ محمد ﷺ: اسمائے النبی ﷺ کی فکری و لغوی شرح۔ اظہارِ نعت: آپ کا طبع زاد اردو نعتیہ مجموعہ۔ (ج) خطابات و تدوین گلزارِ تقاریر: علمی و ادبی موضوعات پر مبنی تقاریر کا مجموعہ۔ کلیاتِ نور: اہم کلاسیکی و علاقائی متون کی تدوین و ترتیب۔ ۴۔ پنجابی زبان و ادب کے لیے گراں قدر کاوشیں اور وسیع تجربہ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی ادبی شخصیت کا ایک انتہائی اہم اور روشن رخ پنجابی زبان و ادب سے ان کا گہرا قلبی و فکری تعلق ہے۔ وہ ماخوذ کلچر اور مقامی دھرتی کی مٹی سے جڑے ہوئے ادیب ہیں: افسانوی ادب (سوچاں بھرن کلاوے): پنجابی کہانیوں کے اس مجموعے میں انہوں نے پنجاب کی دیہی و شہری زندگی کے معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کو بڑی جرات اور باریک بینی سے موضوع بنایا ہے۔ ان کے افسانوں میں خطے کی ثقافتی علامتیں، لوک حکمت اور انسانی رشتوں کا لمس واضح دکھائی دیتا ہے۔ پنجابی شاعری (نیندوں سکھنی اکھ): پنجابی منظوم تخلیقات پر مشتمل یہ مجموعہ ڈاکٹر صاحب کے احساس کی نزاکت، سوزِ دروں اور کلاسیکی پنجابی شعری روایت (ہیر، سی حرفی، کافی) پر ان کی کامل گرفت کا ثبوت ہے۔ پنجابی متون کی تدوین: انہوں نے "کلیاتِ نور" (پنجابی کلام) کو مرتب کر کے پنجابی زبان کی تاریخی و تحریری ثروت میں گراں قدر اضافہ کیا۔ پنجابی ادب میں ان کا وسیع تجربہ اس بات کا ضامن ہے کہ وہ علاقائی زبان کی چاشنی، ضرب الامثال اور محاوراتی محاکات سے مکمل طور پر واقف ہیں اور اسے جدید فکری تناظر میں پیش کرنے کا فن جانتے ہیں۔ ۵۔ تاریخِ ادب کی پاسبانی اور فیصل آباد کا ادبی آرکائیو پروفیسر ریاض احمد قادری رقم طراز ہیں: "ان کا سب سے بڑا کارنامہ فیصل آباد کی ادبی تاریخ کو محفوظ کرنا ہے۔ انہوں نے بکھرے ہوئے ادبی سرمائے کو یکجا کیا اور شہر کے گمنام ادیبوں اور شاعروں کو منظرِ عام پر لائے۔ ان کی تصانیف میں فیصل آباد کے ادبی منظر نامے کی جزیات کچھ اس طرح ملتی ہیں کہ آنے والی نسلیں اسے ایک مستند حوالہ (Reference) کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں۔" تنقیدی زاویے سے دیکھیں تو ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی تذکرہ نگاری محض ناموں کی سوانحی فہرست سازی نہیں ہے، بلکہ یہ ادبی و ثقافتی آرکائیو (Archive) کی تشکیل ہے۔ انہوں نے مقامی مشاعروں، ادبی تحریکوں، حلقہ اربابِ ذوق کی نشستوں اور قلم کاروں کے کلام کو محفوظ کر کے فیصل آباد کے معنوی وقار کو سنبھالا دیا ہے۔
۶۔ "اظہارِ نعت" کا جامع، فکری اور فنی و تنقیدی جائزہ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی شخصیت کا سب سے تابناک اور باعثِ سعادت پہلو ان کی نعتیہ شاعری ہے۔ ان کے مجموعہٴ نعت "اظہارِ نعت" کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نعت کو صرف ایک صنفِ سخن نہیں بلکہ اپنی بندگی اور نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ نعتیہ کلام کی روشنی میں "اظہارِ نعت" کی اہم فکری و فنی جہتیں حسبِ ذیل ہیں: (الف) عجز و انکسار، نیت کا خلوص اور شکر گزاری نعت گوئی کے لیے عجز و انکسار بنیادی شرط ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے ہاں خود نمائی کے بجائے اعترافِ کم مائگی کا جذبہ غالب ہے: عشق حاصل اس کو ہی پیارے نبیؐ کا ہو گیا جو گدا دل سے مدینے کی گلی کا ہو گیا ... شاعری کو مل گئی اک معتبر سی آبرو لفظ لفظ اس نعت کا، صفتِ جلی کا ہو گیا پیش ہے اظہارؔ یہ نذرانہٴ نعتِ حضورؐ اب ثنا لکھنا وظیفہ بندگی کا ہو گیا
وہ اپنے قلم کی جولانی کو ذاتی کمال کے بجائے صرف عطائے مصطفیٰ ﷺ قرار دیتے ہیں: قلم جو لکھ رہا ہے اب کرم نبیؐ کا ہے یہ سب شرف ملا ہے یہ اسے نبیؐ کی پاک نعت میں (ب) توحیدی حدود اور فیضانِ محمدیؐ کا فکری توازن ڈاکٹر اظہار کے کلام میں شرک و غلو سے پاک توحیدی حدود کا مکمل احترام ملتا ہے، جبکہ ساتھ ہی ذاتِ رسالت مآب ﷺ کو کائنات کی تمام تر روشنی اور عرفان کا مرکز تسلیم کیا گیا ہے: ہر چیز ہے وابستہ دامانِ محمدؐ سے خورشید فروزاں ہے فیضانِ محمدؐ سے عرفانِ خداوندی عرفانِ محمدؐ ہے ملتا ہے خدا ہم کو عرفانِ محمدؐ سے قاسم ہیں میرے آقاؐ اللہ کی نعمتوں کے مل جاتی ہے ہر نعمت فیضانِ محمدؐ سے قرآنِ الٰہی تو اک نعتِ مسلسل ہے تحمید ملے ہم کو قرآنِ محمدؐ سے شاعر نے قرآنِ مجید کو "نعتِ مسلسل" قرار دے کر مدحت نگاری کو ایک اعلیٰ فکری اور قدسی تناظر عطا کیا ہے۔ (ج) سیرتِ طیبہ کے اخلاقی و انسانی پہلو ڈاکٹر صاحب کی نعت روایتی القابات تک محدود نہیں، بلکہ اس میں سیرتِ پاک ﷺ کی عالمگیر رحمانیت اور اجتماعی فلاحی تعلیمات کی عکاسی ہوتی ہے: یتیموں، بے نواؤں اور بیواؤں کی خاطر ہی ہے ہستی آپؐ کی بے حد مہرباں، یا رسول اللہ معاشرتی اندھیروں اور ناانصافیوں کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: تیرہ و تاریک دنیا کو ضیا ملنے لگی مٹ گئے ہیں دہر سے جور و جفا، رنج و ستم ان کی چوکھٹ کے گدا بھی تاج ور کہلائے ہیں مل گئے ان کو بھی شاہوں جیسے ہی جاہ و حشم (د) عشقِ رسولؐ، توسل اور شفقتِ حسنینؑ ان کے اشعار میں آقا دو جہاں ﷺ کی محبت کو ہر درد کا مداوا دکھایا گیا ہے: اے عشقِ محمدؐ تو ایمانِ محبت ہے ہر درد کی بستی میں سامانِ محبت ہے خورشیدِ رسالت سے روشن ہے جہاں سارا یہ چاند ستارے سب فیضانِ محبت ہے وہ شہرِ مدینہ تو سلطانِ محبت ہے اسی طرح، اہل بیتِ اطہار خصوصاً حسنین کریمینؑ کی محبت کے توسل سے شفاعت کی امید کا خوبصورت اظہار ملاحظہ کیجیے: ان کے در کی چاکری ہے اصل میں شاہی میری بھر گیا دامن مرا اس خسروِ کونین سے غم زمانے کے مجھے اب چھو نہیں سکتے کبھی باندھ لی امید میں نے شافعِ دارین سے موجِ کوثر کا ملے گا جام محشر میں مجھے کیونکہ مجھ کو پیار ہے سرکار کے حسنینؑ سے (ہ) عروضی پختگی، ترنم اور اسلوبیاتی جمالیات شاعرانہ نقطہ نظر سے "اظہارِ نعت" کا کلام کلاسیکی غزل کی فارم میں ڈھلا ہوا ہے لیکن اس کا مزاج خالصتاً نعتیہ ہے۔ ردیفوں کی ترنم ریزی: "کا ہو گیا"، "دامانِ محمدؐ سے"، "سامانِ محبت ہے"، "خسروِ کونین سے"، اور "یا رسول اللہ" جیسے مترنم ردیفوں نے اشعار میں غنائیت پیدا کی ہے۔ بحروں کا انتخاب: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار صاحب نے چھوٹی اور درمیانی بحریں (مثلاً بحرِ ہزج اور بحرِ رمل) استعمال کی ہیں، جس سے کلام میں روانی اور سادگی برقرار رہتی ہے۔ سلاست و زبان: پیچیدہ اور گرانبار تراکیب کے بجائے ایسی زبان استعمال کی گئی ہے جو عام پڑھنے والے کے دل میں سیدھی اتر جاتی ہے۔ ۷۔ حاصلِ کلام اور مجموعی قدر و قیمت پروفیسر ریاض احمد قادری کا یہ تجزیہ سو فیصد مبنی بر حقیقت ہے کہ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار "فیصل آباد کی ادبی تاریخ کے امین" ہیں۔ ان کی ذات میں: ایک محقق کی متانت اور سائنسی باریک بینی، ایک تاریخ دان کی پاسبانی جو اپنے خطے کے ادبی اثاثے کو ضائع ہونے سے بچاتی ہے، ایک پنجابی تخلیق کار کا لوک لمس اور ثقافتی گہرائی، اور ایک عاشقِ رسول ﷺ کا سوزِ دروں اور نعت کا خلوص یکجا ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کے دامن کو اپنی تحریروں سے مالا مال کیا ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری "اظہارِ نعت" نہ صرف ان کی ادبی آبرو ہے بلکہ دنیا و آخرت میں ان کی سرخروئی کا سبب بھی ہے: عشقِ احمد میں جو ڈوبے، وہ ہی ٹھہرے سرخرو نعتِ آقا سے ملے اظہار کو دل کا بھرم ان کا وجود فیصل آباد کے ادبی افق ہی نہیں بلکہ پوری اردو و پنجابی دنیا کے لیے ایک موقر، محترم اور معتبر علمی اثاثہ ہے۔ |
|