عقل و قلب، علم و ادراک، مخلوقی حدود اور حقیقتِ مطلقہ کا باہمی تعلق: ایک تجزیہ تحریر ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا

عقل و قلب، علم و ادراک، مخلوقی حدود اور حقیقتِ مطلقہ کا باہمی تعلق: ایک تجزیہ
تحریر ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا
جیسا کہ اہل ِ علم و ادب اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کسی بھی تحریرکا کوئی نہ کوئی محرک ضرور ہوتا ہے۔ چنانچہ ذیل میں لکھا گیا کالم بھی ایک رفیقِ ادب کے تبصرے کے جواب میں رقم کیا گیا ہے۔
جنابِ سالک حمید خواجہ صاحب، حکیم الامت علامہ اقبالؒ کی نظم ’’ایک فلسفہ زدہ سیدزادے کے نام‘‘ پر لکھے گئے میرے مضمون بشمولہ’’ ہماری ویب‘‘ کراچی، پاکستان ‘‘ پرآپ کا محبت، خلوص اور عمیق فکری بصیرت سے لبریز تبصرہ موصول ہوا۔ افضل رضوی کا سلام، دعائیں اور دلی تشکّر قبول فرمائیے۔
آپ نے جس وسعتِ نظر اور گہرائی کے ساتھ عقل و قلب، علم و ادراک، محسوس و نامحسوس، مخلوقی حدود اور حقیقتِ مطلقہ کے باہمی تعلق کو زیرِ بحث لایا ہے، وہ محض ایک تبصرے کا موضوع نہیں بلکہ اپنے اندر ایک مستقل فکری مکالمے کی وسعت رکھتا ہے۔ خصوصاً آپ کا یہ بنیادی سوال کہ::
کیا مخلوقی عقل اپنے ہی وضع کردہ پیمانوں کے ذریعے حقیقتِ مطلقہ کا احاطہ کر سکتی ہے؟ نہایت اہم اور غور طلب ہے۔
میرے نزدیک اقبال کی فکر کا ایک بنیادی امتیاز یہی ہے کہ وہ عقل کی نفی نہیں کرتے، بلکہ اسے اس کے جائز دائرۂ کار، امکانات اور حدود کا شعور عطا کرتے ہیں۔ عقل تحقیق، ترتیب، تجزیے، استدلال اور امتیاز کا نہایت عظیم وسیلہ ہے؛ لیکن جب وہ اپنے محدود دائرۂ کار کو ہی کل حقیقت سمجھ بیٹھتی ہے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ اقبال اسی مقام پر عقل کو قلب، عشق، وجدان اور روحانی تجربے کے ساتھ انسانی ادراک کے ایک وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہیں۔
آپ نے بالکل بجا طور پر اس نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ خالق کو مخلوق کے پیمانوں پر پرکھنا ہی بنیادی مغالطہ ہے۔ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے:
لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ[اس جیسی کوئی چیز نہیں۔]
یہ مختصر مگر عظیم الشان قرآنی اصول صرف توحید و تنزیہ کی بنیاد نہیں بلکہ انسانی ادراک کی ایک بنیادی حد بھی متعین کرتا ہے۔ ہم خدا کو اس کے آثار، صفات اور وحی کے ذریعے جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں، مگر اپنی مخلوقی حسیات، تشبیہات اور ذہنی سانچوں کو ذاتِ باری تعالیٰ پر منطبق نہیں کر سکتے۔
یہ مختصر مگر عظیم الشان قرآنی اصول انسانی ادراک کی ایک بنیادی حد بھی متعین کرتا ہے: ہم خدا کو اس کے آثار، صفات اور وحی کے ذریعے جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں، مگر اپنی مخلوقی حسیات، تشبیہات اور ذہنی سانچوں کو ذاتِ باری تعالیٰ پر منطبق نہیں کر سکتے۔
اسی لیے آپ کا سی پی یو اورمیٹریکس والا استعارہ بھی نہایت دلچسپ ہے۔ انسانی ذہن عموماً اپنے تجربے کی حدود سے باہر کسی حقیقت کا تصور بھی اپنے معلوم سانچوں کے ذریعے ہی کرتا ہے۔ چنانچہ وہ لامحدود کو محدود، بے مثال کو مثالی، اور ماورائے حس حقیقت کو حسی پیکر میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار انسان کو اس کے ادراکی حدود کا احساس دلاتا ہے۔
البتہ یہاں ایک باریک فرق بھی ملحوظ رہنا چاہیے۔ خدا کو انسانی پیکر میں پرسونیفائی کرنا اور خدا کی صفات کو انسانی فہم کے قریب لانے کے لیے تمثیلی زبان استعمال کرنا ایک ہی چیز نہیں۔ وحی بھی انسان سے اس کی اپنی زبان میں مخاطب ہوتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ الٰہی حقیقت انسانی تصور کے برابر آ جاتی ہے۔ یہی مقام ہے جہاں تنزیہ اور تشبیہ کے درمیان انتہائی نازک توازن پیدا ہوتا ہے۔
آپ نے علامہ اقبال کے جن اشعار کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ اسی فکری کشمکش کی مختلف جہتیں سامنے لاتے ہیں:

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے
اور
مقامِ عقل سے آساں گزر گیا اقبال
مقامِ شوق میں کھویا گیا وہ فرزانہ
یہاں علامہ اقبال عقل کو بے کار قرار نہیں دے رہے؛ بلکہ اسے چراغِ راہ قرار دے کر یہ بتا رہے ہیں کہ چراغ راستہ دکھاتا ہے، خود منزل نہیں بن جاتا۔ عقل انسانی سفر کی عظیم رہنما ہے، مگر حقیقتِ مطلقہ کا احاطہ اس کی ذمہ داری نہیں۔
اسی طرح آپ کا یہ نکتہ بھی نہایت اہم ہے کہ علمِ انسانی مسلسل تغیر پذیر ہے، جب کہ وحی کا سرچشمہ انسانی علم کی طرح تجرباتی ارتقا کا محتاج نہیں۔ مخلوقی علم اپنے سوالات، مفروضات، شواہد اور تعبیرات کے ساتھ مسلسل تصحیح پذیر رہتا ہے؛ جبکہ وحی انسان کے لیے ایک ایسے میزان کی حیثیت رکھتی ہے جس کے سامنے انسانی علم اپنی نسبت، اپنی حدود اور اپنی عارضیت کو پہچان سکتا ہے۔
شاید اسی لیے علامہ اقبال کے ہاں عقل اور عشق کی کشمکش دراصل عقل اور حقیقت کی کشمکش نہیں، بلکہ محدود ادراک اور وسیع تر حقیقت کے درمیان انسانی سفر کی داستان ہے۔ قلب بھی عقل کا دشمن نہیں؛ بلکہ علامہ اقبال کے تصور میں وہ ادراک کی ایک ایسی جہت ہے جو انسان کو محض منطقی استدلال سے آگے لے جاتی ہے۔ یہاں ’’آگے‘‘ سے مراد عقل کو ترک کرنا نہیں بلکہ عقل کی حدود کو پہچان کر ادراک کے وسیع تر امکانات کی طرف بڑھنا ہے۔
آپ کے اس خوب صورت فکری مکالمے نے میرے لیے بھی کئی نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ یہی تو زندہ علمی گفتگو کی اصل خوبی ہے کہ ایک تحریر ختم ہونے کے بجائے دوسری تحریر کو جنم دیتی ہے، ایک سوال دوسرے سوال کا دروازہ کھولتا ہے، اور ایک ذہن دوسرے ذہن کو مزید غور و فکر پر آمادہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے تبصرے نےمجھے اس مقام پر ابنِ عربی، امام غزالی، مولانا روم اور علامہ اقبال کی فکری روایت کو ایک تسلسل میں دیکھنے پر بھی آمادہ کیا ہے۔
ابنِ عربی کے ہاں حقیقتِ مطلقہ انسانی تصورات میں مقید نہیں ہو سکتی۔ انسان حق کو اپنے ادراکی ظرف اور اپنی استعداد کے مطابق پہچانتا ہے؛ لیکن حق تعالیٰ کسی ایک تصور، تعریف یا ذہنی صورت میں محصور نہیں ہوتا۔ یہاں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے کہ : معرفت اور احاطۂ حقیقت ایک چیز نہیں۔
انسان حقیقت کو جاننے کی کوشش کر سکتا ہے، اس کی معرفت حاصل کر سکتا ہے، اس کے آثار میں اسے پہچان سکتا ہے، مگر اپنی مخلوقی استعداد کے ذریعے حقیقتِ مطلقہ کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتا۔ اس معنی میں معرفت انسان کو صرف حقیقت کا شعور نہیں دیتی بلکہ اپنی محدودیت کا شعور بھی عطا کرتی ہے۔
امام غزالی کے فکری سفر میں بھی محض عقلی استدلال کو انسانی معرفت کی آخری منزل نہیں سمجھا جاتا۔ عقل ایک عظیم نعمت ہے، مگر ادراک کی ایک ایسی باطنی جہت بھی ہے جسے قلب سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ منطقی یقین اور روحانی یقین کے درمیان فرق یہاں نمایاں ہوتا ہے۔
محض یہ جان لینا کہ روشنی موجود ہے اور حقیقتاً اس روشنی میں دیکھنا، دو مختلف تجربات ہیں۔ اسی طرح کسی حقیقت کے بارے میں معلومات رکھنا اور اس حقیقت کو معرفت کے زندہ تجربے میں محسوس کرنا یکساں نہیں۔ عقل دلیل فراہم کرتی ہے، مگر قلب اس دلیل کو ایک زندہ باطنی شعور میں تبدیل کر سکتا ہے۔
مولانا روم اسی تصور کو مزید جمالیاتی، شعری اور عاشقانہ زبان عطا کرتے ہیں۔ ان کے ہاں عقل اور عشق محض دو متضاد قوتیں نہیں؛ بلکہ عقل کی ایک محدود سطح کے مقابلے میں عشق ادراک کی ایک وسیع تر قوت بن کر سامنے آتا ہے۔ عشق انسان کو اس کے محدود ’’میں‘‘ سے نکال کر ایک وسیع تر وجودی شعور کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی لیے رومی کے ہاں عشق محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ معرفت کا راستہ اور وجودی ٹرانسفارمیشن کی قوت ہے۔ عقل سوال اٹھاتی ہے، عشق انسان کو سفر پر آمادہ کرتا ہے، اور قلب اس سفر کی داخلی حقیقت کو محسوس کرتا ہے۔
یہی فکری دھارا علامہ اقبال کے ہاں ایک جدید، متحرک اور تخلیقی فلسفے میں تبدیل ہوتا ہے۔ علامہ اقبال عقل کے مخالف نہیں؛ وہ اس عقل کے مخالف ہیں جو اپنے محدود دائرۂ کار کو حقیقتِ مطلقہ کا آخری معیار سمجھنے لگے۔ ان کے ہاں:عقل چراغ ہے، مگر منزل نہیں؛ علم ضروری ہے، مگر کافی نہیں؛فکر اہم ہے، مگر عشق کے بغیر اس میں وہ حرارت نہیں جو انسان کو حرکت، تخلیق اور خود شناسی کی طرف لے جائے۔
علامہ اقبال کے تصورِ خودی میں بھی یہی نکتہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ خودی کوئی خود مختار مطلق وجود نہیں بلکہ ایک ایسا زندہ شعور ہے جو اپنی حقیقت کو پہچانتے ہوئے اپنے خالق کے ساتھ اپنے تعلق کو گہرا کرتا ہے۔
اس لیےعلامہ اقبال کا عشق انسان کو حقیقت سے غافل نہیں کرتا بلکہ اسے حقیقت کے زیادہ قریب لے جانے والی قوت بن سکتا ہے۔ عشق، عقل کی نفی نہیں بلکہ عقل کی تکمیل بن سکتا ہے، بشرطیکہ عشق قرآن وحدیث، اخلاقی شعور اور ذمہ داری سے منقطع نہ ہو۔
اس لیے قلب کو بھی محض جذبات کا مرکز سمجھنا شاید درست نہ ہوگا۔ صوفیانہ اور اقبالیاتی روایت میں قلب ایک ایسی باطنی صلاحیت ہے جس کے ذریعے انسان حقیقت کو صرف ’’موضوعِ علم‘‘ کے طور پر نہیں بلکہ معنی اور تجربۂ وجود کے طور پر محسوس کرتا ہے۔ یوں ایک ممکنہ فکری ترتیب یوں سامنے آتی ہے:
عقل → سوال، استدلال اور امتیاز
قلب → باطنی ادراک اور شعور
عشق → طلب، حرکت اور قرب
قرآن → میزان، ہدایت اور معیار
حقیقتِ مطلقہ → انسانی احاطے سے ماورا آخری حقیقت
اس ترتیب میں عقل کو معزول نہیں کیا جاتا، قلب کو عقل کا دشمن نہیں بنایا جاتا، عشق کو محض جذباتی کیفیت نہیں سمجھا جاتا، اورعلوم دینیہ کو انسانی علم کی محض ایک قسم قرار نہیں دیا جاتا؛ بلکہ ہر ایک کو اس کے مخصوص مقام پر رکھا جاتا ہے۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ابنِ عربی، غزالی، رومی اورعلامہ اقبال کے درمیان ایک گہرا فکری مکالمہ قائم ہوتا ہے
شیخ الاکبر محی الدین ابنِ عربی ہمیں حقیقت کے عدمِ احاطہ کا شعور دیتے ہیں؛غزالی عقل سے قلب کی طرف معرفت کے سفر کو واضح کرتے ہیں؛رومی عشق کو اس سفر کی روح بنا دیتے ہیں؛اورعلامہ اقبال اسی روایت کو خودی، عمل، تخلیق اور انسانی ارتقا کے جدید فلسفے میں ڈھال دیتے ہیں۔
اس تناظر میں علامہ اقبال کا ’’عقل سے آگے‘‘ جانے کا تصور عقل کو ترک کرنا نہیں بلکہ عقل کی حد کو پہچان کر ادراک کے وسیع تر امکانات کی طرف بڑھنا ہے۔ عقل اگر خود کو مطلق سمجھ لے تو حجاب بن سکتی ہے؛ لیکن اگر اپنی حدود کو پہچان لے تو وہ خود انسان کو اس مقام تک پہنچا سکتی ہے جہاں قلب بیدار ہوتا ہے، عشق حرکت پیدا کرتا ہے اور روحانیت سمت متعین کرتی ہے۔ اور شاید حقیقتِ مطلقہ کے بارے میں سب سے گہرا علمی رویہ یہی ہے کہ انسان جاننے کی کوشش بھی کرے اور اپنی نادانی کا شعور بھی برقرار رکھے۔کیونکہ حقیقت کے سامنے کامل انکسار جہالت کی علامت نہیں؛ بلکہ معرفت کی اعلیٰ ترین صورتوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔اسی نکتے پر پہنچ کر علامہ اقبال کا فکری سفر محض فلسفۂ عقل یا فلسفۂ عشق نہیں رہتا بلکہ انسان، خدا، کائنات اور معرفت کے درمیان ایک زندہ روحانی و فکری مکالمہ بن جاتا ہے۔
المختصر جناب سالک صاحب آپ نے اپنے خیالات کو میری توجہ کی نذر فرمایا؛ حقیقت یہ ہے کہ ایسے مخلص اور صاحبِ فکر احباب کے سوالات اور تبصرے خود استاد کے لیے بھی فکری مراجعت اور احتساب کا ذریعہ بنتے ہیں۔ آپ کا یہ محبت بھرا علمی تحفہ میرے لیے باعثِ مسرت بھی ہے اور باعثِ تفکر بھی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عقل کی روشنی، قلب کی بصیرت، عشق کی حرارت اورقرآن کی رہنمائی کے ساتھ حقیقت کی جستجو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آپ کی محبت، خلوص اور فکری رفاقت کا تہہِ دل سے شکریہ۔
دعاگو و خیراندیش،
ڈاکٹر افضل رضوی
آسٹریلیا
Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 181 Articles with 260515 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More