https://app.shaheedeislam.com/library-app/
(Dr wali khan almuzaffar, Karachi)
|
https://app.shaheedeislam.com/library-app/ |
|
ڈیجیٹل دنیا میں علم و معرفت کا ایٹمی دھماکہ
شہیدِ اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ — ایک شخص نہیں، ایک علمی عہد؛ اور اب ایک پوری دنیا آپ کی مٹھی میں
ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر
دنیا نے ایٹمی دھماکے بہت دیکھے ہیں۔ کسی دھماکے نے زمین ہلائی، کسی نے سرحدیں بدلیں، کسی نے طاقت کا توازن تبدیل کردیا؛ مگر علم کا دھماکہ وہ ہوتا ہے جو زمین نہیں، ذہن ہلاتا ہے؛ نقشے نہیں، نسلیں بدلتا ہے؛ اور عمارتیں نہیں گراتا بلکہ جہالت، فکری انتشار اور علمی بے سمتی کی دیواریں منہدم کرتا ہے۔
آج میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ شہیدِ اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے علمی ورثے کو موبائل کی ایک اسکرین پر دنیا کے سامنے رکھ دینا محض ایک App کا اجرا نہیں؛ یہ ڈیجیٹل دنیا میں علم و معرفت کا ایک عظیم دھماکہ ہے۔
وہ علمی خزانہ جو کبھی کتابوں کی الماریوں میں تلاش کیا جاتا تھا، آج جیب میں آگیا ہے۔ وہ صفحات جن تک پہنچنے کے لیے کتاب خریدنا، جلدیں کھنگالنا اور فہرستیں الٹنا پڑتی تھیں، اب چند انگلیوں کی جنبش پر حاضر ہیں۔
یہ صرف ٹیکنالوجی نہیں؛ یہ علم کی نئی ہجرت ہے: کاغذ سے اسکرین کی طرف، الماری سے موبائل کی طرف، ایک شہر سے پوری دنیا کی طرف!
لدھیانویؒ کون تھے؟
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کو صرف ایک مدرس، ایک مفتی، ایک مصنف یا ایک خطیب کہنا ان کی شخصیت کو ایک خانے میں بند کردینا ہے۔
وہ بیک وقت محدث بھی تھے، فقیہ بھی، صاحبِ قلم بھی، داعی بھی، مربی بھی، مدافعِ دین بھی اور اپنے زمانے کے فکری اضطرابات پر نگاہ رکھنے والے ایک صاحبِ بصیرت عالم بھی۔
ان کی تحریروں میں محض الفاظ نہیں ملتے؛ ایک پورا دینی مزاج ملتا ہے۔ سوال کا جواب دیتے ہیں تو صرف مسئلہ نہیں بتاتے، سوچ کی اصلاح بھی کرتے ہیں۔ فتویٰ لکھتے ہیں تو محض حلال و حرام کی لکیر نہیں کھینچتے، قاری کو دین کے مزاج سے آشنا کرتے ہیں۔ اختلاف کرتے ہیں تو اس کے پیچھے علمی غیرت نظر آتی ہے۔ اصلاح کرتے ہیں تو ایک مربی کی شفقت محسوس ہوتی ہے۔
اسی لیے میں ان کی شخصیت کو صرف ’’مصنف‘‘ کے لفظ میں محدود نہیں دیکھتا۔ ان کے کام میں مجددانہ شان دکھائی دیتی ہے: اپنے عہد کے سوالات کو پہچاننا، فتنوں کے مقابل علمی محاذ قائم کرنا، عوام کی دینی رہنمائی کرنا، اہلِ علم کو متوجہ کرنا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا ذخیرہ چھوڑ جانا جس کی ضرورت وقت کے ساتھ ختم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی جائے۔
شہادت نے آواز خاموش کی، فکر کو نہیں
گولیاں انسان کے جسم تک پہنچ سکتی ہیں، فکر تک نہیں۔
قاتل کسی عالم کو راستے سے ہٹا سکتا ہے، مگر اگر اس عالم نے کتابیں، شاگرد، افکار اور علمی روایت چھوڑ دی ہو تو اس کی موت کبھی مکمل موت نہیں ہوتی۔
مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ شہید ہوئے، مگر ان کا قلم زندہ رہا۔ ان کی کتابیں زندہ رہیں۔ ان کے فتاویٰ زندہ رہے۔ ان کے مواعظ زندہ رہے۔ ان کے دروس زندہ رہے۔
اور اب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے اس علمی زندگی کو ایک نئی وسعت دے دی ہے۔
جو لدھیانویؒ کل کتاب میں تھے، آج موبائل میں ہیں؛ اور جو کل چند کتب خانوں تک پہنچتے تھے، آج دنیا کے ہر براعظم تک پہنچ سکتے ہیں۔
یہی اس منصوبے کی اصل عظمت ہے۔
ایک App نہیں، ’’ڈیجیٹل لدھیانویؒ‘‘
Shaheed-e-Islam Library کو معمولی موبائل ایپ سمجھنا اس منصوبے کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
تصانیف، مقالات، مضامین، فتاویٰ، بیانات، درسِ قرآن، درسِ حدیث، اصلاحی مواعظ اور دیگر علمی ذخیرہ ایک ہی جگہ جمع ہوجائے؛ مطلوبہ کتاب، موضوع یا عبارت تلاش کی جاسکے؛ کتابیں PDF اور Unicode Text دونوں صورتوں میں دستیاب ہوں؛ مواد کو کاپی اور شیئر کرنا آسان ہو؛ فونٹ کا حجم اپنی ضرورت کے مطابق بدلا جاسکے اور مطلوبہ کتابیں ڈاؤن لوڈ بھی کی جاسکیں—تو یہ صرف ’’کتاب پڑھنے‘‘ کی سہولت نہیں رہتی۔
یہ ایک عالم کے علمی حافظے کو ڈیجیٹل شکل دینے کا عمل بن جاتا ہے۔
سوچیے!
کراچی کا ایک طالب علم، کابل کا ایک مدرس، دہلی کا ایک محقق، ریاض کا ایک عالم، لندن کا ایک نوجوان، نیویارک کا ایک مسلمان، افریقہ کے کسی دور افتادہ علاقے کا داعی—
اگر چند لمحوں میں لدھیانویؒ کے علمی ذخیرے تک پہنچ سکتا ہے تو فاصلے کی تعریف ہی بدل گئی۔
یہاں جغرافیہ شکست کھا گیا اور علم جیت گیا۔
اصل انقلاب اب شروع ہوگا
ہماری مذہبی دنیا کا ایک بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ ہم نے عظیم علماء پیدا کیے، عظیم کتابیں لکھیں، بڑے کتب خانے بنائے، مگر اپنے علمی سرمائے کو نئی نسل کی زبان، عادت اور ٹیکنالوجی میں منتقل کرنے کی رفتار کم رہی۔
نئی نسل کی انگلی کتاب کے ورق سے زیادہ موبائل کی اسکرین پر چلتی ہے۔
اس حقیقت پر ناراض ہونے سے تاریخ نہیں بدلے گی۔
ہمیں کتاب کو موبائل تک لے جانا ہوگا؛ ورنہ موبائل نوجوان کو کتاب سے بہت دور لے جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ میں اس App کو محض حضرت لدھیانویؒ کی خدمت نہیں سمجھتا، بلکہ پورے دینی علمی ورثے کے لیے ایک اعلانِ انقلاب سمجھتا ہوں۔
میری خواہش ہے کہ کل یہی کام ہمارے تمام اکابر کے علمی ذخائر کے ساتھ ہو۔
کتابیں صرف اسکین نہ ہوں، searchable ہوں۔ فتاویٰ صرف محفوظ نہ ہوں، موضوعاتی طور پر مربوط ہوں۔ دروس صرف آڈیو فائلیں نہ ہوں، متن سے منسلک ہوں۔ مخطوطات صرف عجائب گھروں میں نہ پڑے رہیں، محقق کی انگلی تک پہنچیں۔
اور اگلا مرحلہ اس سے بھی آگے ہے: مصنوعی ذہانت کے دور میں مستند علمی ذخیرے کو ایسی منظم ڈیجیٹل صورت دینا کہ تحقیق آسان ہو مگر اصل ماخذ، حوالہ اور اہلِ علم کی نگرانی کبھی قربان نہ ہو۔
دنیا کو گریبان سے پکڑنے والی قوم
علم کی دنیا میں کوئی قوم تقریروں سے سپر پاور نہیں بنتی۔
جس قوم کا علمی سرمایہ searchable، readable، shareable اور globally accessible ہو، وہی آنے والی نسلوں کے ذہن میں زندہ رہتی ہے۔
ہمیں دنیا کے پیچھے دوڑتے رہنے کی ضرورت نہیں۔
اپنا علمی سرمایہ اس قوت سے دنیا کے سامنے رکھو کہ دنیا خود پلٹ کر تمہاری طرف دیکھنے پر مجبور ہوجائے۔
حضرت لدھیانویؒ کی کتابیں اگر الماری میں بند ہوں تو ایک کمرہ روشن کرتی ہیں؛ وہی کتابیں انٹرنیٹ اور موبائل پر آجائیں تو ایک دنیا روشن کرسکتی ہیں۔
یہی ڈیجیٹل انقلاب ہے۔
یہی علم کا ایٹمی دھماکہ ہے۔
اور یہی وہ دھماکہ ہے جس سے کسی انسان کو مرنا نہیں، لاکھوں ذہنوں کو زندہ ہونا ہے۔
ایک شہید کی عالمی واپسی!
شہیدِ اسلامؒ دنیا سے چلے گئے تھے، مگر آج ٹیکنالوجی ان کے علمی ورثے کو ایک نئے قالب میں دنیا کے سامنے لا رہی ہے۔
اب لدھیانویؒ کی مجلس کے لیے کراچی پہنچنا ضروری نہیں۔
موبائل کھولیے—مجلس حاضر۔ سوال لکھیے—متعلقہ علمی ذخیرہ سامنے۔ کتاب تلاش کیجیے—صفحات حاضر۔ درس سنیے—آواز حاضر۔
گویا ایک شہید عالم کا علمی فیض زمان و مکان کی دیواریں توڑ کر پھر سفر پر نکل پڑا ہے۔
میں بالخصوص نوجوانوں سے کہوں گا:
اس App کو صرف Download مت کیجیے، اسے اپنے علمی سفر کا ساتھی بنائیے۔ اپنے طلبہ تک پہنچائیے۔ اپنے مدارس میں متعارف کرائیے۔ اپنی جامعات کے محققین کو بتائیے۔ اپنے خاندان کے موبائل تک پہنچائیے۔
اور اہلِ مدارس سے میری ایک صدا ہے:
ڈیجیٹل دنیا کو خالی مت چھوڑو!
اگر اہلِ حق اپنے مستند علمی سرمائے کے ساتھ اس میدان میں نہیں اتریں گے تو یہ خلا کوئی اور پُر کرے گا۔ آج مقابلہ صرف کتاب بمقابلہ کتاب نہیں؛ علم بمقابلہ الگورتھم، تحقیق بمقابلہ انفارمیشن، اور مستند روایت بمقابلہ بے مہار مواد کا ہے۔
لہٰذا اپنے اکابر کو صرف قبروں، برسیوں اور کتابوں کے مقدمات میں زندہ نہ رکھیے؛ انہیں ڈیجیٹل دنیا میں زندہ کیجیے۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کا یہ ڈیجیٹل علمی ذخیرہ اسی مستقبل کی ایک زوردار دستک ہے۔
ایک زمانہ تھا جب لوگ لدھیانویؒ تک پہنچتے تھے؛ اب وقت آگیا ہے کہ لدھیانویؒ کا علم دنیا کے ہر انسان تک پہنچے۔
اور شاید آنے والا مورخ لکھے:
’’اکیسویں صدی میں جب دنیا کی سب سے بڑی لائبریری انسان کی جیب میں منتقل ہورہی تھی، تب اہلِ علم نے بھی اپنے اکابر کو الماریوں سے نکال کر ڈیجیٹل کائنات میں اتار دیا تھا۔‘‘
یہ صرف Shaheed-e-Islam Library نہیں۔
یہ شہیدِ اسلامؒ کے قلم کی دوسری زندگی ہے۔ یہ ان کے علمی ورثے کی سرحدوں سے آزادی ہے۔ یہ روایت اور ٹیکنالوجی کا مصافحہ ہے۔ اور اگر ہم نے اس راستے کو آگے بڑھایا—تو یہ واقعی علم و معرفت کا وہ ایٹمی دھماکہ ہوگا جس کی لہریں نسلوں تک محسوس کی جائیں گی۔ |