صحرا میں بوئے درخت، دوستی کی نئی بہار

صحرا میں بوئے درخت، دوستی کی نئی بہار
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

کبھی ایک دور دراز ملک میں نشر ہونے والی ایک خبر نے ایک استاد کے دل کو چھو لیا۔ خبر چین کے ایک ایسے جوڑے کی تھی جو بنجر زمین پر درخت لگا کر صحرا کو سبز بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ دو دہائیاں گزر گئیں، درخت تناور ہو گئے اور وقت نے بہت کچھ بدل دیا، مگر اس مختصر ملاقات سے جنم لینے والی دوستی قائم رہی۔ اب یہ دوستی ایک بار پھر آمنے سامنے آنے کی صورت میں نئی زندگی حاصل کر رہی ہے۔

69 سالہ ریٹائرڈ امریکی استاد رونالڈ ساکولسکی حالیہ دنوں چین پہنچے، جہاں ان کا مقصد دو دہائیوں سے زیادہ عرصے قبل قائم ہونے والی دوستی کو دوبارہ تازہ کرنا تھا۔ ان کے دورے کا ایک اہم حصہ پودے لگانے میں گزرا، جہاں وہ اپنی چینی دوست ین یوجن کے ساتھ شجرکاری میں شریک ہوئے، جو گزشتہ چار دہائیوں سے صحرائی علاقے کو سرسبز بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یہ کہانی 1999 میں شروع ہوئی، جب ساکولسکی دونوں ملکوں کے درمیان اساتذہ کے تبادلے کے ایک پروگرام کے تحت چین کے وسطی علاقے میں ایک اسکول میں انگریزی پڑھا رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے ٹیلی ویژن پر ایک رپورٹ دیکھی جس میں ین یوجن کی بنجر زمین پر شجرکاری کی مسلسل کوششوں کو دکھایا گیا تھا۔

یہ منظر انہیں اس قدر متاثر کر گیا کہ انہوں نے ین اور ان کے شوہر کی شجرکاری مہم میں مدد کے لیے پانچ ہزار امریکی ڈالر جمع کیے۔ اس وقت یہ رقم بہت بڑی سمجھی جاتی تھی۔ اس سے نہ صرف درخت لگانے کا کام آگے بڑھا بلکہ خاندان کے لیے گھر بنانے اور بچوں کی پرورش کے اخراجات پورے کرنے میں بھی مدد ملی، جس سے ان کی زندگی کا رخ بدل گیا۔اس رقم سے خریدے اور لگائے گئے پودے وقت کے ساتھ بڑھتے گئے۔ جو پودے کبھی صحرا کی ریت میں چھوٹے چھوٹے سبز نقطوں کی طرح دکھائی دیتے تھے، وہ برسوں کی محنت کے بعد ایک ایسے جنگل میں تبدیل ہو گئے جس میں 50 ہزار سے زیادہ بلند درخت شامل ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ دونوں دوست ایک دوسرے سے دور ہو گئے، لیکن ماضی کی وہ یاد ان کے دلوں میں موجود رہی۔ رواں سال مئی میں ین یوجن نے انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے اس امریکی دوست کو تلاش کرنے کی کوشش کی جس نے برسوں پہلے ان کی شجرکاری مہم میں مدد کی تھی۔ تلاش رنگ لائی اور 18 مئی کو دونوں نے ویڈیو رابطے کے ذریعے ایک دوسرے کو دوبارہ دیکھا۔یہ ملاقات بھی جذبات سے بھرپور تھی۔ ین یوجن نے کئی مرتبہ مشق کرنے کے بعد ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اپنے دوست کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے بھائی ہیں۔ برسوں کے فاصلے کے باوجود اس مختصر جملے نے پرانی دوستی کی گرمجوشی کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

چین پہنچنے کے بعد ساکولسکی نے اپنے سابق ساتھیوں اور طلبہ سے ملنے، اس اسکول کو دوبارہ دیکھنے جہاں انہوں نے تدریس کی تھی اور اس جنگل کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی جو ان کی دی ہوئی مدد سے لگائے گئے پودوں سے پروان چڑھا تھا۔

دوست کی آمد کی خبر نے ین یوجن کو بھی بے حد خوش کر دیا۔ انہوں نے اپنے باغ سے تازہ پھل توڑے تاکہ دوست چین پہنچتے ہی صحرا میں پروان چڑھنے والی فصل کا ذائقہ چکھ سکے۔ روایتی چینی مون کیک بھی ملاقات کے لیے بھیجے گئے، جو چینی ثقافت میں خاندان اور دوستوں کے دوبارہ ملنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔


جب ساکولسکی ہوائی اڈے پر پہنچے اور ین یوجن کی نظر ان پر پڑی تو وہ بے اختیار ان کی طرف بڑھیں۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد ہونے والی اس ملاقات میں دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور خوشی کے آنسو بہائے۔ برسوں کا فاصلہ ایک لمحے میں سمٹ گیا۔ساکولسکی نے اس موقع کو ایک خواب کی تعبیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کبھی یقین نہیں تھا کہ وہ دوبارہ اپنی دوست سے مل سکیں گے۔ ان کے بقول، یہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا جو اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ ثقافت اور انسانوں کے درمیان قائم تعلقات وقت گزرنے کے باوجود وعدوں کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔

یہ دورہ صرف ایک پرانی دوستی کی تجدید تک محدود نہیں بلکہ عوامی اور تعلیمی روابط کو فروغ دینے کی ایک مثال بھی بن گیا ہے۔ ایسے انسانی تعلقات دونوں معاشروں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے اور خیرسگالی کی کہانیوں کو نئی نسل تک منتقل کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

اس کہانی کا ایک اور اہم پہلو چین میں کئی دہائیوں سے جاری صحرائی زمینوں کی بحالی کی کوششیں ہیں۔ شجرکاری اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مختلف ادوار میں خصوصی فنڈز، ٹیکس مراعات اور مقامی آبادی کی شرکت کو فروغ دیا گیا۔ اب ان کوششوں میں مقامی کسانوں کے ساتھ ساتھ ماحول دوست رضاکار، نوجوان شہری اور بین الاقوامی طلبہ بھی حصہ لے رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان چین نے دنیا بھر میں سبز نباتات میں ہونے والے اضافے میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ ڈالا، جبکہ اسی عرصے میں تقریباً ایک کروڑ 13 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر صحرائی یا ریت زدہ زمین کی بحالی کی گئی۔

یوں دو دہائیاں پہلے ایک خبر سے متاثر ہو کر شروع ہونے والی دوستی آج صرف دو انسانوں کی ملاقات نہیں رہی۔ اس کے پیچھے صحرا کو سبز بنانے کی ایک طویل جدوجہد، ایک دوسرے ملک کے عام لوگوں کے درمیان قائم اعتماد اور وقت کی آزمائش سے گزرنے والا انسانی تعلق بھی موجود ہے۔ کبھی ریت میں لگایا گیا ایک چھوٹا سا پودا صرف ایک درخت نہیں بنتا، بلکہ برسوں بعد وہ ایک ایسی یاد بن سکتا ہے جو فاصلے اور وقت دونوں کو پیچھے چھوڑ دے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1980 Articles with 1161657 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More