چین کا صنعتی مستقبل

چین کا صنعتی مستقبل
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا بھر میں صنعتیں تیزی سے نئی ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہیں اور چین بھی اس تبدیلی کو وسیع صنعتی پیمانے پر آگے لے جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے لے کر 6جی، نئی توانائی کی گاڑیوں، زیرو کاربن کارخانوں اور انسان نما روبوٹس تک، چین نے آئندہ پانچ برسوں کے لیے ایسے اہداف مقرر کیے ہیں جن کا مقصد صنعت کو زیادہ ذہین، سبز اور جدید بنانا ہے۔

چین نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تقریباً 200 اہم معیارات تیار کر لیے ہیں، جبکہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے عرصے، یعنی 2026 سے 2030 کے دوران، 500 زیرو کاربن کارخانے قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں سے متعلق پالیسیوں کو بھی بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ صنعتی ترقی کے ساتھ ماحول دوست پیداوار اور صارفین کا اعتماد بھی بڑھایا جا سکے۔

چین میں مصنوعی ذہانت اب صرف تجرباتی منصوبوں تک محدود نہیں رہی بلکہ صنعت کی پوری زنجیر میں شامل ہو چکی ہے۔ تحقیق اور ترقی، ڈیزائن، پیداوار، مینوفیکچرنگ، معیار کی جانچ، آپریشن اور دیکھ بھال سمیت مختلف مراحل میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف علاقوں میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی جائزے اور متعلقہ خدمات کے طریقہ کار کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ نئی ٹیکنالوجی کی ترقی ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھے۔

مصنوعی ذہانت کے ساتھ چین کی توجہ اگلی نسل کے مواصلاتی نظام پر بھی مرکوز ہے۔ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران بنیادی 6جی ٹیکنالوجیز کی تحقیق اور آزمائش کو مزید تیز کیا جائے گا۔ 6جی کے تکنیکی تجربات اور معیارات کی تیاری جاری رکھتے ہوئے اس صنعت کی پختگی اور اس سے وابستہ پورے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ مستقبل میں اس کی تجارتی تنصیب کے لیے بنیاد تیار ہو سکے۔

چین کے صنعتی مستقبل میں سبز تبدیلی کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔ آئندہ پانچ برسوں میں 500 زیرو کاربن کارخانے قائم کرنے کا مقصد ایسے عملی نمونے تیار کرنا ہے جنہیں دیگر صنعتی اداروں میں بھی اپنایا جا سکے۔ اس طرح توانائی کے استعمال میں بہتری، کاربن اخراج میں کمی اور صنعتی پیداوار کے درمیان زیادہ مؤثر توازن پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے شعبے میں بھی اگلے مرحلے کی تیاری جاری ہے۔ ذہین اور باہم مربوط نئی توانائی کی گاڑیوں کی اعلیٰ معیار کی ترقی پر زور دیا جائے گا، جبکہ گاڑیوں کے معیار، خودکار ڈرائیونگ کی حفاظت اور قابل اعتماد کارکردگی کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔ انشورنس سے متعلق پالیسیوں کو بہتر بنانے اور گاڑیوں کی دیکھ بھال کے اخراجات کم کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی تاکہ صارفین نئی توانائی کی گاڑی خریدنے اور استعمال کرنے میں زیادہ اعتماد محسوس کریں۔

اس پورے صنعتی سفر کے پیچھے مضبوط کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ رواں سال جون کے اختتام تک چین کی ذہین کمپیوٹنگ صلاحیت 2 ہزار 185 ای فلاپس تک پہنچ چکی تھی، جبکہ کمپیوٹنگ پاور کے بڑے مراکز کے گرد 70 سے زیادہ اہم کمپیوٹنگ کوریڈور قائم کیے جا چکے تھے۔ ای فلاپس کمپیوٹنگ کارکردگی کی پیمائش کی ایک اکائی ہے ۔

چین کے اوپن سورس لارج اے آئی ماڈلز نے بھی نئی پیش رفت کی ہے۔ ان ماڈلز نے عملی تربیت اور کم لاگت پر مؤثر کارکردگی کے باعث عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ صارفین کی توجہ حاصل کی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی عملی صلاحیتیں روبوٹس میں بھی نمایاں ہو رہی ہیں، جہاں حقیقی ماحول میں تربیت کے ذریعے انہیں مینوفیکچرنگ، ہنگامی امداد اور کھانے کی خدمات سمیت مختلف شعبوں میں کام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

حالیہ دنوں منعقدہ عالمی روبوٹ کانفرنس میں روبوٹس کے متعدد عملی استعمال سامنے آئے، جبکہ بیجنگ میں منعقد ہونے والے عالمی انسان نما روبوٹ مقابلوں نے بھی عوام کی غیر معمولی دلچسپی حاصل کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روبوٹکس اب صرف تحقیق اور نمائش کا شعبہ نہیں رہا بلکہ صنعت اور روزمرہ خدمات میں عملی استعمال کی طرف بڑھ رہا ہے۔

چین مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے بھی بین الاقوامی تعاون پر زور دے رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی اخلاقی حکمرانی سے متعلق ایک عالمی ایکشن پلان جاری کیا گیا، جس میں کھلے پن، باہمی فائدے، جدت پر مبنی ترقی، خطرات کے بارے میں آگاہی، محفوظ اور قابل کنٹرول مصنوعی ذہانت، شمولیت اور تہذیبوں کے درمیان باہمی سیکھنے جیسے اصولوں پر زور دیا گیا ہے۔

آئندہ پانچ برسوں میں چین مربوط سرکٹس، خلائی صنعت، حیاتیاتی ادویات، کم بلندی کی معیشت، نئی توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور ذہین روبوٹکس جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کو صنعتی ترقی کے اہم ستونوں کے طور پر فروغ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی دوران کوانٹم ٹیکنالوجی، حیاتیاتی مینوفیکچرنگ، ہائیڈروجن اور جوہری امتزاج توانائی، برین کمپیوٹر انٹرفیس، مجسم ذہانت اور 6جی جیسی مستقبل کی صنعتوں کو بھی معاشی ترقی کے نئے محرکات کے طور پر آگے بڑھایا جائے گا۔

صنعتی ترقی کے اس منصوبے میں بڑی کمپنیوں کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بھی اہم مقام دیا گیا ہے۔ خصوصی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے منفرد مصنوعات تیار کرنے والے اداروں کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور زیادہ تعداد میں ایسے ’’لٹل جائنٹ‘‘ ادارے تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی جو تیز رفتار ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط مارکیٹ مسابقت کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مینوفیکچرنگ کے مختلف شعبوں میں کسی ایک مخصوص مصنوعات میں مہارت رکھنے والے اداروں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

اطلاعات اور مواصلات کے شعبے میں بھی اگلی نسل کے مواصلاتی نیٹ ورکس اور کمپیوٹنگ نیٹ ورکس کی منصوبہ بندی اور تعمیر تیز کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اہم صنعتی شعبوں میں 5جی اور صنعتی انٹرنیٹ کے وسیع استعمال، 6جی تحقیق، نیٹ ورک اور ڈیٹا سکیورٹی کو مضبوط بنانے اور عالمی مسابقتی برتری برقرار رکھنے پر توجہ دی جائے گی۔

یوں چین کی صنعتی تبدیلی ایک ہی ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہی۔ مصنوعی ذہانت، 6جی، ذہین گاڑیاں، روبوٹکس، سبز صنعت، کمپیوٹنگ پاور اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز ایک دوسرے سے جڑ کر ایک وسیع صنعتی نظام تشکیل دے رہی ہیں۔ اگلے پانچ برسوں کا ہدف صرف نئی ٹیکنالوجی تیار کرنا نہیں بلکہ اسے کارخانوں، گاڑیوں، مواصلات اور روزمرہ زندگی میں بڑے پیمانے پر استعمال کے قابل بنانا ہے، تاکہ ٹیکنالوجی تحقیق سے نکل کر حقیقی معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1972 Articles with 1161546 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More