دریا اپنا راستہ نہیں بھولتا
(Dr. Talib Ali Awan, Sialkot)
|
دریا اپنا راستہ نہیں بھولتا (تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان) انسان نے شاید اپنی پوری تاریخ میں دریا کو کبھی صرف پانی نہیں سمجھا۔ دریا اس کے لیے زندگی تھا، رزق تھا، سفر تھا، زراعت تھا اور تہذیب کا نقطۂ آغاز بھی۔ دنیا کی قدیم تہذیبوں نے دریاؤں کے کنارے جنم لیا، بستیاں آباد ہوئیں، شہر بنے اور انسانی تمدن نے اپنی پہلی بڑی کروٹ لی۔ مگر انسان نے جب فطرت کو سمجھنے کے بجائے اسے اپنے تابع سمجھنا شروع کیا تو مسئلہ پیدا ہوا۔ ہم نے دریاؤں کے راستے محدود کیے، ان کے قدرتی میدانوں پر آبادیاں قائم کیں، پہاڑوں کو بے دریغ کاٹا، جنگلات کم کیے اور پھر یہ توقع بھی رکھی کہ قدرت ہمارے نقشوں اور ہماری تعمیرات کی پابند رہے گی۔ شاید ہم بھول گئے کہ دریا راستہ نہیں بھولتا، انسان بھول جاتا ہے۔ سیانے اسی لیے کہتے تھے کہ جہاں تک دریا کی ریت، کنکر یا پتھر کبھی پہنچے ہوں، وہاں اپنی مستقل رہائش بنانے سے پہلے سو بار سوچو۔ یہ محض دیہاتی دانش نہیں بلکہ صدیوں کے مشاہدے سے پیدا ہونے والی ایک گہری ماحولیاتی بصیرت ہے۔ دریا کے کنارے بظاہر خشک زمین بھی دریا کی یاد اپنے اندر محفوظ رکھتی ہے۔ پانی کچھ عرصہ پیچھے ہٹ سکتا ہے، مگر اس کا قدرتی راستہ ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہوتا۔ انسان چند دہائیوں میں مکان بنا سکتا ہے، سڑک نکال سکتا ہے، پل تعمیر کر سکتا ہے اور نقشے پر لکیر کھینچ سکتا ہے، لیکن قدرت اپنے راستے ہزاروں برس میں بناتی ہے۔ 26 اگست 2026ء کو نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں پیش آنے والا سانحہ اسی حقیقت کی ایک ہولناک یاد دہانی ہے۔ ہمالیہ کے بلند پہاڑی علاقے میں گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ منہدم ہوا، برف، چٹان اور ملبہ وادی میں گرا، دریا کا راستہ عارضی طور پر بند ہوا اور پھر یہ قدرتی رکاوٹ ٹوٹتے ہی پانی، مٹی، برف اور پتھروں کا ایک تباہ کن ریلا نیچے کی آبادیوں کی طرف دوڑ پڑا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ ملبے کا بہاؤ اور سیلاب تقریباً 100 کلومیٹر تک نیچے گیا اور ٹریشولی و بھوٹے کوشی دریاؤں کے نظام سے وابستہ کئی علاقوں کو متاثر کیا۔ اس واقعے کی شدت کا اندازہ اس ایک حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹریشولی دریا کی سطح بعض مقامات پر صرف تیس منٹ میں تقریباً نو میٹر (تیس فٹ تک) بلند ہو گئی۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کی تمام مشینی قوت، سڑکیں، پل، عمارتیں، منصوبے اور حساب کتاب چند لمحوں کے سامنے بے معنی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ انسان کے پاس سیٹلائٹ ہیں، ڈرون ہیں، جدید مشینیں ہیں، مصنوعی ذہانت ہے، خلائی تحقیق ہے؛ لیکن جب پہاڑ کا ایک حصہ ٹوٹ کر دریا میں گرتا ہے اور پانی اپنے ساتھ چٹانیں، مٹی اور برف لیے نیچے آتا ہے تو انسان کو اپنی طاقت کے ساتھ اپنی بے بسی کا بھی اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ اس سانحے میں سیکڑوں انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور ایک بڑی تعداد لاپتا ہے۔ پل، سڑکیں، بجلی کے منصوبے، مکانات اور بنیادی ڈھانچے کا وسیع نقصان ہوا۔ امدادی کارروائیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور دشوار گزار پہاڑی علاقے بنے۔ یہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں تھی بلکہ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی تھی کہ پہاڑوں میں ہونے والی تبدیلیاں ہزاروں میل دور رہنے والے انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ لیکن یہاں احتیاط بھی ضروری ہے۔ کسی ایک گلیشیئر کے اچانک منہدم ہونے کو براہِ راست صرف موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دینا سائنسی طور پر قبل از وقت ہوگا۔ ماہرین اس مخصوص واقعے کے محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم سائنس اس بات پر مسلسل متنبہ کر رہی ہے کہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، گلیشیئرز کا سکڑنا، برف کا پگھلاؤ، پہاڑی ڈھلوانوں کا عدم استحکام اور بلند علاقوں میں جمی ہوئی زمین کے پگھلنے جیسے عوامل ہمالیائی خطے میں برفانی تودوں، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کے خطرات کو بڑھا سکتے ہیں۔ یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ نیپال میں کیا ہوا، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس سے کیا سیکھیں گے؟ ہم نے ترقی کے نام پر فطرت کو ایک خاموش شے سمجھ لیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ پہاڑ صرف پتھر ہیں، دریا صرف پانی ہیں، جنگلات صرف لکڑی ہیں اور زمین صرف تعمیرات کے لیے دستیاب جگہ۔ حالانکہ یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ایک پیچیدہ نظام کا حصہ ہیں۔ ایک پہاڑ کی برف، ایک جنگل کی جڑ، ایک دریا کا راستہ، ایک وادی کی ساخت اور ایک گاؤں کی آبادی؛ یہ سب الگ الگ چیزیں نہیں، ایک ہی قدرتی نظام کی کڑیاں ہیں۔ ایک کڑی کو غیر معمولی دباؤ دیا جائے تو اس کا اثر دوسری کڑی تک ضرور پہنچتا ہے۔ ہماری سب سے بڑی غلطی شاید یہ ہے کہ ہم فطرت کو فوری نتائج کے پیمانے سے دیکھتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنے سے ہمیں اسی لمحے کوئی تباہی نظر نہیں آتی، ایک دریا کے کنارے تعمیر کرنے سے بھی پہلی بارش تک سب کچھ محفوظ محسوس ہوتا ہے، پہاڑ کاٹنے سے بھی سڑک بن جاتی ہے اور زمین آباد ہو جاتی ہے۔ مگر قدرت کا حساب انسان کی گھڑی سے نہیں چلتا۔ بعض نتائج برسوں بعد ظاہر ہوتے ہیں اور بعض نسلوں کے بعد۔ اسی لیے آج دنیا میں موسمیاتی تبدیلی محض ماحولیات کا موضوع نہیں رہی؛ یہ انسانی سلامتی، معیشت، خوراک، پانی، ہجرت اور قومی منصوبہ بندی کا مسئلہ بن چکی ہے۔ جو ملک آج درجۂ حرارت، گلیشیئرز، دریاؤں، جنگلات اور قدرتی آفات کو محض ماحولیاتی موضوع سمجھ کر نظر انداز کرے گا، کل اسے یہی مسئلہ معیشت، صحت، روزگار اور انسانی نقل مکانی کی شکل میں دروازے پر کھڑا مل سکتا ہے۔ اس تناظر میں دنیا کی بڑی صنعتی معیشتوں اور کاربن پر انحصار کرنے والے مفادات سے سوال ضرور ہونا چاہیے، مگر الزام تراشی کے بجائے سائنسی دیانت کے ساتھ۔ تیل، گیس اور کوئلہ صرف معاشی اشیا نہیں رہے؛ ان کے استعمال نے عالمی توانائی کے نظام کو تشکیل دیا ہے اور اس نظام کے ماحولیاتی اثرات بھی ہیں۔ اس لیے اصل ضرورت جذباتی نعروں سے زیادہ ایسی عالمی پالیسی کی ہے جس میں ترقی پذیر ممالک کی توانائی کی ضرورت، ترقی یافتہ دنیا کی تاریخی ذمہ داری اور آنے والی نسلوں کے ماحولیاتی حق، تینوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے۔ اور اس مسئلے کا ایک بہت اہم پہلو ابتدائی انتباہ کا نظام بھی ہے۔ قدرتی آفت کو ہمیشہ روکا نہیں جا سکتا، لیکن اس سے ہونے والا نقصان ضرور کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر خطرناک گلیشیئرز، غیر مستحکم پہاڑی ڈھلوانوں اور دریائی راستوں کی مسلسل نگرانی ہو، سیٹلائٹ ڈیٹا کو مقامی نظام سے جوڑا جائے، خطرے کے علاقوں میں مؤثر وارننگ سسٹم نصب ہوں اور لوگوں کو پہلے سے انخلا کی تربیت دی جائے تو چند منٹ بھی سینکڑوں جانوں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ نیپال کے سانحے نے اسی ضرورت کو پھر نمایاں کیا ہے۔ پاکستان کے لیے اس واقعے کا پیغام اور بھی اہم ہے۔ ہم بھی دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں، گلیشیئرز اور دریاؤں کا حامل ملک ہیں۔ ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش سے آنے والے پانی کے نظام سے وابستہ ہے۔ اگر پہاڑوں میں ہونے والی تبدیلیاں نیپال میں اتنی تباہ کن صورت اختیار کر سکتی ہیں تو ہمیں اپنے شمالی علاقوں، گلیشیئرز، جھیلوں، دریاؤں اور پہاڑی آبادیوں کے بارے میں بھی مستقبل کی منصوبہ بندی آج ہی کرنا ہوگی۔ قدرتی آفات کے بعد امداد دینا ضروری ہے، لیکن آفت آنے سے پہلے خطرے کو سمجھنا اس سے کہیں زیادہ دانش مندی ہے۔ اور شاید اس سارے واقعے کا سب سے گہرا سبق دریا ہی ہمیں دیتا ہے۔ دریا انسان سے بحث نہیں کرتا۔ وہ یہ نہیں پوچھتا کہ اس زمین پر مکان کس نے بنایا، نقشہ کس نے منظور کیا، سڑک کس نے تعمیر کی یا اس علاقے کو آباد کرنے کی اجازت کس نے دی۔ جب قدرتی نظام میں کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے تو پانی اپنی فطری منطق کے مطابق حرکت کرتا ہے۔ اس کے سامنے عہدے، سرحدیں، دولت اور سیاسی اختیار بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے فطرت کو "شکست دینے" کا تصور ہی شاید بنیادی طور پر غلط ہے۔ ہم فطرت سے جنگ نہیں جیت سکتے، ہم صرف اس کے ساتھ سمجھ داری سے رہنا سیکھ سکتے ہیں۔ ہم دریاؤں کے سیلابی میدانوں کا احترام کر سکتے ہیں، پہاڑوں کی ساخت کو سمجھ سکتے ہیں، جنگلات کی حفاظت کر سکتے ہیں، گلیشیئرز کی نگرانی کر سکتے ہیں اور ایسی تعمیرات سے گریز کر سکتے ہیں جو قدرتی نظام کو غیر ضروری طور پر چیلنج کریں۔ فطرت انتقام نہیں لیتی، وہ اپنے قوانین کے مطابق ردِعمل دیتی ہے۔ انسان کے لیے شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ قدرت کے ردِعمل کو اس وقت سمجھتا ہے جب اس کے سامنے اپنی بنائی ہوئی عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو چکی ہوتی ہیں۔ ہم نے دریا کو روک کر سمجھا کہ ہم نے اسے شکست دے دی۔ ہم نے پہاڑ کاٹ کر سمجھا کہ ہم نے اسے فتح کر لیا۔ ہم نے جنگلات صاف کر کے سمجھا کہ زمین ہمارے اختیار میں آ گئی۔ ہم نے آسمان تک پہنچ کر سمجھا کہ اب قدرت ہماری محتاج ہے۔ مگر ایک اچانک سیلاب، ایک ٹوٹا ہوا گلیشیئر اور چند منٹ میں نو میٹر بلند ہوتا دریا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان ترقی کر سکتا ہے، فطرت پر حکومت نہیں۔ "دریا اپنا راستہ نہیں بھولتا۔" ہمیں صرف اتنا سیکھنا ہے کہ اس کے راستے میں گھر بنانے سے پہلے، اس کی خاموش زبان کو پڑھنا سیکھ لیں۔ |
|