کراچی کو آج خصوصی انتظامی حیثیت کی ضرورت کیوں ہے؟
(Muhammad Ubaid Anwer Burney, Sukkur)
| کراچی کہ ئس کی دایمی حیثت میں لانا |
|
کراچی کو آج خصوصی انتظامی حیثیت کی ضرورت کیوں ہے؟
یہ تقسیم کا نہیں، بہتر حکمرانی اور قومی مفاد کا سوال ہے
تحریر: محمد عبید انور برنی حقیقت پرداز — نقطہ نگار
کراچی کو سندھ سے الگ کرکے پاکستان سے جدا کرنے کی بات نہ آج مناسب ہے اور نہ ہی یہ میری تجویز ہے۔ میرا سوال اس سے بالکل مختلف ہے:
کیا کراچی، پاکستان کے اندر رہتے ہوئے، اپنی غیر معمولی شہری اور معاشی حیثیت کے مطابق ایک خصوصی وفاقی انتظامی حیثیت حاصل کر سکتا ہے؟
میرے نزدیک آج اس سوال پر سنجیدہ، آئینی اور غیر جانب دار قومی بحث کی ضرورت ہے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور ایک اہم معاشی و تجارتی مرکز ہے۔ یہاں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ بندرگاہ، صنعت، تجارت، کاروبار اور روزگار کے وسیع مواقع کراچی کو صرف سندھ ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے اہم بناتے ہیں۔
لیکن کراچی کے شہری مسائل بھی اسی تناسب سے بڑے اور پیچیدہ ہیں۔
پانی، نکاسیٔ آب، صفائی، سڑکیں، پبلک ٹرانسپورٹ، تجاوزات، رہائش، زمین کا انتظام، شہری منصوبہ بندی اور مختلف اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم ایسے مسائل ہیں جن کا اثر روزانہ لاکھوں شہریوں کی زندگی پر پڑتا ہے۔
کیا موجودہ نظام کافی ہے؟
یہ سوال کسی حکومت یا سیاسی جماعت کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں بلکہ نظام کا جائزہ لینے کے لیے ہے۔
اگر ایک شہری کو اپنے بنیادی مسئلے کے حل کے لیے مختلف اداروں کے درمیان بھٹکنا پڑے، اگر ذمہ داری واضح نہ ہو اور اگر ایک ادارہ دوسرے ادارے کی طرف انگلی اٹھاتا رہے تو مسئلہ صرف افراد کا نہیں رہتا، بلکہ نظامِ حکمرانی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اسی لیے کراچی کے لیے ایک ایسے انتظامی ماڈل پر غور ضروری ہے جس میں اختیار، وسائل اور ذمہ داری ایک واضح نظام کے تحت موجود ہوں۔
وفاقی علاقہ کراچی — ایک قابلِ غور تجویز
میری طرف سے پیش کیا جانے والا تصور یہ ہے کہ کراچی کو:
"وفاقی علاقہ کراچی"
کی حیثیت دینے کے امکان کا آئینی اور جمہوری طریقے سے جائزہ لیا جائے۔
اس کا مطلب کراچی کو آزاد ریاست بنانا نہیں۔
اس کا مطلب پاکستان سے علیحدگی نہیں۔
اس کا مطلب سندھ یا کسی قوم کے خلاف محاذ آرائی بھی نہیں۔
بلکہ کراچی پاکستان کا حصہ رہتے ہوئے ایک خصوصی وفاقی انتظامی اکائی ہو، جسے اس کے شہری حجم، معاشی اہمیت اور انتظامی ضروریات کے مطابق اختیارات دیے جائیں۔
کراچی کی اپنی بااختیار منتخب حکومت
اگر ایسا ماڈل کبھی زیرِ غور آتا ہے تو کراچی کے عوام کی جمہوری نمائندگی اس کا بنیادی حصہ ہونی چاہیے۔
ایک بااختیار منتخب میئر، مضبوط بلدیاتی حکومت اور واضح انتظامی اختیارات کے ذریعے شہری مسائل کو مقامی سطح پر حل کیا جا سکتا ہے۔
وفاق اپنے قومی آئینی معاملات سنبھالے، جبکہ کراچی کی روزمرہ شہری انتظامیہ منتخب مقامی حکومت کے ذریعے چلائی جائے۔
اس طرح اختیار بھی مقامی ہوگا اور جواب دہی بھی واضح ہوگی۔
مخالفین کے خدشات بھی اہم ہیں
اس تجویز کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ کراچی تاریخی اور جغرافیائی طور پر سندھ کا حصہ ہے اور اسے الگ انتظامی حیثیت دینے سے سندھ کی صوبائی وحدت اور مالی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ خدشات نظرانداز نہیں کیے جانے چاہییں۔
سندھ کے تاریخی، ثقافتی اور آئینی حقوق کا احترام ضروری ہے۔
لیکن اسی کے ساتھ کراچی کے شہریوں کے بنیادی شہری حقوق اور بہتر حکمرانی کی ضرورت بھی حقیقت ہے۔
اس لیے حل کراچی بمقابلہ سندھ نہیں ہونا چاہیے۔
حل ایسا ہونا چاہیے جس میں کراچی کے شہریوں کو مؤثر انتظام ملے اور سندھ کے جائز حقوق بھی محفوظ رہیں۔
کیا کراچی کے وسائل سندھ سے چھین لیے جائیں؟
ہرگز نہیں۔
اگر کبھی کراچی کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے پر غور کیا جائے تو مالیاتی نظام ایسا ہونا چاہیے جس میں وفاق، کراچی اور سندھ کے جائز حقوق واضح اور محفوظ ہوں۔
کراچی اپنی معاشی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتا رہے اور سندھ کے دیگر علاقوں کی ترقی کے حقوق بھی متاثر نہ ہوں۔
ترقی کا مطلب کسی دوسرے علاقے کی محرومی نہیں ہونا چاہیے۔
کراچی کسی ایک زبان یا قوم کا شہر نہیں
کراچی کو لسانی یا نسلی بنیاد پر تقسیم کرنا اس شہر اور پاکستان دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
کراچی میں سندھ سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی رہتے ہیں، اردو بولنے والے بھی، پنجابی، پشتون، بلوچ، سرائیکی اور پاکستان کے دیگر علاقوں سے آنے والے شہری بھی۔
اس لیے کراچی کا مستقبل کسی ایک قوم کی بالادستی کے بجائے:
برابر کی شہریت، قانون کی حکمرانی، میرٹ، امن اور جمہوری نمائندگی
کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
کیا آج اس بحث کی واقعی ضرورت ہے؟
میرا جواب ہے:
ہاں، کم از کم اس سوال پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ضرور ہے۔
کیونکہ کراچی کے مسائل کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک دور کے پیدا کردہ نہیں ہیں۔ یہ کئی دہائیوں میں پیدا ہونے والے پیچیدہ شہری اور ادارہ جاتی مسائل ہیں۔
اگر موجودہ نظام کو بہتر بنا کر کراچی کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں تو اسے ضرور بہتر بنایا جائے۔
لیکن اگر بار بار کی اصلاحات کے باوجود بنیادی مسائل برقرار رہتے ہیں تو پھر نئے انتظامی ماڈل پر غور کرنا بھی جمہوری حق ہے۔
فیصلہ جذبات سے نہیں، آئین سے ہونا چاہیے
کراچی کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کوئی معمولی انتظامی فیصلہ نہیں ہوگی۔
اس کے لیے پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق مکمل جمہوری اور قانونی طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔
عوامی رائے، پارلیمانی عمل، آئینی ماہرین، سندھ کے نمائندوں، کراچی کے شہریوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو اس بحث میں شامل کرنا ہوگا۔
کوئی بھی فیصلہ زبردستی، تعصب یا جذباتی نعروں کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے۔
میرا مؤقف
میرا مقصد کراچی کو سندھ کے خلاف کھڑا کرنا نہیں۔
میرا مقصد کراچی کو پاکستان سے الگ کرنا نہیں۔
میرا مقصد کسی قوم یا زبان کے حقوق محدود کرنا نہیں۔
میرا سوال صرف اتنا ہے:
کیا پاکستان اپنے سب سے بڑے اور اہم ترین شہر کے لیے ایسا انتظامی نظام تشکیل دے سکتا ہے جو شہریوں کو بہتر سہولیات، واضح اختیار، شفاف مالیاتی نظام اور جواب دہ حکومت فراہم کرے؟
اگر جواب موجودہ نظام کو بہتر بنا کر "ہاں" ہے تو یہی راستہ اختیار کیا جائے۔
اور اگر ایک خصوصی وفاقی حیثیت زیادہ مؤثر حل ثابت ہو سکتی ہے تو اسے بھی آئین، قانون اور عوامی رضامندی کے ذریعے زیرِ بحث لایا جائے۔
کیونکہ مقصد نقشہ بدلنا نہیں—
مقصد کراچی کا مستقبل بہتر بنانا ہے۔
اور کراچی کا بہتر مستقبل صرف کراچی کا مسئلہ نہیں۔
کراچی بہتر ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا۔
حقیقت پرداز — نقطہ نگار محمد عبید انور برنی
|
|