پشاور: افغان جنگ کے فرنٹ لائن سے افغان واپسی کے مرکز تک

چار دہائیوں میں ایک شہر اور سرحدی خطے کی بدلتی ہوئی کہانی

تقریباً پانچ دہائیاں قبل افغانستان میں شروع ہونے والی جنگ نے پشاور اور موجودہ خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں کو ایک ایسے جغرافیائی مرکز میں تبدیل کر دیا تھا جہاں افغان مزاحمت، مہاجرین، اسلحہ، سیاسی تنظیمیں اور سرحدی نیٹ ورک ایک دوسرے سے جڑ گئے تھے۔آج منظر تبدیل ہو چکا ہے۔

وہی سرحد جس نے 1980ء کی دہائی میں افغانستان سے پاکستان کی طرف بڑے پیمانے پر نقل و حرکت دیکھی، اب افغان شہریوں کی واپسی کا راستہ بنی ہوئی ہے۔ UNHCR اور IOM کے مطابق 2026 میں بھی ہزاروں افغان شہری طورخم، غلام خان اور دیگر سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے افغانستان واپس گئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ 1979 کے بعد جس جنگ نے پشاور، خیبر اور سابق قبائلی علاقوں کی آبادی، معیشت اور سکیورٹی کو تبدیل کیا، آج افغان شہریوں کی بڑے پیمانے پر واپسی ان علاقوں کو کس نئی سمت میں لے جا رہی ہے؟

امریکی ایجنسی CIA کی declassified دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان جنگ کے دوران پشاور محض پاکستان کا ایک سرحدی شہر نہیں رہا تھا۔افغان مزاحمتی تنظیموں کے رہنما پشاور میں موجود تھے اور شہر افغانستان سے متعلق سیاسی سرگرمیوں کا اہم مرکز بن چکا تھا۔CIA کی ا±س دور کی رپورٹس میں پشاور میں بڑھتے ہوئے law-and-order مسائل کا بھی ذکر ملتا ہے۔ یعنی افغان جنگ کا اثر صرف سرحد پار تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات شہر کے اندر بھی محسوس کیے جا رہے تھے۔

یہ وہ دور تھا جب پشاور افغانستان کی جنگ، پاکستانی ریاستی پالیسی اور افغان مہاجرین کے درمیان ایک اہم رابطہ بن گیا۔ سوویت مداخلت کے بعد لاکھوں افغان پاکستان آئے۔ کئی خاندانوں کے لیے پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا، عارضی پناہ گاہ نہیں رہا بلکہ کئی دہائیوں تک ان کا گھر بن گیا۔ پشاور کے قریب قائم مہاجر کیمپ اس تبدیلی کی نمایاں مثال تھے۔ یہاں سے ایک بنیادی تبدیلی شروع ہوئی

چار دہائیوں بعد بھی اس تبدیلی کے اثرات ختم نہیں ہوئے۔قبائلی علاقے: جنگ اور ریاستی اختیار کے درمیان بڑھ گئی افغان جنگ نے سابق قبائلی علاقوں کی strategic اہمیت بھی بڑھا دی۔CIA کی رپورٹس میں سرحدی قبائل، اسلام آباد کی محدود انتظامی رسائی، افغانستان کے ساتھ تعلقات، منشیات اور سرحدی سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل کے طور پر دیکھا گیا۔CIA کی ایک رپورٹ میں افغان اور پاکستانی علاقوں کے درمیان منشیات کی نقل و حرکت کے لیے خیبر پاس کی اہمیت کا ذکر بھی موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس دور میں افغانستان سے آنے والی افیون اور ہیروئن کی نقل و حرکت میں سرحدی راستوں کا کردار تھا۔

اس دستاویزی مواد سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ پورا قبائلی معاشرہ غیر قانونی تجارت میں شامل تھا۔ دستاویزات مخصوص راستوں، گروہوں اور نیٹ ورکس کی بات کرتی ہیں۔آج رخ تبدیل ہو گیا 2023 کے بعد پاکستان سے افغان شہریوں کی واپسی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ IOM اور UNHCR کے اعدادوشمار کے مطابق 15 ستمبر 2023 سے 2026 تک پاکستان سے لاکھوں افغان افغانستان واپس گئے ہیں۔ مختلف ادوار میں واپسی رضاکارانہ واپسی، spontaneous returns اور deportations پر مشتمل رہی ہے۔

2026 میں بھی طورخم سمیت اہم سرحدی راستوں سے مسلسل واپسی ریکارڈ ہوئی۔یعنی جس سرحد نے کئی دہائیوں تک افغانستان سے پاکستان کی طرف نقل مکانی دیکھی، اب وہی سرحد پاکستان سے افغانستان کی طرف واپسی کا مرکزی راستہ بن رہی ہے۔مگر افغانستان آج بھی بحران سے باہر نہیںیہاں موجودہ صورتحال کا دوسرا پہلو سامنے آتا ہے۔افغانستان میں طویل جنگ، معاشی کمزوری، محدود روزگار اور انسانی بحران نے واپس جانے والے خاندانوں کے لیے دوبارہ آبادکاری کو مشکل بنا دیا ہے۔

بین الاقوامی اداروں UNHCR اور IOM کی رپورٹس مسلسل اس بات پر توجہ دلاتی ہیں کہ بڑی تعداد میں واپسی افغانستان کے پہلے سے کمزور معاشی اور انسانی نظام پر اضافی دباو¿ ڈال سکتی ہے۔دوسری طرف پاکستان کے لیے بھی یہ صرف سرحدی انتظام کا مسئلہ نہیں۔خیبر پختونخوا میں کئی افغان خاندان کئی دہائیوں سے رہ رہے ہیں۔ان کے بچوں نے پاکستانی شہروں میں تعلیم حاصل کی، کاروبار قائم ہوئے، رشتے بنے اور مقامی معیشت کے ساتھ تعلقات پیدا ہوئے۔اس لیے آج کی واپسی صرف افغانستان جانے والے افراد کی تعداد کا سوال نہیں۔ یہ ایک ایسی آبادی کے دوبارہ منتقل ہونے کا عمل ہے جس کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں کئی دہائیوں سے موجود تھا۔

سال 1980ء کی دہائی میں افغان جنگ کے اثرات پاکستانی معاشرے‘ ثقافت اور معیشت پر تھے اور آج افغانستان کی موجودہ صورتحال ‘ پاکستان میں سکیورٹی اور انتظامی دباو¿ ‘ افغان شہریوں کی واپسی سمیت افغانستان پر دوبارہ آبادکاری کا دباو¿ ہے یہ دونوں ادوار ایک جیسے نہیں ہیں۔ لیکن ان کے درمیان ایک تاریخی ربط ضرور موجود ہے:دونوں صورتوں میں پشاور اور سرحدی علاقے افغانستان کے بحران کے براہ راست اثرات برداشت کر رہے ہیں۔

یہاں تحقیق کا سب سے اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ چار دہائیوں تک افغان آبادی، تجارت، مزدور، کاروبار اور خاندانوں کی موجودگی نے پشاور اور خیبر پختونخوا کی معیشت اور معاشرت کو متاثر کیا۔اب اگر بڑی تعداد میں افغان واپس جا رہے ہیں تو پشاور کی کرایہ داری مارکیٹ پر کیا اثر پڑے گا؟افغان تاجروں کی واپسی سے سرحدی تجارت میں کیا تبدیلی آئے گی؟طورخم اور خیبر کے مقامی کاروبار پر کیا اثر ہوگا؟ افغان مہاجر کیمپوں اور ان سے وابستہ کاروباری سرگرمیوں کا کیا ہوگا؟افغان خاندانوں کے پاکستانی رشتہ داروں پر کیا اثر پڑے گا؟واپس جانے والے خاندان افغانستان میں کہاں آباد ہوں گے؟ان میں سے کتنے دوبارہ پاکستان آنے کی کوشش کریں گے؟خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر اس نقل مکانی کا کیا اثر پڑے گا؟یہ سوالات محض سیاسی بیانات سے حل نہیں ہوں گے۔ان کے لیے ڈیٹا، سرکاری ریکارڈ، سرحدی اعدادوشمار، مقامی کاروباری ریکارڈ اور متاثرہ خاندانوں کی دستاویزی گواہی درکار ہے۔

سال 1980ء کی دہائی کے CIA documents میں افغانستان، پاکستان، سرحدی قبائل، مہاجرین، اسلحہ اورمنشیات کے درمیان تعلقات کا ذکر موجود ہے۔آج، تقریباً چار دہائیوں بعد، انہی سرحدی علاقوں میں ایک نئی بڑی نقل مکانی ہو رہی ہے۔لہٰذا اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ:"کون صحیح ہے اور کون غلط؟"بلکہ:"افغانستان کی جنگوں اور پاکستان کی پالیسیوں نے پچھلی چار دہائیوں میں پشاور اور سرحدی علاقوں کو کس طرح تبدیل کیا، اور آج افغانوں کی واپسی اس تبدیلی کا اگلا مرحلہ کیسے بن رہی ہے؟"یہ سوال تاریخ، سیاست، معیشت، سکیورٹی اور انسانی حقوق، پانچوں پہلوو¿ں کو ایک ہی تحقیقاتی فریم میں لے آتا ہے۔

امریکی ایجنسی CIA کے declassified مواد میں افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں، منشیات کے راستوں اور خیبر پاس کی strategic اہمیت سے متعلق مواد موجود ہے۔موجودہ افغان واپسی کے لیے UNHCR اور IOM کے تازہ اعدادوشمار زیادہ مضبوط بنیادی ذریعہ ہیں، کیونکہ یہ موجودہ واپسی کے عمل سمیت سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے نقل و حرکت کو باقاعدگی سے track کرتے ہیں

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1059 Articles with 815126 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More