رِنگ سے انسانیت تک، انتھونی منڈین کا نیا سفر طارق محمود مرزا۔ سڈنی کبھی کبھی کسی معروف شخصیت سے ملاقات چند لمحوں سے زیادہ نہیں ہوتی لیکن وہ چند لمحے ایک پوری کہانی اپنے اندر سمو لیتے ہیں۔ حال ہی میں سڈنی میں ملٹی کلچرل ویلفئیر فاؤنڈیشن کی تقریب کے دوران آسٹریلیا کے معروف باکسر انتھونی منڈین ( Anthony Mundine )سے ملاقات ہوئی تو پہلی نظر میں ذہن کئی برس پیچھے چلا گیا۔ سامنے وہی شخص تھا جس کے نام سے کبھی باکسنگ کے شائقین کے دل دھڑکتے تھے، جس کے مکے حریفوں کے لیے خطرے کی علامت سمجھے جاتے تھے اور جس نے عالمی سطح پر آسٹریلیا کا نام روشن کیا۔ مگر اس ملاقات میں مجھے رِنگ کا وہ جارح مزاج چیمپئن کم اور ایک سنجیدہ، بردبار اور انسانیت کے درد کو محسوس کرنے والا شخص زیادہ دکھائی دیا۔انتھونی منڈین کی زندگی کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔ ۲۱ مئی ۱۹۷۵ کو سڈنی کے پس ماندہ علاقے ریڈ فرن کے Aborignal) ( گھرانےپیدا ہونے والے انتھونی نے اپنے اسپورٹس کے سفر کا آغاز باکسنگ سے نہیں بلکہ رگبی لیگ سے کیا۔ وہ سینٹ جارج ڈریگنز اور برسبین برونکوز کی جانب سے قومی سطح کے مقابلوں میں کھیلے، ایک پریمیئر شپ جیتی اور نیو ساؤتھ ویلز کی جانب سے اسٹیٹ آف اوریجن کے تین مقابلوں میں نمائندگی کی۔ یوں ایک کامیاب رگبی کھلاڑی کی حیثیت سے ان کا مستقبل روشن تھا، لیکن ان کے اندر باکسنگ کا شوق اور عالمی چیمپئن بننے کا خواب زندہ تھا۔سال 2000 میں صرف پچیس برس کی عمر میں انہوں نے رگبی لیگ چھوڑ کر پیشہ ورانہ باکسنگ کا راستہ اختیار کر لیا۔ یہ ایک بڑا فیصلہ تھا۔ جس کھیل میں وہ پہلے ہی شہرت حاصل کر چکے تھے، اسے چھوڑ کر ایک ایسے میدان میں قدم رکھنا جہاں ہر مقابلہ جسمانی طاقت کے ساتھ ذہنی مضبوطی کا بھی امتحان ہوتا ہے، آسان نہیں تھا۔باکسنگ کے رِنگ میں ان کا سفر بھی پھولوں کی سیج نہیں تھا۔ ابتدا ہی میں انہیں عالمی چیمپئن سوین اوٹکے کے خلاف عالمی اعزاز کے لیے مقابلہ کرنا پڑا اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن یہ شکست ان کے عزم کو نہ توڑسکی۔ انہوں نے دوبارہ محنت کی، رِنگ میں واپس آئے اور بالآخر امریکی باکسر اینٹون ایکولز کو شکست دے کر عالمی اعزاز حاصل کر لیا۔یہ انتھونی منڈین کے کیریئر کا وہ لمحہ تھا جب ایک آسٹریلوی کھلاڑی عالمی باکسنگ کے منظرنامے پر نمایاں ہو چکا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ایک سے زیادہ عالمی اعزازات حاصل کیے اور تین مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ڈینی گرین، سیم سولیمن اور ڈینیئل گیل جیسے معروف باکسرز کے ساتھ ان کے مقابلے آسٹریلوی کھیلوں کی تاریخ کا روشن باب بن گئے۔ 2006 میں ڈینی گرین کے ساتھ ان کا مقابلہ آسٹریلیا میں انتہائی مقبول ہوا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے اسے دیکھا۔لیکن انتھونی منڈین کی زندگی کا سب سے اہم مقابلہ شاید کسی باکسر کے ساتھ نہیں تھا۔وہ مقابلہ خود اپنے اندر تھا۔انتھونی نے اسلام قبول کیا اور قرآن مجید کے مطالعے کو اپنے روحانی سفر کا اہم حصہ قرار دیا۔ ایک انٹرویو میں انتھونی نے انکشاف کیا کہ انہوں نے کئی برس تک قرآن کا مطالعہ کیا اور بالآخر اسلام کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ ان کے مطابق اسلام قبول کرنے کے بعد نماز، روزہ اور حلال غذا سمیت اسلامی طرز زندگی ان کی زندگی میں شامل ہو گیا۔ان کے اسلام قبول کرنے کی داستان اس لیے بھی قابل توجہ ہے کہ یہ فیصلہ انہوں نے کسی وقتی جذبات کے تحت نہیں بلکہ مطالعے اور غوروفکر کے بعد کیا۔ وہ خود اس تاثر کی نفی کر چکے ہیں کہ صرف محمد علی یا کسی دوسری معروف مسلمان شخصیت سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق قرآن کے مطالعے نے ان کی سوچ پر اثر ڈالا اور انہیں اسلام کی طرف متوجہ کیا۔شاید اسی لیے آج انتھونی منڈین سے بات کی جائے تو گفتگو صرف باکسنگ تک محدود نہیں رہتی۔ ان کی باتوں میں انسان، معاشرہ، نوجوان نسل، محروم طبقات اور خدمت کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔ وقت نے انہیں شاید یہ احساس دلایا ہے کہ شہرت کی اصل قدر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اسے دوسروں کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے۔انتھونی منڈین نے نوجوانوں کے لیے اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے بھی کام کیا ہے۔ ان کا مقصد خاص طور پر ان نوجوانوں کی مدد کرنا ہے جو مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مختلف پروگراموں میں نوجوانوں کو خود اعتمادی، ذہنی مضبوطی اور زندگی کے مسائل کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ وہ اپنی کامیابی کی داستان کو دوسروں کے لیے حوصلے کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔یہ تبدیلی انتہائی اہم ہے۔ ایک زمانے میں انتھونی رِنگ میں اپنے حریف کو شکست دینے کے لیے اترتے تھے، آج وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان اپنی محرومی، مایوسی اور مشکلات کو شکست دیں۔ پہلے ان کے ہاتھ میں دستانے ہوتے تھے، اب ان کے ہاتھ میں خدمت کا جذبہ ہے۔لیکن زندگی نے حال ہی میں اس چیمپئن کے سامنے ایک ایسا م چیلنج رکھا جس کے سامنے انسان بے بس ہے۔انتھونی کے والد ٹونی منڈین خود آسٹریلیا کے معروف اور کامیاب باکسر تھے۔ انہوں نے چار مختلف وزن کیٹیگریز میں آسٹریلوی اعزازات حاصل کیے اور ۱۹۷۴ میں عالمی چیمپئن کارلوس مونزون کے خلاف عالمی اعزاز کے لیے مقابلہ کیا۔ وہ صرف باکسر نہیں تھے بلکہ اپنی مقامی برادری کے لیے بھی ایک اہم شخصیت سمجھے جاتے تھے۔۳۰ اگست ۲۰۲۶ کو پچھتر برس کی عمر میں ٹونی منڈین انتقال کر گئے۔ بیٹے کے لیے یہ یقیناً زندگی کے مشکل ترین لمحات میں سے ایک تھا۔ انتھونی نے اپنے والد کی وفات پر ایک مختصر مگر انتہائی جذباتی پیغام لکھا "ڈیڈ، میں آپ سے محبت کرتا ہوں، اللہ آپ کی روح پر رحمت فرمائے"۔چند الفاظ، مگر ان میں محبت بھی تھی، جدائی کا دکھ بھی اور دعا بھی۔ بعض حلقوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹونی منڈین نے زندگی کے آخری عرصے میں اسلام قبول کیا تھا، تاہم اس دعوے کی آزاد اور معتبر تصدیق دستیاب نہیں ہو سکی۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ والد کی وفات کے موقع پر انتھونی نے اپنے والد کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کی۔ ان سے ملاقات کے دوران ان کی گفتگو سن کر مجھے محسوس ہوا کہ زندگی نے انہیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے کھیل کے میدان میں کامیابی حاصل کی، شہرت دیکھی، دولت کمائی، عالمی اعزازات حاصل کیے، اب اپنی زندگی کے تجربات کو انسانوں کے کام لانے کی کوشش کر رہا ہے۔شاید عمر اور تجربہ انسان کو یہی سکھاتے ہیں کہ اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ آپ نے کتنے مقابلے جیتے، کتنے اعزازات حاصل کیے یا کتنے لوگوں نے آپ کو پہچانا۔ اصل سوال یہ ہے کہ آپ نے کتنے لوگوں کی زندگی میں آسانی پیدا کی، کتنے نوجوانوں کو امید دی اور اپنے پیچھے کیا چھوڑا۔انتھونی منڈین نے باکسنگ کے رِنگ میں کئی مقابلے جیتے اور عالمی چیمپئن بنے۔ لیکن زندگی اب انہیں ایک نئے رِنگ میں لے آئی ہے۔ یہاں کوئی گھنٹی نہیں بجتی، کوئی ریفری نہیں ہوتا اور کسی کے ہاتھ میں عالمی بیلٹ نہیں آتی۔ یہاں مقابلہ انسان کی اپنی ذات، نفس اور قلب و رُوح سے ہے۔اور شاید یہی انتھونی منڈین کی زندگی کا سب سے خوبصورت سفر ہے۔
|