وسطی ایشیا میں اِن ڈرائیو کے صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ، پاکستانی صارفین کی پرائیویسی پر بھی سوالات

وسطی ایشیا میں اِن ڈرائیو کے صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ، پاکستانی صارفین کی پرائیویسی پر بھی سوالات

اسلام آباد: قازقستان اور ازبکستان میں صارفین کی ذاتی معلومات مبینہ طور پر لیک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں معروف آن لائن ٹیکسی سروس اِن ڈرائیو (inDrive) سمیت کئی دیگر کمپنیوں کا ڈیٹا شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان اطلاعات کے بعد پاکستان میں بھی اِن ڈرائیو استعمال کرنے والے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

قازقستان کے خبر رساں ادارے Liter.kz کے مطابق ٹیلی گرام چینل Egov.Press نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اِن ڈرائیو، سنیما چین کینوپارک (Kinopark) اور لوسیم میڈیکل کلینک (Lucem Medical Clinic) کے صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

دوسری جانب ازبکستان سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اِن ڈرائیو کے علاوہ SafeRoad، Delever، Lada Auto، KiwiTaxi، Fargo، Maktab.uz اور دیگر آن لائن سروسز کے صارفین کا ڈیٹا بھی انٹرنیٹ پر گردش کر رہا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر لیک ہونے والی معلومات میں صارفین کے نام، تاریخ پیدائش، موبائل فون نمبرز، ای میل ایڈریسز اور مختلف خدمات پر خرچ کی گئی رقوم کی تفصیلات شامل ہو سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ سنیما کی بکنگ اور طبی معائنے سے متعلق معلومات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس سے صارفین کی نجی اور حساس معلومات کے تحفظ کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

قازقستان کے خبر رساں ادارے Liter.kz نے ان اطلاعات کے بعد ملک کی وزارت داخلہ سے رابطہ کرکے مبینہ ڈیٹا لیک کی تصدیق اور اس معاملے کی قانونی حیثیت کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں۔

پاکستانی صارفین کے لیے کیا خطرہ ہے؟

چونکہ اِن ڈرائیو پاکستان میں بھی استعمال ہونے والی ایک مقبول آن لائن ٹیکسی سروس ہے، اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ آیا مبینہ ڈیٹا لیک صرف قازقستان اور ازبکستان تک محدود ہے یا پاکستانی صارفین کی معلومات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

تاہم اب تک سامنے آنے والی رپورٹس میں پاکستانی صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ مبینہ طور پر متاثر ہونے والے ڈیٹا میں پاکستانی اکاؤنٹس کی معلومات شامل ہیں یا نہیں۔

واضح رہے کہ ڈیٹا لیک ہونے کے یہ دعوے تاحال غیر مصدقہ ہیں اور دستیاب رپورٹس میں کسی متعلقہ سرکاری ادارے کی جانب سے اس واقعے کی باضابطہ تصدیق بھی سامنے نہیں آئی۔

 

Sania
About the Author: Sania Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.