دوربین اور اے آئی کا امتزاج

دوربین اور اے آئی کا امتزاج
تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ

آسمان کو دیکھنے کے لیے دوربین صدیوں سے انسان کی سب سے اہم سائنسی آنکھ رہی ہے، لیکن اب یہ آنکھ صرف انسان کے ہاتھ میں نہیں رہی۔ اے آئی، لارج ماڈل اور اے آئی ایجنٹس کی تیز رفتار ترقی نے فلکیاتی تحقیق کو ایک ایسے مرحلے میں پہنچا دیا ہے جہاں مشینیں نہ صرف جمع ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کر سکتی ہیں بلکہ دوربین کے مشاہداتی عمل میں بھی حصہ لینے لگی ہیں۔

چین میں تیار کی جانے والی اسٹار وِسپر ٹیلی اسکوپ اسی نئی سمت کی ایک مثال ہے۔ اسے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی اے آئی انڈیکس رپورٹ 2026 میں طبیعیات، فلکیات، کیمیا اور مٹیریل سائنس میں اے آئی ایجنٹس کے نمایاں استعمال کی مثالوں میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت فلکیاتی مشاہدات میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے کردار کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

اس نظام میں لارج ماڈل اور اے آئی ایجنٹس کو دوربین کے کنٹرول نظام کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ محققین کی سائنسی ضروریات، مشاہدے کے مقاصد، آلات کی حالت اور موسمی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اے آئی ایجنٹس مشاہداتی کاموں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد میں مدد دے سکتے ہیں۔

یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ جدید دوربینیں انتہائی پیچیدہ سائنسی آلات ہیں۔ ان کے کام میں آپٹیکل نظام، کیمرے، سینسرز، کنٹرول آلات اور موسمی حالات سب ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ کسی مخصوص فلکیاتی ہدف کا مشاہدہ کرنے کے لیے صرف اسے تلاش کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ دوربین کس حالت میں ہے، موسم کیسا ہے اور ہدف کس وقت مشاہدے کے لیے موزوں مقام پر موجود ہوگا۔

اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے چین میں فلکیات کے لیے اے آئی کے استعمال پر تحقیق کو وسعت دی جا رہی ہے۔ مقصد صرف فلکیاتی ڈیٹا کا تجزیہ کرنا نہیں بلکہ سائنسی تحقیق کے پورے عمل میں اے آئی کو ایک معاون نظام کے طور پر شامل کرنا ہے۔ اس میں ڈیٹا پراسیسنگ، سائنسی دریافت، دوربین کا کنٹرول اور مختلف مشاہداتی آلات کے درمیان تعاون شامل ہے۔

اس سلسلے میں ایک اہم قدم دوربین کا ڈیجیٹل مصنوعی ماحول تیار کرنا ہے۔ اس نظام میں حقیقی دوربین کے مختلف حصوں، سینسرز، آلات کی حالت، ماحولیاتی تبدیلیوں اور مشاہداتی عمل کو ڈیجیٹل انداز میں نقل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ اے آئی ایجنٹس کو حقیقی دوربین کا وقت ضائع کیے بغیر مختلف حالات میں آزمایا جا سکتا ہے۔

اس ماحول میں اے آئی ایجنٹس مشاہدے کی منصوبہ بندی، کنٹرول حکمت عملی کی جانچ اور مختلف ممکنہ حالات میں اپنے فیصلوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس طرح حقیقی سائنسی مشاہدات سے پہلے نظام کی کارکردگی جانچنے اور ممکنہ غلطیوں کو کم کرنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

تحقیق کا اگلا مرحلہ سائنسی ماڈلز، ماحولیاتی معلومات، دوربین کے کنٹرول نظام اور اے آئی ایجنٹس کو ایک ہی مربوط نظام میں لانا ہے۔ اس طرح اے آئی ایجنٹ مختلف آلات کی صورتحال کو مسلسل سمجھ سکتا ہے، متعلقہ وسائل استعمال کر سکتا ہے اور مشاہدے کے لیے دستیاب مواقع کے مطابق اپنے کام کو ترتیب دے سکتا ہے۔
یہ عمل ایک طرح سے خودکار سائنسی سلسلہ تشکیل دیتا ہے۔ اے آئی پہلے موجودہ صورتحال کو سمجھتی ہے، پھر سائنسی ترجیحات اور ہدف کی دستیابی کو دیکھتے ہوئے منصوبہ بناتی ہے، اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے متعلقہ آلات استعمال کرتی ہے اور آخر میں نتائج کی بنیاد پر اگلا قدم طے کرتی ہے۔

ایسی صلاحیت خاص طور پر ان فلکیاتی واقعات کے مشاہدے میں اہم ہو سکتی ہے جو مختصر وقت کے لیے نمایاں ہوتے ہیں۔ اگر کسی اہم ہدف کی نشاندہی ہو جائے تو اسے دوبارہ دیکھنے کے لیے مناسب وقت محدود ہو سکتا ہے۔ ایسے میں خودکار نظام فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لے کر مشاہدے کی تیاری میں مدد دے سکتا ہے۔یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ اے آئی اب صرف سائنسی معلومات کو سمجھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ نئی دریافتوں کی تلاش میں فعال معاون بھی بن سکتی ہے۔

فلکیات میں اے آئی کا یہ بڑھتا ہوا استعمال سائنس کے وسیع تر مستقبل کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ جیسے جیسے لارج ماڈل اور اے آئی ایجنٹس زیادہ پیچیدہ فیصلے کرنے کے قابل ہوں گے، سائنسی آلات کے ساتھ ان کا تعلق بھی گہرا ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں ممکن ہے کہ محققین صرف مشاہدے کی سمت متعین کریں جبکہ نظام خود مناسب وقت، آلات اور طریقہ کار کا انتخاب کرنے میں زیادہ فعال کردار ادا کرے۔

یہ تبدیلی انسانی سائنس دان کے کردار کو ختم کرنے کے بجائے اسے ایک نئی سطح پر لے جا سکتی ہے۔ پیچیدہ اور بار بار ہونے والے تکنیکی کام اے آئی کے سپرد ہونے سے محققین اپنی توجہ سائنسی سوالات، نتائج کی تشریح اور نئی دریافتوں پر زیادہ مرکوز کر سکتے ہیں۔

یوں دوربین اور اے آئی کا امتزاج محض ایک تکنیکی تجربہ نہیں بلکہ سائنسی تحقیق کے بدلتے ہوئے انداز کی ایک جھلک ہے۔ آسمان وہی ہے، ستارے وہی ہیں، مگر انہیں دیکھنے کا طریقہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ چین میں جاری یہ کوشش اس نئے دور کی جانب اشارہ کرتی ہے جہاں انسان اور اے آئی مل کر کائنات کے ان رازوں کی تلاش کر سکتے ہیں جو ابھی تک ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1998 Articles with 1183531 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More