تنخواہوں کے لیے عدالت کا دروازہ: صحافیوں کے حقوق کا محافظ نظام کہاں ہے؟
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پشاور ہائی کورٹ کے ریمارکس نے خیبر پختونخوا کے میڈیا ورکرز کی ایک ایسی حقیقت سامنے رکھ دی ہے جس پر برسوں سے پردہ پڑا ہوا ہے: دوسروں کے حقوق کی خبر دینے والے خود اپنے بنیادی حقوق کے لیے عدالتوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔صحافت کو جمہوریت کا اہم ستون کہا جاتا ہے۔ صحافی حکومتی پالیسیوں، اداروں کی کارکردگی، کرپشن، انسانی حقوق اور عام شہریوں کے مسائل پر سوال اٹھاتے ہیں۔ لیکن جب یہی سوال صحافیوں کی اپنی تنخواہوں، بقایاجات، کم از کم اجرت اور ملازمت کے تحفظ تک پہنچتا ہے تو معاملہ اکثر خاموشی، تاخیر اور وعدوں کی نذر ہوجاتا ہے۔پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت معاملے نے اسی تضاد کو نمایاں کردیا ہے۔
عدالت عالیہ پشاور نے اخباری مالکان کی جانب سے صحافیوں اور دیگر میڈیا ملازمین کے بقایاجات ادا نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا کو ہدایت کی کہ مالکان کی جانب سے جمع کرائے گئے ملازمین کی تعداد، تنخواہوں اور بقایاجات کے اعداد و شمار کی مکمل جانچ پڑتال اور کراس چیک کیا جائے۔یہ ہدایت محض ایک انتظامی کارروائی نہیں۔ اس کے پیچھے ایک بنیادی سوال موجود ہے: اگر اخباری ادارے اپنے ملازمین کا درست ڈیٹا، ان کی تنخواہیں اور واجبات واضح طور پر ظاہر نہیں کر سکتے تو پھر میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ کا نظام کس بنیاد پر کام کر رہا ہے؟
سماعت کے دوران عدالت کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ بعض صحافیوں کو تین ماہ کے بقایاجات کی مد میں مجموعی طور پر صرف 45 ہزار روپے بھی ادا نہیں کیے جا رہے۔یہ اعداد و شمار صرف ایک مالی تنازع نہیں بلکہ صحافتی شعبے میں اجرت اور روزگار کے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک طرف صحافی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ میدان میں جائے، خبر کی تصدیق کرے، خطرات مول لے، سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سے سوال کرے اور عوام کو معلومات فراہم کرے۔ دوسری طرف اگر اسی صحافی کو کئی ماہ کی تنخواہ نہ ملے یا اس کی اجرت حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت سے بھی کم ہو تو اس کے پیشہ ورانہ اور معاشی تحفظ کا سوال لازماً پیدا ہوتا ہے۔
یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ واجبات کب ادا ہوں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اتنے عرصے تک واجبات جمع ہی کیوں ہوتے رہے؟ محکمہ اطلاعات کا کردار بھی سوال کے دائرے میں عدالت نے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کو مالکان کی جانب سے جمع کرائے گئے ڈیٹا کی جانچ پڑتال اور کراس چیک کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ حکم ایک اہم ادارہ جاتی سوال بھی پیدا کرتا ہے۔
اگر اخبارات کو سرکاری اشتہارات، سرکاری نرخوں اور دیگر سرکاری نظام کے تحت کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو کیا متعلقہ حکام کے پاس یہ جانچنے کا مؤثر طریقہ موجود ہے کہ ان اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو واقعی تنخواہیں مل رہی ہیں؟ کیا جمع کرائے گئے ملازمین کے نام، تعداد، تنخواہیں اور بقایاجات آزادانہ طور پر تصدیق کیے جاتے ہیں؟اور اگر تصدیق ہوتی ہے تو پھر عدالت کو دوبارہ کراس چیک کا حکم کیوں دینا پڑ رہا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب صرف اخباری مالکان ہی نہیں بلکہ متعلقہ سرکاری اداروں کو بھی دینے ہوں گے۔
صحافی صرف نام نہیں، کارکن بھی ہیں میڈیا میں کام کرنے والے صحافی، فوٹوگرافر، کیمرہ مین، ڈیزائنر، کمپوزر اور دیگر ملازمین اکثر اس تصور کے پیچھے چھپ جاتے ہیں کہ صحافت ایک مشن ہے۔ صحافت یقیناً عوامی مفاد سے جڑا پیشہ ہے، لیکن مشن کا مطلب یہ نہیں کہ کارکن کو اس کی اجرت سے محروم کردیا جائے۔ صحافی بھی اپنے خاندان کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، گھر کا کرایہ، بجلی کے بل اور دیگر ضروریات پوری کرتا ہے۔ تنخواہ میں تاخیر محض ایک دفتری مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پورے خاندان کو متاثر کرتی ہے۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس نے عدالت کو بھی یہی مسائل بتائے ہیں، جن میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی، بقایاجات، کم اجرت، ملازمت کا تحفظ اور جاب سکیورٹی شامل ہیں۔
صحافی جب اپنے ہی ادارے کے خلاف تنخواہ یا ملازمت کے تحفظ کا مسئلہ اٹھاتا ہے تو اس کے سامنے ایک مشکل انتخاب ہوتا ہے۔ وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے اور ممکنہ طور پر ملازمت کھونے کا خطرہ مول لے، یا خاموش رہے اور کئی ماہ تک تنخواہ کے بغیر کام کرتا رہے۔ یہ صورتحال صحافت کے معیار کو بھی متاثر کرسکتی ہے، کیونکہ معاشی طور پر غیر محفوظ صحافی دارتی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہوسکتا ہے۔اس لیے میڈیا ورکر کی تنخواہ کا مسئلہ صرف مزدوری کا مسئلہ نہیں۔ یہ آزاد صحافت، ادارتی خودمختاری اور عوام کے حقِ معلومات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
اب اصل امتحان 5 اکتوبر کا ہے پشاور ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 5 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے مکمل ڈیٹا پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ آئندہ سماعت پر کتنے اخباری ادارے اپنے ملازمین کا مکمل ریکارڈ پیش کرتے ہیں، کتنے ملازمین کا ڈیٹا تصدیق شدہ نکلتا ہے، کتنی تنخواہیں واقعی ادا کی جا رہی ہیں اور کتنے واجبات ابھی باقی ہیں۔ اس سے بھی اہم سوال یہ ہوگا کہ اگر کسی ادارے کا جمع کرایا گیا ڈیٹا غلط، نامکمل یا زمینی حقیقت سے مختلف نکلتا ہے تو اس کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے؟
کیونکہ اعداد و شمار جمع کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ اصل امتحان ان اعداد و شمار کی تصدیق اور پھر واجبات کی عملی ادائیگی ہے۔ صحافیوں کے حقوق کے معاملے میں اب مزید بیانات، یقین دہانیاں اور کاغذی کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک واضح، قابلِ تصدیق اور شفاف نظام سامنے آئے جس میں ہر میڈیا ورکر کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ کہاں کام کرتا ہے، اس کی مقررہ تنخواہ کتنی ہے، اسے کتنی تنخواہ مل رہی ہے، کتنے واجبات باقی ہیں اور اس کی ملازمت کا قانونی و عملی تحفظ کیا ہے۔ کیونکہ جو نظام صحافیوں سے شفافیت کا مطالبہ کرتا ہے، اسے صحافیوں کے حقوق کے معاملے میں بھی اتنا ہی شفاف ہونا چاہیے۔
#JournalistsRights #MediaWorkers #PeshawarHighCourt #KhyberPakhtunkhwa #Journalism #PressFreedom #MediaFreedom #MinimumWage #WageJustice #Journalists #MediaRights #Pakistan
|